پاکستان میں بچوں کے ساتھ جنسی تشدد میں اضافہ ۔آفتاب احمد

0
328

ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں

عدل کو اب صاحبِ اولاد ہونا چاہیے

کیونکہ جو جرم کرتے ہیں اتنے برے نہیں ہوتے

سزا نہ دیکر عدالت بگاڑ دیتی ہے

پاکستان میں بچوں کے ساتھ جنسی تشدد میں اضافہ
بچوں پر جنسی تشدد کی روک تھام کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم کے مطابق یکم جنوری سے 31 دسمبر 2015 تک ملک بھر میں بچوں پر جنسی تشدد کے کل 3768 واقعات ر یکارڈ کیے گئے اور ان بچو ں کی عمریں 11 سے 15 سال کے درمیان تھیں

یکم جنوری سے 31 دسمبر 2015 تک ملک بھر میں بچوں پر جنسی تشدد کے کل 3768 واقعات ر یکارڈ کیے گئے اور ان بچو ں کی عمریں 11 سے 15 سال کے درمیان تھیں۔ان کے بقول روزانہ تقریباً 10 بچے کہیں نہ کہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنتے ہیں اور یہ شرح سال 2014 کے مقابلے میں زیادہ ہے جب کہ جنسی تشدد کا نشانہ بنانے والوں میں قابل ذکر تعداد ان لوگوں کی تھی جو متاثرہ بچوں سے واقفیت رکھتے تھے۔

’’زیادتی کے واقعات چاروں صوبوں، آزاد کشمیر و گلگت بلتستان، وفاقی دارالحکومت اسلام اباد سے ریکارڈ کیے گئے جس میں پنجاب میں 2616، سندھ 638، بلوچستان 207، اسلام آباد میں 167، خیبر پختونخوا میں 113، گلگت بلتستان اور فاٹا سے تین، تین کیسز ریکارڈ ہوئے، بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کرنے والوں میں زیادہ تعداد 1943 ان افراد کی ہے جو بچوں سے واقفیت رکھتے ہیں۔‘‘

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ‘ کی تحقیق سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ کچھ عرصہ کے دوران بچوں کو جنسی طورپر ہراساں کئے جانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ 2015ء کے ابتدائی چھ ماہ کی نسبت 2016ء کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران ایسے واقعات کے تناسب میں 36فی صد اضافہ ہوا۔

سنجیدہ حلقوں نے کہا ہے کہ حکومت کو چائیے کہ گھروں میں بطور ملازم کام کرنے والے بچوں کے حوالے سے متعلقہ بل کو منظور کروا کر اس پر عمل درآمد کرائے جبکہ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل کو صوبائی اور قومی سطح پر نافذ کیا جائے۔ بچوں کے تحفظ کے حوالے سے معلومات کو نصاب میں شامل کیا جانا چاہئے۔
پاکستان میں بچوں پر تشدد ایک پیچیدہ معاملہ ہے جہاں سماج میں جنسی موضوعات کو بڑے پیمانے پر زیربحث نہیں لایا جاتا۔ پاکستان کے تعلیمی نظام میں یہ گنجائش موجود نہیں ہے کہ بچوں پر جنسی تشدد کے معاملے کو زیرِبحث لایا جائے۔بچوں پر جنسی تشدد ہماری قوم کے مستقبل کے لیے تباہ کن ہے کیوں کہ بچے قوم کے معمار ہوتے ہیں اوروہ اب اس ملک میں غیر محفوظ ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ایسے واقعات سے متاثرہ فریق کا خاندان بھی سماجی و معاشی طورپر بدترین طور پہ متاثر ہوتا ہے۔

