طارق بٹ ۔ ہے کوئی جواب بابا رحمت؟

0
784

اس نا چیز قلم کار نے آج کے لئے جس موضوع کا انتخاب کیا عجیب اتفاق ہے کہ میرے محترم دوست اور بھائی فراست اللہ خان نے بھی اسی موضوع کی مناسبت سے ایک قصہ نا چیز کو واٹس ایپ فرما دیا پہلے وہ قصہ پڑھ لیں پھر آگے بڑھتے ہیں “ایک بادشاہ کے دربار میں ایک اجنبی،نوکری کی طلب لئےحاضرھوا،قابلیت پوچھی گئ، کہا ،سیاسی ہوں ۔(عربی میں سیاسی،افہام و تفہیم سے مسئلہ حل کرنے والے معاملہ فہم کو کہتے ھیں)بادشاہ کے پاس سیاست دانوں کی بھر مار تھی،اسے خاص گھوڑوں کے اصطبل کا انچارج بنا لیا جو حال ہی میں فوت ھو چکا تھا.چند دن بعد ،بادشاہ نے اس سے اپنے سب سے مہنگے اور عزیز گھوڑے کے متعلق دریافت کیا،اس نے کہا نسلی نہیں ھے۔
بادشاہ کو تعجب ھوا، اس نے جنگل سے سائیس کو بلاکر دریافت کیا،اس نے بتایا، گھوڑا نسلی ھے لیکن اس کی پیدائش پر اس کی ماں مرگئ تھی، یہ ایک گائے کا دودھ پی کر اس کے ساتھ پلا ھے.مسئول کو بلایا گیا ،تم کو کیسے پتا چلا، اصیل نہیں ھے؟ اس نے کہا، جب یہ گھاس کھاتا ھےتو گائیوں کی طرح سر نیچے کر کے
جبکہ نسلی گھوڑا گھاس منہ میں لےکر سر اٹھا لیتا ھے.بادشاہ اس کی فراست سے بہت متاثر ھوا،مسئول کے گھر اناج،گھی،بھنے دنبے،اور پرندوں کا اعلی گوشت بطور انعام بھجوایا.اس کے ساتھ ساتھ اسے ملکہ کے محل میں تعینات کر دیا،چند دنوں بعد، بادشاہ نے مصاحب سے بیگم کے بارے رائے مانگی،اس نے کہا.
طور و اطوار تو ملکہ جیسے ھیں لیکن شہزادی نہیں ھے، بادشاہ کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی ، حواس بحال کئے، ساس کو بلا بیجھا، معاملہ اس کے گوش گذار کیا. اس نے کہا ، حقیقت یہ ھے تمہارے باپ نے، میرے خاوند سے ھماری بیٹی کی پیدائش پر ھی رشتہ مانگ لیا تھا، لیکن ھماری بیٹی 6 ماہ ہی میں فوت ھو گئ تھی، چنانچہ ھم نے تمہاری بادشاہت سے قریبی تعلقات قائم کرنے کے لئے کسی کی بچی کو اپنی بیٹی بنالیا.بادشاہ نے مصاحب سے دریافت کیا، تم کو کیسے علم ھوا، اس نے کہا، اس کا خادموں کے ساتھ سلوک جاہلوں سے بدتر ھے، بادشاہ اس کی فراست سے خاصا متاثر ھوا، بہت سا اناج، بھیڑ بکریاں بطور انعام دیں ساتھ ہی اسے اپنے دربار میں متعین کر دیا.کچھ وقت گزرا، مصاحب کو بلایا، اپنے بارے دریافت کیا، مصاحب نے کہا، جان کی امان،
بادشاہ نے وعدہ کیا، اس نے کہا نہ تو تم بادشاہ زادے ھو نہ تمہارا چلن بادشاہوں والا ھے بادشاہ کو تاؤ آیا، مگر جان کی امان دے چکا تھا، سیدھا والدہ کے محل پہنچا، والدہ نے کہا یہ سچ ھے تم ایک چرواہے کے بیٹے ھو،ہماری اولاد نہیں تھی تو تمہیں لے کر پالا ۔بادشاہ نے مصاحب کو بلایا پوچھا، بتا، تجھے کیسے علم ھوا؟اس نے کہا، بادشاہ جب کسی کو انعام و اکرام دیا کرتے ھیں تو ہیرے موتی، جواہرات کی شکل میں دیتے ھیں،
