Published on: 13 Jan 2018
موجودہ واقعات اس بات کی عکاسی کر رہے ہیں کہ ملک بارود کے ڈھیر پر کھڑا ہوا ہےاورابھی پھٹ پڑےگا۔ ایسا کیوں ہے؟ وجہ یہ ہےکہ لوگ تنگ آچکے ہیں، ناامید ہوچکے ہیں۔ فضاء بس ایک چنگاری کی منتظر ہے بھڑکنے کے لیے؟اس کے بعد کچھ بھی ہوسکتا ہے، کیونکہ جب آگ لگتی ہے تو کسی سے کچھ پوچھ کر نہیں جلاتی؟ یہ ہی پیغام بلوچستان سے بھی ملا کہ وہاں نہ نوٹوں سے بھرے بڑےبڑے بریف کیس کام آئے، نہ کوئی اور چیز کام آئی اور حکمرانوں کو اپنے ہی پتے ہوا دے گئے؟ آخر یہ کیا ہے اس کاجواب ہے “ مایوسی مایوسی اور مایوسی“ ادارے ناکام ہو چکے ہیں۔ لوگ ڈاکووں سے خود نپٹ رہے ہیں جب انہیں خود ہی ہر کام کرنا ہے تو شہری صوبائی حکومتوں کی کیا ضرورت ہے وہ ٹیکس کیوں ادا کریں؟ جبکہ حکمراں یہاں تک بے باک ہوگئے ہیں کہ وہ دبے لفظوں یہ تک کہہ رہے ہیں کہ ہمیں لوٹنے کھانے نہ دیا گیا،تو ہم بغاوت پر مجبور ہوجائیں گے ۔ اور مثال دے رہے ہیں؟ مجیب الرحمان کی کہ“ وہ بھی ہماری طرح معصوم تھا“ مگر اس کو باغی بنا دیا گیا؟ وہ یہ کہتے ہوءے بھول جاتے ہیں پاکستان عطا ئے خاص ہے اللہ سبحانہ تعالیٰ کی طرف سے؟ جس نے بھی اسے تباہ کر نے کوشش کی اس کا انجام برا ہوا۔کیا وہ ا س انجام کے لیے تیار ہیں۔ جو بعد میں مجیب کا ہوا؟ لوگوں کو تھوڑی سی ابھی تک عدلیہ ، فوج اور میڈیا سے امید باقی ہے۔ اس وقت سےڈریں کہ عوام با لکل ہی نا امید ہو جا ئیں اور وہ بلھے شاہ کے پر امن شہر قصور کی طرح ڈنڈے ہر جگہ ہاتھ میں اٹھا لیں۔ یہ ذاتی وفاداریاں کب تک کام دینگی ؟حکمرانوں کو کب تک بچا ئیں گی۔ اب معلوم ہو تا ہے کہ وہ صورت حال بھی باقی نہیں رہی جو کچھ پہلے تک تھی کہ پولیس اور انتطامیہ ہر ہونے والی واردات سے پہلے سے واقف ہو تی تھی ۔اور جب ضرورت پڑتی تھی پلک جھپکتے میں، ملزم پکڑ لیاجاتا تھا اس لیے کہ ملزم کویقین ہو تا تھا کہ وہ محفوظ ہے کیونکہ اپنے ہی آدمیوں کے ہاتھ میں ہے۔ بس چنددن ہی رہنا پڑیگا کہ“ عوام کا پارہ ٹھنڈا ہو جائے، پھر وہی ٹھاٹ ہونگے؟
مگر اب ایسا معلوم ہو تا ہے کہ یہ اجنبی لوگ ہیں جنہیں پولس اورانتظامیہ بھی نہیں جانتی؟ جبھی تو پولس مسلسل ملزم پیش کر نے میں ہر جگہ ناکام ہو رہی ہے۔کبھی کراچی میں چھری برداروں کا گروہ متحرک ہوجاتا ہے۔ پھر خبر آتی ہے کہ وہ پولس مقابلہ میں مارا گیا جو بیچارہ مارا جاتا ہے وہ بھی بے گناہ ہوتا ہے؟کیونکہ تھوڑے دنوں کے بعد پھر واردات کرکے وہ اپنی موجودگی کا احساس دلا دیتا ہے ۔