پریشان کن اعداد و شمار‘‘ کے مطابق گینگ ریپ کے واقعات میں 17فی صد ، ریپ کی کوششوں میں 61اور جنسی تشدد کے واقعات میں 46فی صد تک اضافہ ہوا ہے، 2015ء کے ابتدائی چھ ماہ کی نسبت تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ریپ کے واقعات میں 20فی صد اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس نوعیت کے سب سے زیادہ واقعات پنجاب میں ہوئے، اس فہرست میں سندھ کا نمبردوسرا ہے جہاں یہ تناسب 24فی صد ہے۔ سندھ اور خیبرپختونخوا میں 2015ء میں جنوری سے جون تک ہونے والے واقعات کے تناسب میں تازہ ترین اعداد وشمار کے مطابق بالترتیب 77اور 66فی صد اضافہ ہوا ہے۔ تمام فریق یہ تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان میں بچوں پر جنسی تشدد کے واقعات میں سالانہ بنیادوں پر اضافہ ہورہا ہے کیوں کہ ذمہ داروں کے خلاف کوئی سخت کارروائی نہیں کی جارہی اور نہ ہی بچوں پر جنسی تشدد کی روک تھام کے لیے کوئی پالیسی تشکیل دی گئی ہے۔

پاکستان میں بچوں پر جنسی تشدد ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔ حکومت کوچاہئے کہ وہ بچوں کو جنسی تشدد سے محفوظ بنانے کے لیے ٹھوس نوعیت کے اقدامات کرے اور اس حوالے سے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کرے، وگرنہ بچوں پر جنسی تشدد کے واقعات میں اضافہ جاری رہے گا۔

تشدد کے صرف 10فی صد واقعات ہی سندھ اور پنجاب کے میڈیا میں رپورٹ ہورہے ہیں جب کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا نخوا میں رپورٹ ہونے والے واقعات کا تناسب اس سے کہیں کم ہے۔

بچوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والے ادارے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اگر بچوں کو ان کی عمر کے حساب سے ان کے حقوق کے بارے میں آگہی دی جائے، تو ان پر ہونے والے مختلف قسم کے ظلم و تشدد کو کم کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر معاشرہ بچوں کے حقوق کا خیال کرے اور ان کو جنسی تعلیم دے کر ان کو ان کے حقوق سے آگاہ کرے تو بچوں اور خواتین پر ہونے والے بڑھتے ہوئے جنسی تشدد میں کمی آسکتی ہے۔

اس وقت پاکستان میں کم سن لڑکوں اُور لڑکیوں پر جنسی تشدد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔سماج دشمن عناصر کی اس ’’جنسی سرکشی‘‘پر باشعور افراد تشویش میں مبتلا ہیں ۔ پاکستا ن میں بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے مطابق پاکستان میں روز بروز جنسی تشدد بڑھ رہا ہے ۔اور اس کے مقابلے میں حکومتی اقدامات نہ صرف نہ کافی ہیں، بلکہ نہ ہونے کے برابر ہیں ۔واضح رہے کہ پاکستان اُن چند ممالک میں شامل ہے ،جہاں حکومتیں بچوں پر جنسی تشدد کو‘ معاشرتی معمول ’سمجھ کر قبول کر رہی ہیں ۔ سماج دشمن عناصر کی وجہ سے پاکستان کے اخبارات میں روزانہ کمسن بچوں سے جبری جنسی تعامل کی خبریں چھپی ہوتی ہیں۔حکومتی زعماء اُس وقت تک اِس طرح کی خبروں کا ’’نوٹس‘‘نہیں لیتے جب تک ‘وکٹم’ اپنی زندگی گنوا نہ دے ۔ثقافتی تنزلی کا اِس سے بڑا اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ پاکستان میں ہر چھوٹی بڑی آبادی میں گلی محلوں کی بنیاد پر اُوباش لوگوں نے اپنے اپنے ‘ کریمنل گروپ’ بنائے ہوئے ہیں جوریاست کے ‘مقدس قانون’ کا انتہائی بے دری سے کھلواڑ کر تے رہتے ہیں ۔ان گروپوں کو سیاسی مافیا کی حمایت اور مدد حاصل ہوتی ہے ۔