لیکن آپ بھیڑ ، بکریاں، کھانے پینے کی چیزیں عنایت کرتے ھیں یہ اسلوب بادشاہ زادے کا نہیں کسی چرواہے کے بیٹے کا ہی ھو سکتا ہے” ۔
فراست صاحب کا ارسال کردہ قصہ تمام ہوا اگر تو آپ ایک ہی بار کے مطالعے سے سمجھ گئے تو بہت اچھا اگر نہیں تو التجا ہے کہ پورے قصے کو ایک بار پھر اپنی توجہ سے نواز دیں۔ قصے پر ذرا سی توجہ دینے سے اس صاحب فراست کی جو تصویر ہمارے سامنے آتی ہے وہ اسی بابا رحمت کی ہے جو ہمارے تقریبا ہر گاوں میں ہوا کرتا تھا اور سارے گاوں والے اپنے مسائل اور آپس کے اختلافات کے حل کے لئے اس کے خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے بابا رحمت بھی ایسا اللہ کا جی ہوا کرتا کہ تھوڑی سی سوچ کے بعد مسئلے کا حل بتا دیا کرتا اور مجال ہے کوئی بابا رحمت کے فیصلے سے اختلاف کرتا حالانکہ فیصلہ اس وقت بھی ایک کے حق میں اور دوسرے کے خلاف ہوتا تھا مگر پورے گاوں میں کوئی یہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ بابا رحمت کسی ایک فریق کی طرفداری کرے گا ۔ اس لئے ہر دو فریق بابا رحمت کے فیصلے پر سر تسلیم خم کر دیتے ۔اسی بابا رحمت کا ذکر چند دن پہلے میرے پاک وطن کی سب سے بڑی عدالت کے سب سے بڑے جج چیف جسٹس ثاقب نثار نے ججوں اور وکلاء کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس خطاب میں انہوں نے اپنے آپ کو بابا رحمت کے طور پر پیش کیا اور فرمایا کہ ہم ججوں کو اپنا بابا رحمت سمجھیں اور جیسے اس کے فیصلے تسلیم کرتے تھے ہمارے بھی کریں ۔
اس خطاب پر میرے بہت سے ذہین و فطین اور صاحب علم کالم نگار دوست اپنی رائے کا اظہار فرما چکے اس لئے میں گستاخی کی جرات نہیں کر سکتا ۔ میں تو ایک مختلف زاویہ سے بابا رحمت اور اپنے معاشرے کی بے حالی پر اپنی معروضات آپ کے سامنے رکھنے کی جسارت کروں گا اس امید کے ساتھ کہ آپ انہیں ہر قسم کے تعصب کی عینک اتار کر دیکھیں گے ۔” ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ مغربی میڈیا مجھے اور ترکی کو سنی مسلمان کے نام سے پکار رہا ہے ۔ سنی یا شیعہ دین کوئی نام نہیں ہمارا ایک ہی دین ہے جو اسلام ہے یہ سب مغرب کی مسلمانوں میں تفریق ڈالنے کی کوشش ہے” ۔ اب میرے پاس تین بابا رحمت اکٹھے ہو گئے ہیں ایک محترم فراست اللہ خان کے، دوسرے محترم چیف جسٹس ثاقب نثار کے اور تیسرے خود ترک صدر رجب طیب اردگان ان تینوں کی فہم و فراست سے قطعا کوئی انکا نہیں مگر مجھے ایک چوتھے بابا رحمت کو متعارف کروانا ہے ورنہ میری بات ادھوری رہ جائے گی ۔
