عراق میں حکومت کی جانب سے دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ (داعش) کے خلاف فتح کے اعلان کے چند ماہ بعد دارالحکومت بغداد میں دو خود کش دھماکوں کے نتیجے میں 38 افراد جاں بحق اور کئی زخمی ہوگئے۔

بغداد میں ہونے والے خونی واقعات کے بعد عراق میں رواں سال مئی میں ہونے والے قومی انتخابات کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے۔

حکومتی عہدیدار کا شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا تھا کہ خود کش حملہ آوروں نے بغداد کے مرکز میں طیران اسکوائر کو نشانہ بنایا جہاں مزدوروں اور عام شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

پولیس اور ہسپتال عہدیداروں کا کہنا تھا کہ واقعے میں 100 سے زیادہ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

تاحال کسی تنظیم نے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن اس طرح کے حملوں کے پیچھے داعش کا ہاتھ ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق عراقی فورسز کی جانب سے ملک سے داعش کے مراکز کو ختم ضرور کیا ہے کہ لیکن ان کی جانب سے ماضی میں مزاحمت دیکھی گئی ہے اور ممکنہ طور پر اس طرح کے حملوں سے اس کو جاری رکھیں گے۔

SHARE

LEAVE A REPLY