مکہ میں مقیم 40 ہزار سعودیوں کی غیر ملکی خواتین سے شادی

0
1013

سعودی عرب کے مرد حضرات ایک سے زائد شادیاں کرنے کے حوالے سے جانے جاتے ہیں مگر مملکت کے تمام شہروں میں یہ شرح ایک جیسی نہیں۔ کثرت ازدواج کے حوالے سے سعودی عرب کے دو شہر الباحہ اور حائل سب سے آگے ہیں جب کہ مشرقی گورنری اور تبوک کا علاقہ دوسری شادی کرنے والوں میں سب سے پیچھے ہے۔

سعودی عرب کے حیاتیاتی اعداد و شمار کے ماہر ڈاکٹر ابراہیم الجعفری کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ کی تفصیلات ٹوئٹر پر شائع کی گئی ہیں۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ الباحہ اور حائل کے علاقے ایک سے زائد شادیوں یا دوسری شادی کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ اسی طرح غیر ملکیوں سے شادی کرنے کا رحجان دارالحکومت الریاض میں سب سے زیادہ ہے۔ الریاض میں 29 ہزار اور مکہ مکرمہ میں 40 ہزار سعودیوں نے دوسرے ملکوں کی خواتین سے شادیاں کر رکھی ہیں۔ ڈاکٹر الجعفری کے مطابق دوسری بار شادی کرنے والے مردوں اور خواتین کے تناسب میں واضح فرق بھی دکھائی دیتا ہے۔

مرد حضرات ایک کے بعد دوسری شادی کرتے ہیں جب کہ خواتین میں سے بعض طلاق ہونے کے دوسری شادی نہیں کرتیں۔ رپورٹ کے مطابق مشرقی گورنری اور تبوک شہر میں دوسری شادی کا سب سے کم رحجان ہے۔ مشرقی علاقوں میں دوسری شادی کرنے والوں کی تعداد 0.3 فی صد اور تبوک میں 1.3 فی صد ہے جب کہ الباحہ میں 14.2 فی صد ہے جوکہ کثرت ازدواج کے حوالے سے سب سے زیادہ ہے۔ زیادہ شادیاں کرنے کے اعتبار سے دوسرا نمبر حائل گورنری کا ہے جہاں 11.8 فی صد افراد نے ایک سے زائد شادیاں کی ہیں۔ الباحہ اور حائل میں زیادہ شادیاں کرنے کے اسباب کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔ ممکن سماجی اور ماحولیاتی عوامل اس کی وجہ ہوں۔

SHARE

LEAVE A REPLY