پاکستان بھر میں خواتین پر تشدد اور جنسی زیادتی کے واقعات کی تعداد دن بدن بڑھتی چلی جا رہی ہے جس پر خواتین اور انسانی حقوق کی تنظیمیں تشویش کا اظہار کرتی رہتی ہیں۔تاہم پاکستان کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں ان واقعات کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے جو کہ تشویشناک ہے۔ سال 2017ء میں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کی تعداد میں سال 2016ء کے مقابلے میں 12٫5 فیصد اضافہ ہوا۔ گزشتہ برس خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے کل 2700 مقدمات رپورٹ ہوئے۔گزشتہ برس جنسی زیادتی کے جو کیسز عدالتوں میں چلے ان میں 2850 ملزمان کو گواہوں کے اپنے بیان سے منحرف ہونے کی وجہ سے باعزت بری کیا گیا۔ صوبہ پنجاب کی ماتحت عدالتوں میں خواتین اور بچیوں سے زیادتی کے 6600 مقدمات زیرِ التواء ہیں۔

افسوس کا مقام ہے کہ ان لوگوں کے پاکستانی قانون نافذ کر نے والے اداروں’ سے رابطے ہیں ،یہ لوگ جب بچوں کو اغوا کر تے ہیں یا ان پر جنسی تشدد کر تے ہیں تو ان کو کسی کا ڈر نہیں ہوتا ۔تھانے میں ملزمان کو ’’پروٹوکول‘‘ملتا ہے اور مدعی کی تذلیل کی جاتی ہے ۔بعض جگہ تو دونوں پارٹیوں کو سامنے بیٹھا کر باقاعدہ مدعی سے معافی منگوائی جاتی ہے ۔ اس وجہ سے بہت سے لو گ بچوں پر جنسی تشدد کی رپورٹ درج کروانے سے گریز کرتے ہیں ۔ ان لوگوں کے ساتھ پولیس کی ملی بھگت نے سماجی منظر نامے کو کو مزید وحشی بنادیا ہے ۔ اسی طرح بچوں کے اغواہ کا ‘کاروبار’ بھی اس وقت پورے زور سے چل رہا ہے ۔ بدقسمتی سے اغوا برائے تاوان اب ایک مستقل ،منافع بخش اور قابل عزت کاروبار بنتا جا رہا ہے ،اس گھناؤنے فعل کو معزز رتبہ دینے میں ہماری حکومتوں کا بھی ہاتھ ہے ۔سندھ،خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے علاوہ جنوبی پنجاپ اغواہ برائے تاوان کے بڑے بڑے مراکز ہیں ۔یہاں پر کالعدم جماعتیں، سماج دشمن مافیاز اُور کچھ مقامی اوباش قسم کے لوگ بچوں کو اغوا کر تے ہیں ۔اُور اِن پر جنسی تشدد بھی کر تے ہیں ۔اس حوالے سے بھی حکومتی اقدامات نہ ہو نے کہ برابر ہیں ۔

قصور کے ایک دیہی علاقے حسین خان والا میں ہونے والے واقعہ نے اصولآ پوری قوم کو ہلا کر رکھ دینا چاہیے تھا، جہاں 300 سے زائد بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی اور ان کی فحش وڈیوز بنا کر انٹرنیٹ پہ بیچی گئیں۔ مگر افسوس ناک بات یہ ہوئی کہ اس کے بعد بھی بچوں کے لیے حالات یہی ہیں۔ پاکستانی قانون کے مطابق انہیں صرف جنسی زیادتی کی سزا مل سکتی تھی جو کہ زیادہ سے زیادہ 7 سال قید ہے۔ اس کیس کو مدنظر رکھتے ہوئے 2016 میں نیا قانون بنایا گیا جس کے مطابق بچوں کو جنسی طور پہ ہراساں کرنا انہیں کسی بھی قسم کی فحش نگاری کے لیے استعمال کرنا یا انہیں عریانیت دکھانا جرم ہے جس کی سزا 7 سال قید اور 70 ہزار تک کا جرمانہ قرار دی گئی۔

