سعدیہ عشق و محبت کا کرشمہ ہے سب ۔سعدیہ صدف

0
1399

تیرے پرتو سے مرے عشق کا ایوان بنے
تیری چاہت سے مرصع مرا دیوان بنے

کچھ مری پیاس کی شدت کو بھی محسوس کرے
کیوں فقط دیکھ کے مجھ کو کوئی حیران بنے

جو مرا دین اور ایمان ہوا جاتا ہے
اس سے ملنے کا کسی طور تو امکان بنے

باعثِ فخر یہ اعزاز رہے گا تم کو
تم مری روح بنے تم ہی مری جان بنے

تم سے بے لوث محبت کی توقع تھی مگر
“تم بنے بھی تو مرے درد کی پہچان بنے”

ایک الفت کی نظر تھوڑی تبسم آمیز
کچھ نہیں بھی تو یہی زیست کا سامان بنے

سعدیہ عشق و محبت کا کرشمہ ہے سب
عشق ہی عشق سے روشن مرا وجدان بنے

سعدیہ صدف، کولکاتا
مغربی بنگال (انڈیا)

SHARE

LEAVE A REPLY