شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت آج ہوگی

0
611

احتساب عدالت میں شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت آج ہوگی۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت میں گذشتہ سماعت 16 جنوری کو ہوئی تھی جس میں نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر احتساب عدالت میں پیش ہوئے تھے۔

سماعت کا آغاز ہوا تو فلیگ شپ ریفرنس میں استغاثہ کے گواہ ایڈیشنل ڈائریکٹر نیب ناصر جنجوعہ جبکہ العزیزیہ اسٹیل اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں پولیس اسٹیشن نیب لاہور کے سب انسپکٹرعمردراز گوندل کا بیان قلمبند کیا گیا، جبکہ اصل ریکارڈ سپریم کورٹ میں ہونے کے باعث دفتر خارجہ کے ڈائریکٹر آفاق احمد کا بطور گواہ مکمل بیان قلمبند نہ ہوسکا۔وکیل صفائی خواٍجہ حارث نے کے استفسار پرگواہ ناصر جنجوعہ نے بتایا کہ 21 اگست 2017ء کوچوہدری شوگر ملز کے چیف فنانشل افسر شہباز حیدر نے انہیں چوہدری شوگر ملز سے متعلق ریکارڈ فراہم کیا، جبکہ تفتیشی افسر نے فلیگ شپ میں 21 اگست کو بیان ریکارڈ کیا۔

العزیزیہ اورایون فیلڈ ریفرنسز میں عمردراز گوندل پر جرح کے دوران گواہ نے بتایا کہ انہوں نے ایک ہی دن دو کال آف نوٹسز پرگارڈ عارف سے زبانی تعمیل کرائی، جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ تفتیشی افسر کو کال نوٹسز کی تعمیل کی علیحدہ علیحدہ رسیدیں جمع کروانے کے حوالے سے آپ کے بیان میں تضاد ہے۔اس موقع پر ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب سردار مظفر عباسی نے اعتراض کیا کہ خواجہ حارث گواہ سے جرح کے دوران مختلف سوالات دہرا رہے ہیں۔ نیب پراسکیوٹر کا کہنا تھا کہ ایون فیلڈ پراپرٹیز میں عمر دراز گوندل کا بیان ہونے کے بعد صرف دو گواہ باقی رہ جائیں گے، لہذا اب پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا کا بیان ریکارڈ کیا جائے۔

جس پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ ابھی دیگر ریفرنسز میں گواہ باقی ہیں پہلے ان کے بیانات ریکارڈ کئے جائیں، جس پرعدالت نے استغاثہ کے تین گواہان آفاق احمد ، عزیر ریحان اور غلام مصطفی کو آئندہ سماعت طلب کرتے ہوئے سماعت 23 جنوری تک ملتوی کردی تھی۔

SHARE

LEAVE A REPLY