لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس منصور علی شاہ نے زینب کے قاتل کو گرفتار نہ کرنے پر آئی جی پنجاب کو آج ساڑھے 12 بجے طلب کر لیا
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سید منصور علی شاہ نے قصور میں زینب قتل کیس کی سماعت کی۔
خیال رہے کہ عدالت نے قصور واقعے میں ملوث ملزم کو گرفتار کرنے کے لیے 36 گھنٹوں کی مہلت دی تھی.
عدالت نے آئی پنجاب کو حکم دیا تھا کہ ملزم کو 36 گھنٹوں میں گرفتار کر کے رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔
یاد رہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا تھا کہ قصور میں افسوس ناک واقعہ پیش آیا، جس پر ہر کوئی افسردہ ہے، اس واقعے سمیت پنجاب میں بچوں سے معتلق تمام کیسز کی تفصیل پیش کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ قصور واقعے پر معاشرہ پریشانی کا شکار ہے اس لیے ملزم کو ہر صورت میں گرفتار کیا جائے، اس حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
آئی جی پولیس نے کہا کہ پولیس پوری ایمانداری سے کام کر رہی ہے، اطلاعات کے مطابق ایک ملزم کے 6 کیسز ڈی این اے ملے ہیں اور میں عدالت کو یقین دہانی کرواتا ہوں کہ ملزم کو گرفتار کرلیا جائے گا۔
قصور میں 6 سالہ زینب کا قتل
صوبہ پنجاب کے شہر قصور میں 4 جنوری کو 6 سالہ بچی زینب کو اپنے گھر کے قریب روڈ کوٹ کے علاقے میں ٹیوشن جاتے ہوئے اغوا کرلیا گیا تھا۔
جس وقت زینب کو اغوا کیا گیا اس وقت اس کے والدین عمرے کی ادائیگی کے سلسلے میں سعودی عرب میں تھے جبکہ اہل خانہ کی جانب سے زینب کے اغوا سے متعلق مقدمہ بھی درج کرایا گیا تھا لیکن پولیس کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔
5 روز بعد 9 جنوری کو ضلع قصور میں شہباز خان روڈ پر ایک کچرے کے ڈھیر سے زینب کی لاش ملی تو ابتدائی طور پر پولیس کا کہنا تھا کہ بچی کو گلا دبا کر قتل کیا گیا۔
بعد ازاں پولیس کی جانب سے بچی کا پوسٹ مارٹم بھی کرایا گیا تھا، جس کے بعد لاش کو ورثا کے حوالے کردیا گیا تھا تاہم یہ بھی اطلاعات تھی کہ بچی کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
اس واقعے کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ایک سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظر عام پر آئی تھی، جس میں ننبھی بچی کو ایک شخص کے ساتھ ہاتھ پکڑ کر جاتے ہوئے دیکھا گیا تھا جبکہ پولیس نے اس ویڈیو اور اہل علاقہ کی مدد سے ملزم کا خاکہ بھی جاری کیا تھا۔
دوسری جانب زینب کے قتل کے بعد سے قصور شہر کی فضا سوگوار رہی اور ورثا، تاجروں اور وکلا کی جانب سے احتجاج کیا گیا اور فیروز پور روڈ بند کردیا گیا تھا۔
اس واقعے میں شدت اس وقت دیکھنے میں آئی جب اہل علاقہ نے مشتعل ہو کر ڈی پی او آفس پر دھاوا بول دیا اور دروازہ توڑ کر دفتر میں داخل ہونے کی کوشش کی۔
اس موقع پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی تھی جبکہ پولیس کی جانب سے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔
10 جنوری کو بچی کے والدین عمرے کی ادائیگی کے بعد پاکستان پہنچے اور انھوں نے چیف جسٹس آف پاکستان اور آرمی چیف سے ننھی زینب کے قاتلوں کو گرفتار کرکے انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی۔
بعد ازاں وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے زینب کے گھر کا دورہ کیا اور متاثرہ خاندان سے ملاقات کر کے مجرموں کی جلد گرفتاری کی یقین دہانی کرائی تھی۔













