تیرے پرتو سے مرے عشق کا ایوان بنے
تیری چاہت سے مرصع مرا دیوان بنے
کچھ مری پیاس کی شدت کو بھی محسوس کرے
کیوں فقط دیکھ کے مجھ کو کوئی حیران بنے
جو مرا دین اور ایمان ہوا جاتا ہے
اس سے ملنے کا کسی طور تو امکان بنے
باعثِ فخر یہ اعزاز رہے گا تم کو
تم مری روح بنے تم ہی مری جان بنے
تم سے بے لوث محبت کی توقع تھی مگر
“تم بنے بھی تو مرے درد کی پہچان بنے”
ایک الفت کی نظر تھوڑی تبسم آمیز
کچھ نہیں بھی تو یہی زیست کا سامان بنے
سعدیہ عشق و محبت کا کرشمہ ہے سب
عشق ہی عشق سے روشن مرا وجدان بنے
سعدیہ صدف، کولکاتا
مغربی بنگال (انڈیا)