اب سب سے اہم بات یہ ہے کہ بحیثیت معاشرہ ہم کیا کر سکتے ہیں۔ سب سے پہلی بات ہمیں یہ سمجھنی چاہیے کہ بچے کی زندگی اس واقعے سے خراب نہیں ہوتی بلکہ اس سے منسلک ہماری منفی سوچ بچے کو مسلسل احساسِ گناہ میں مبتلا کرتی ہے۔ اگر ہر شخص بچے کو احساس دلائے کہ غلطی مجرم کی ہے تو ہم بہت جلد بچے کو ذہنی صدمے سے نکال سکتے ہیں۔

دوسری بات بچوں کو اتنا اعتماد دیں کہ اگر کوئی شخص بچوں کو غلط طریقے سے استعمال کرنے کی کوشش کرے تو بچہ فورا اپنے بڑوں کو بلا جھجھک بتا سکے۔ بچہ یا بچی کسی بھی مرحلے پہ آپ کو مسئلہ بتا رہے ہیں تو انہیں سب سے پہلے یہ بات کہیں کہ آپ نے یہ سب بتا کر بہت بہادری کا کام کیا ہے اور اگر کوئی آپ کو تنگ کر رہا ہے تو وہ غلط ہے آپ نہیں ہم آپ کا مکمل ساتھ دیں گے۔

بچے جسمانی طور پہ کمزور ہیں اور آسان شکار ہیں مگر ہم انہیں جذباتی طور پہ زیادہ کمزور کر دیتے ہیں خود سے الگ کر کے اوران پہ اعتبارنہ کر کے۔ یاد رکھیں بچے جنسی نوعیت کی کہانی کبھی بھی جھوٹی نہیں بنا سکتے اگر آپ کا بچہ یا بچی کوئی فحش بات کرہا ہے تو یقیناً کوئی بڑا اسے یہ سب کچھ بتا رہا ہے۔ کسی غیر کے لیئے اپنے بچوں کا مستقبل داؤ پہ نہ لگائیں۔

پاکستان میں جس شرح سے بچوں کا استحصال ہورہا ہے اس شر ح میں کمی لانے اور ایسے گھناؤنے واقعات میں ملوث افراد کو سخت سے سخت سزائیں دینے کیلئے قوانین پر عملدرآمد کروایا جائے۔ بچوں کے تحفظ کے حوالے سے جو بل ابھی مختلف مراحل میں ہیں ان کوفوری قانونی شکل دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 25A کے تحت 5سے 16سال کی عمر کے بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرنا ریاست کی آئینی و قانونی ذمہ داری ہے مگر آئین کے اس آرٹیکل کی 4سال سے صوبائی حکومتیں خلاف ورزی کررہی ہیں، بچوں کو تعلیم سے محروم رکھنا بدترین استحصال ہے۔

پاکستانی معاشرہ اخلاقی طور پرانحطاط کا شکار ہے جس کے سبب معاشرے میں جرائم کی شرح بے پناہ بڑھ گئی ہے جن میں سرِفہرست بچوں کے ساتھ سرزد ہونے والے جنسی جرائم ہیں۔ قصور میں آٹھ سالہ زینب کی آبرو بریدہ نعش کچرے کے ڈھیر سے ملی جس سے نہ صرف قصور میں بلکہ پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی‘ قصور شہر میں عوام نے ہڑتال کی اور ننھی زینب کے جنازے میں شریک ہوئے‘ جبکہ سوشل میڈیا پر ملک بھر سے ملزمان کے خلاف سخت ترین کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

بتایا جارہا ہے کہ قصور شہر میں یہ اس نوعیت کا دسواں واقعہ ہے اور آج سے تین سال قبل بھی قصور کے ہی ایک واقعے کی گونج ساری دنیا میں سنی گئی تھی جب انکشاف ہوا کہ کچھ با اثرملزمان نے نہ صرف یہ کہ 286 بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی بلکہ انکی ویڈیو بنا کر طویل عرصے تک انہیں بلیک میل کرتے رہے۔