ان کی بھی اپنی مجبوریاں ہیں کہ ایک طرف تو خیالی جنت ہے کہ برائی پھیلانا نیک کام ہے؟دوسرے وہ لوگ پیسے بھی اچھے دتے ہیں۔ جس کے بغیر پاکستان میں کوئی کام نہیں ہوتا؟ کتنا ہی قابل آدمی کیوں نہ ہو اسے استحقاق کی بنا پر ملازمت نہیں مل سکتی، جو ملازمتیں نکلتی ہیں اس میں سب کا حصہ ہوتا ہے اگر کوئی ایک کسی کو ترس کھاکر بغیر مال لیے دیدے تو بھرےگا کون ؟ لہذا ایسی غلطی کوئی نہیں کرتا؟جہاں پانی تک بکتا ہو وہاں اور کیا کچھ نہیں ہوگا۔
ادھر انسانی طوطے ہیں، کہ وہ اپنے آقا کی رٹ دہرائے جارہے ہیں کہ پناما کی وجہ سے ملک کی ترقی کو نقصان پہونچا؟ ا گر وہ طوطے نہ ہوتے ،انساان ہوتے تو انہیں یوں کہنا چاہیے تھا کہ“ اگر ہمارے آقاغلط کاموں میں ملوث نہ ہوتے تو نہ ان کا پنامامیں نام آتا اور نہ ہی پاکستان کی ساکھ متاثر ہوتی۔ اور اگر نام آہی گیا تھا تو انہیں بھی وہی کرنا چاہیے تھا جو کہ ایک جمہوری قوم کے وزیر اعظم نےاسی پناما کے سلسلہ میں کرکے دکھایا؟
اصل میں وجہ یہ ہے کہ“ شیر کے منہ کو خون لگ گیا ہے“ نئی نسل کو شاید معلوم نہ ہو کہ یہ محاورہ جب بولا جاتا تھا جب پاکستان میں جنگلات ہوا کرتے تھے، تب ان میں شیر تو نہیں ،البتہ چیتے ہوا کرتے تھے ہم انہیں بڑھا کر کہ شیر کہہ لیتے تھے جب وہ بوڑھا ہوجاتا تھا تو وہ مجبور ہوکر جانوروں کے شکار سے مایوس ہونے کے بعدا نسان کو شکار کرنے لگتا تھا۔ اسی سے کہاوت بنی کہ ایک مرتبہ کسی درندے کوانسان کے خون کی چاٹ لگ جائے تو اسے انسان کا گوشت اتنااچھا لگتا ہےکہ وہ آدمخور ہوجاتا تھا؟ اس کا پھر علاج یہ تھا کہ ضلع کاڈُپٹی کمشنر آدمخور کے شکاری کو تلاش کرتا تھا۔ جو کہ اپنی جان جوکھن میں ڈال کر اور اسے گولی مارکر لوگوں کی جانیں بچاتا تھا۔ اور اس طرح یہ مسئلہ حل ہو جاتا تھا۔اب یہ عالم ہے کہ نہ جنگل ہیں اس لیے کہ انہیں رشوت خور کھاگئے پھر “شیر“ کہاں رہتے وہ بھی ختم ہوگئے۔ جیسے کہ رجواڑوں اور ریاستوں کے خاتمے کے بعد شاہی سواری یعنی ہاتھی؟ البتہ لوگوں کو“ شیر “کہلانا ااچھا لگتا ہے، اور یہ رواج پہلے سے چلا آرہا تھا کہ کوئی بہادری دکھائے تو اسی کارنامے کی بنا پر اسے “شیر“ کا لقلب عوام دید یتے تھے، جیسے کہ شیربنگال مولانا فضل الحق“ (مرحوم) یا پنجاب کے سکھ مہارا راجہ“ رنجیت سنگھ۔