کچھ روایات کچھ دن کچھ تہوار کچھ مواقع ایسے ہیں کہ ان کے آنے پر فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پر ایک جنگ شروع ہو جاتی ہے کہ یہ اسلام کے خلاف ہے یا جاہلانہ کام ہے۔ ہم میں سے اکثریت یہ نہیں سوچتی کہ اگر کسی کو خوشی مل رہی ہے اور کسی دوسرے کو اس سے نقصان نہیں ہو رہا تو بلاوجہ ہر چیز میں دین مذہب کا تڑکا لگانے کا کیا فائدہ۔ شاید ہم نفرت پھیلانے کا کوئی لمحہ ضائع نہیں کرنا چاہتے

مدر ڈے، فادر ڈے، ویلنٹائن ڈے یا پھر اپریل فول اور ایسے کئی مواقع خوشیاں تقسیم کرنے کی بجائے نفرتوں کے فروغ کے لیئے استعمال کیئے جاتے ہیں

دنیا بھر میں مختلف طریقوں کےذریعے یکم اپریل منایا جا تا ہے ۔ چند ممالک میں یکم اپریل دوپہر تک ہی منایا جاتا ہے اور اس کے بعد یہ سلسلہ ختم کر دیا جاتا ہے ۔ ان ممالک میں نیو زی لینڈ ، آئر لینڈ ، برطانیہ اور ساؤتھ افریقہ شامل ہیں

پاکستانی عوام شاید اپنے دکھ مصائب میں اب یہ یاد ہی نہیں رکھنا چاہتے کہ انکے فول بنانے کے لیئے یکم اپریل ہی نہیں ہر حکومت مستقل انکو فول بنا رہی ہے

عمران خان کی حکومت نے بھی اسی تسلسل کو برقرار رکھا ہوا ہے اور عوام کی باقاعدہ چیخیں نکلوا دی ہیں اور اپریل فول کے موقع پر حقیقت میں عوام کو پھر فول بنایا گیا ہے،

عمران حکومت نے قرض لینے کا نیا ریکارڈ قائم کردیا۔موجودہ دور حکومت میں ملکی و غیر ملکی قرضوں کا نیا ریکارڈ قائم ہوگیا۔ پاکستان پر قرضوں کا مجموعی بوجھ 44 ہزار 801 ارب روپے ہو گیا۔

موجودہ حکومت کے سوا 2 سال میں 14 ہزار 922 ارب روپے قرض بڑھا ہے۔ یہ مالی بوجھ مجموعی ملکی پیداوار ( جی ڈی پی) کے 98.3 فیصد کے برابر ہے، ن لیگی حکومت کے 5 سالہ دور میں قرضوں کے بوجھ میں 15 ہزار 561 ارب روپے کا اضافہ ہوا تھا۔

ہیپی اپریل فول

صفدر ھمدانی

 

SHARE

LEAVE A REPLY