آنکھوں دیکھی اور کانوں سنی بات ہے کہ چوتھے بابا رحمت کے پاس آئے روز شیدے کی شکایات آتی تھیں مگر بابا رحمت نظر انداز کرتے رہے جب شکایات بہت بڑھ گئیں تو بابا رحمت نے شیدے کو بلوا بھیجا شیدا سر جھکائے بابا رحمت کی خدمت میں حاضر ہو گیا بابا نے اس کی بدقماشی اور بدمعاشی کے تمام کرتوت اس کے سامنے کھول کے رکھ دیئے شیدا سر جھکائے سنتا رہا بابا بولے یا تم اپنے آپ کو ٹھیک کر لو اور جس نے یہ خوبصورت اور مکمل جسم عطا کیا ہے اس کے بندے بن جاو اور پانچوں وقت باقاعدگی سے نماز شروع کر دو یا پھر یہ گاوں چھوڑ کر کہیں اور چلے جاو ۔ شیدا منہ سے ایک لفظ کہے بغیر سر جھکائے وہاں سے رخصت ہو گیا دوسرے دن بابا رحمت بھی عمرہ شریف کی سعادت حاصل کرنے چلے گئے واپس آئے تو گاوں والوں کا ہجوم ملنے کو آ پہنچا بابا مل تو سب سے رہے تھے مگر ان کی نگاہیں کسی کو تلاش کر رہی تھیں جو ان ملاقاتیوں میں نہیں تھا آخر بابا سے رہا نہ گیا وہ بول اٹھے رشید نہیں آیا کسی نے ہجوم کے آخری سرے سے آواز لگائی کون رشید اچھا وہ شیدا اس کا یہاں کیا کام ہو گا کسی سینما میں ۔
بابا نے شیدے کو بلوا بھیجا اور شیدا آ بھی گیا مگر پچھلی بار کی نسبت اب کے شیدے کی گردن تنی ہوئی تھی آتے ہی بولا حکم ۔کیوں بلایا ہے؟ ۔ بابا نے اس کی طرف غور سے دیکھا اور بولے میں نے جانے سے پہلے تم سے ایک درخواست کی تھی شیدے نے اسی طرح تنی ہوئی گردن اور گھورتی آنکھوں کے ساتھ بابا کی طرف دیکھتے ہوئے طنزیہ لہجے میں کہا آپ نے نماز پڑھنے کا حکم دیا تھا مگر کوئی اللہ والی مسجد نہیں بتائی تھی میں نے پہلا جمعہ چاچے کے محلے والی مسجد میں پڑھا باہر نکلا تو آگے سے مامے کے محلے کی مسجد کے نمازی آرہے تھے دیکھتے ہی بولے شیدے یہ کیسا مسلمان ہوا ہے نماز شروع کی تو وہ بھی وہابیوں کی مسجد میں، میں بڑا شرمندہ ہوا اگلا جمعہ مامے کے محلے والی مسجد میں پڑھا باہر نکلا تو آگے سے چاچے کے محلے والی مسجد کے نمازی آرہے تھے بولے واہ شیدے واہ ایک ہی ہفتے میں دین تبدیل کر لیا سچی پوچھو تو بابا مجھے بڑی کوڑ چڑھی پر میں برداشت کر گیا چند دن ادھر ادھر پوچھتا رہا کوئی اللہ والی مسجد بھی ہے پتا چلا نہیں ۔ یہاں تو کوئی سنیوں کی ، کوئی وہابیوں کی، کوئی بریلویوں کی اور کوئی شیعوں کی ہے اللہ کی کوئی نہیں ہے اس لئے میں پھر سے وہیں جاتا ہوں جہاں مجھ سے کوئی نہیں پوچھتا سنی ہو شیعہ ہو بریلوی ہو یا وہابی ۔ وہاں سنیما میں ہم مسلمان، سکھ ، ہندو اور عیسائی سارے اکٹھے بیٹھ کے فلم دیکھتے ہیں ۔ ایسا کیوں ہے بابا رحمت؟ اللہ کے گھر میں اختلاف اور شیطان کے گھر میں سب اکٹھے ۔ ہجوم پہ سکوت طاری ہو گیا پھر یکدم ہجوم چھٹنا شروع ہو گیا شیدا پوچھ رہا تھا ۔ ہے کوئی جواب بابا رحمت؟بابا رحمت نے ایک بار سر اٹھا کے شیدے کی اکڑی ہوئی گردن اور آنکھوں میں ابلیسی شعلے دیکھے تو پھر سر جھکا لیا اس کے کانوں میں مسلسل آواز آرہی تھی ہے کوئی جواب بابا رحمت؟ ۔ ہے کوئی جواب بابا رحمت ؟۔(نوٹ ۔ ہمارے بابا رحمت تو لاجواب ہو گئے اگر کسی اور کے بابا رحمت کے پاس کوئی جواب ہو تو محاسبہ کے صفحات حاضر ہیں)

SHARE

LEAVE A REPLY