عربی زبان میں نیشنلٹی یا قومیت کو “جنسیہ” کہتے ہیں۔ عربی میں کسی بھی فارم یا دستاویز میں معلومات دیتے ہوئے ہم پاکستانی لکھتے ہیں
” جنسیہ ۔۔۔۔۔ باکستانی”
پاکستان میں جنسی زیادتی کے حالیہ واقعات اور ماضی قریب کے واقعات کے اچانک کثیر تعداد میں منظرِعام پر آئے ہیں۔ اس پر ستم یہ کہ عوام جنسی زیادتی کرنے والوں کی سزا کے مطالبے سے کہیں زیادہ جنسی تعلیم کی ضرورت کی طرف چل پڑے ہیں۔
اب لوگ متعلقہ یا غیر متعلقہ حوالے سے جنسی تیم کی اہمیت پر لکھ رہے ہیں۔ عجیب ہے نا!
موجودہ حالات میں جنسی زیادتی کے واقعات اور رونے دھونے ساتھ ساتھ پاناما، اقامہ ، ڈان لیکس اور حکومتی سرپرستی میں منظورِ نظر افسروں کی اربوں روپے کی کرپشن بھی سامنے آ رہی ہے۔
ملک کا کوئی ادارہ ایسا نہیں جو ِحکومتی سرپرستی میں عوام سے زیادتی نہ کر رہا ہو اور مزید بر آں عوام کو بلیک میل نہ کر رہا ہو۔ پاکستان میں رہنا اور پاکستان کیلیے سوچنا یا چیخ و پکار کرنا عذاب بنتا جا رہا ہے۔ پاکستانی جنسیہ مسلسل زیادتی کا شکار ہے۔
جمہوریت کے نام پر موروثیت، سیاست کے نام پر علاقائی دہشت ، خدمت کے نام پر غاصبیت اور مذہب کے نام پر منافرت و منافقت کا دور دورہ ہے۔پاکستانیوں کے ساتھی معاشی تو کیا ہر سطح پر ہر طرح کی زیادتی ہو رہی ہے۔
پاکستانی حکومت، پارلیمان اور اعلیٰ اداروں میں بیٹھےہے۔غیر ملکی پاسپورٹ رکھنے والے برائے نام پاکستانی 20 کروڑ عوام کی قسمت کے فیصلے کرتے ہیں ۔ ہر آن زیادتی کی جا رہی ہے۔
پارلیمنٹ قصور شہر کا نقشہ پیش کر رہی ہے۔
یعنی اب تو پاکستانیوں کی جنسیہ کے ساتھ بھی زیادتی ہو رہی ہے۔
یہ پاکستانی کب با شعور ہوں گے؟
شاید کبھی نہیں۔
آخر پر ایک واقعہ لکھوں ۔
ایک آدمی نے دوسرے سے کہا کہ فلاں اسے بلاکر جنسی زیادتی کرتا ہے۔ اور یہ عمل اکثر ہوتا رہتا ہے۔
دوسرے شخص نے کہا تو تم نہ جایا کرو۔
پہلا شخص آبدیدہ ہو کر بولا
“میں مجبور ہوں، وہ فلاں مجھے بلاتا بڑے پیار اور مروت سے ہے۔”
الیکشن 2018 قریب ہے۔ سیاست کے “فلاں” آج کل ہر فلاں ڈھینگ کو بڑی مروت سے بلا رہے ہیں ۔
پاکستانی جنسیہ ایک بار پھر جنسی زیادتی کا شکار ہونے جا رہی ہے ۔
آخر مروت بھی کوئی چیز ہے۔
مروت کو نظر انداز بھی تو نہیں کیا جا سکتا۔
سلیم کاوش