اس نوعیت کے سنگین جرائم کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ بچوں کو کچھ باتیں احتیاطی تدابیرکو طور پرسکھائی جائیں اور والدین خود بھی اپنےبچوں کی سرگرمیوں پر سخت نظر رکھیں چاہے وہ ابھی کمسن ہوں یا تازہ تازہ سنِ بلوغت کوپہنچے ہوں۔

ایک تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں روزانہ 11 بچے جنسی زیادتی کا شکار بنتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار پاکستان میں بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والےایک غیر سرکاری ادارے ‘ساحل’ نے جاری کیے ہیں۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 2016 کے دوران بچوں سے جنسی زیادتی اور تشدد کے واقعات میں دس فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ادارہ کہتا ہے کہ گذشتہ برس بچوں سے جنسی زیادتی سمیت اغوا، گمشدگی اور جبری شادیوں کے 4139 کیس رجسٹرڈ ہوئے اور یہ تعداد 2015 کے مقابلےمیں دس فیصد زیادہ ہے۔

گذشتہ برس بچوں کے خلاف کیے گئے جو بڑے جرائم رپورٹ ہوئے اُن میں اغوا کے 1455 کیس، ریپ کے 502 کیس، بچوں کے ساتھ بدفعلی کے 453 کیس، گینگ ریپ کے 271 کیس، اجتماعی زیادتی کے 268 کیس جبکہ زیادتی یا ریپ کی کوشش کے 362 کیس سامنے آئے۔

جنسی زیادتی کا شکار بچے جن کا بچپن چھین لیا گیا ان کے والدین کا کیا حال ہوگا، ذرا کوئی ان سے پوچھے کہ مجرمان کو کیا سزا دی جائے تو یقینا ان کا جواب ہوگا کہ بیچ چوراہے پر کھڑا کر کے پھانسی دی جائے، پتھر مارے جائیں، کوڑے برسائے جائیں، ہمارے ملک میں اسلامی آئین نافذ ہے جس میں اس قسم کے جرائم کی سزا موت ہے، لیکن ان درندوں کو موت کی سزا کیوں نہیں دی جاتی یہ سوال ایسا ہے جس کا جواب آج تک نہ مل سکا۔

پاکستان میں روزانہ بچوں سےبدفعلی کے اندازاََ 10 واقعات ہوتے ہیں، اس حوالے سے پنجاب پہلے نمبر اور صوبہ سندھ دوسرے نمبر پر ہے۔

کسی بھی مہذب ملک یا معاشرے میں اس طرح کی درندگی کا کوئی واقعہ رونما ہی نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ بچے ریاست والدین اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہیں جہاں والدین کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کی بہتر تعلیم و تربیت اور ان کا خیال رکھیں وہاں ریاست کی بھی یہ ذمہ داری ہے وہ ایسا محفوظ ماحول فراہم کرے جہاں ہر بچہ امن اور سکون کے ساتھ زندگی بسر کرسکے، جبکہ معاشرے کا فرض ہے کہ وہ ہر بچے کو اپنا بچہ سمجھتے ہوئے اس کے ساتھ مشفقانہ برتاو کرے۔ والدین کی انفرادی تعیلم و تربیت اس وقت اپنا اثر کھو بیٹھتی ہے جب بچہ باہر نکلتا ہے تو اسے محفوظ ماحول نہیں ملتا۔ پاکستان میں بچوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعات نہ صرف لمحہ فکریہ ہیں بلکہ حکومت اور معاشرے کو یہ سوچنے پر بھی مجبور کرتے ہیں کہ پاکستان کے مستقبل کو درندہ صفت حیوانوں سے کیسے بچایا جائے؟

تحریر ۔۔۔آفتاب احمد
کراچی پاکستان

SHARE

LEAVE A REPLY