“ بعد میں دھرتی نے بہادر پید ا کرنا ہی چھوڑ دیے تو لقب دینے کا رواج بھی ختم ہوگیا۔ اب خود ہی کچھ بننا پڑتا ہے جو کوئی جوکچھ بنا چاہے۔ ہوا یہ کہ الیکشن کمیشن نے بہت سے نشانوں ساتھ“ شیر“ کو بھی سیاسی پارٹی کے انتخابی نشانوں میں شامل کر کے لوگوں کو موقع دیا کہ ا نہوں نے جس میدان میں بھی کوئی تیر مارا ہو تو وہ اس کی مناسبت سے نشان لے لیں۔ جیسے عمران خان کا “بلا“ کہ وہ کرکٹ کے کھلاڑی تھے اور نشان انہوں نےا سی مناسبت سے رکھا تو ان پر سج گیا، کہ پارٹی اراکین بھی کھیلاڑی کہلانے لگے ۔ خد ا ہی جانے موجودہ حکمرانوں نے اس درندے سے خود کو کیوں تشبیہ دی یہ وہی بتا سکتے ہیں؟ چونکہ بزرگ کہتے ہیں کہ اچھے نام رکھا کرو؟ اس کا شخصیت پر اثر پڑتا ہے۔ حکمرانوں نے اپنا نشان شیر رکھا، جبکہ اس کو چاپلوسوں نے ہوا دی تو وہ مجبورہوئے کہ “ شیر “ پراپنا استحقاق بھی ثابت کریں۔ لہذا انہوں نے انسانوں کو بجا ئے سمجھانے بجھانے ،معاملات سلجھانے کہ گولی مارنے کا حکم دیدیا۔ اور اس طرح وہ کم از کم اس محاورے کے ضرور مستحق بن گئے کہ لوگ کہہ سکیں کہ “ شیر کے منہ کوخون لگ گیا ہےِ“ اب انہیں کوئی طعنہ نہیں دے سکتا کہ یہ نشان کیوں ا ختیار کیا؟
مگر ان واقعات سے ہمیں من حیثیت القوم یہ سوچنا چاہیے کہ ہم پستی کی کونسی منزل میں ہیں ۔ پورے ملک کی یہ ہی حالت ہے۔ اس سے پہلے ایک گروہ یہیں سے پکڑا گیا جس نے 180
بچوں کی ویڈیو بنا ئی تھی؟ میڈیا نے شور مچا یا تو پندرہ ادمی پکڑے عدالت سے صرف ایک کو سزا ہوئی؟ باقی شرف ِ مہمانی سے لطف اندوز ہورہے ہیں ۔ اس مجرم کو بھی ہر مہنے ایک بچی چا ہیئے ہوتی تھی اور یہ بارہویں تھی۔ حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگی ؟ ہر جرم کے پیچھے ا یک ہی مسئلہ ہے کہ “دولت اکھٹا ہو کر چند خاندانوں کے پاس جمع ہو رہی ہے وہ اس پروہ سانپ بنے ہوئے بیٹھے ہیں “ اسی وجہ سےلڑکوں کی شادیاں نہیں ہو رہی ہیں لڑکیوں کی شادیا ں نہیں ہو رہی ہیں ۔ کاروبار پر لوگوں کی اجارہ داری ، ملازمتں بکتی ہیں ۔ تو کس طرح کوئی زندہ رہے ۔ اگر ہم نے اپنے حکمرانوں کے انتخاب کا معیار یہ ہی رکھا کہ ہمیں اس سے کیا فائدہ ہے یا بندہ اپنا ہے ۔ تو پھر مزید خرابیوں کے تیار رہیے ورنہ حل ڈھونڈیئے۔ اورحل مدینہ والے (ص) کی کملی میں پناہ لینے میں۔ اللہ ہم سب کو ہدایت دے آمین












