وہ شاعر تھا۔ فرید پور کا باسی۔۔۔۔ علی گڑھ سے تعلیم مکمل کی تو تحریک پاکستان عروج پہ تھی۔ علی گڑھ نے یہی سکھایا تھا کہ مسلمان قوم کا وطن پاکستان ہے۔ اس نے بیگ سنبھالا اور سب کچھ چھوڑ کر پاکستان ا گیا۔ شاعر نفع نقصان کب دیکھا کرتے ہیں۔ حکومت پاکستان کو افسروں کی ضرورت تھی اور وہ مدرس بن کر لاہور میں پڑھانے لگا۔ کسی نے پوچھا تو جواب دیا۔ میں نے ایک قوم بنانی ہے۔ لوگ خاموش ہو گئے ۔
گھر میں ایک بیٹی پیدا ہوئی دوسری پیدا ہوئی اور پھر تیسری۔ ۔۔۔۔۔لوگوں نے اسے بیٹیوں والے زیدی صاحب کہنا شروع کر دیا۔ اس کے کانوں میں بھنک پڑی تو اس نے تینوں بچیوں کو سینے سے چمٹا کر کہا۔ لوگ مجھے انھی بیٹیوں کے نام سے جانیں گے۔ اگلے سال پھر سے بیٹی پیدا ہو گئی ۔ منہ بسورتے رشتہ داروں سے قطع نظر اس نے خوبصورت بیٹی کو گود میں اٹھا لیا۔ بیوی نے کہا۔ پھر سے بیٹی پیدا ہوئی ہے۔ اب اس کا کیا نام رکھیں۔ ایک تو آپ کو نام بھی ادبی نوعیت کے چاہییں ۔ اس نے آسمان پر چمکتے چاند کو دیکھا۔ اور اپنی چوتھی بیٹی کو چوم کر بولا۔ میری یہ بیٹی تو چاند کا ٹکڑا ہے۔ آج سے سب لوگ اسے مہ پارہ کہا کریں گے۔
خدا نے رحمتوں کی برسات جاری رکھی اور اسے چھہ بیٹیاں عنایت کیں۔ اس نے بیٹیوں کو خوب لکھایا پڑھایا اور ایک شان سے رخصت کیا۔ جب شاعر کی آنکھیں بند ہونے لگیں تو اس کی چارپائی کے گرد وہی بیٹیاں چھاؤں بن کر کھڑی ہو گئیں اور ایک شان سے اپنے باپ کو رخصت کیا۔ یہ ایک شاعر کی کہانی تھی۔ اور آج میری اس کی مہ پارہ سے ملاقات ہونی تھی۔ جسے میں نے اپنے بچپن میں ٹی وی کی سکرین پر نظریں جما کر دیکھا تھا۔
مہ پارہ صفدر سے میری انسیت کی ابتدا 1982 میں ہوئی ۔ مجھے نہ یہ پتہ تھا کہ بھٹو کون تھا نہ یہ خبر تھی کہ ضیاء الحق یہاں بیٹھا کیا کر رہا ہے۔ مجھے تو بلکہ یہ یقین ہو چکا تھا کہ بادشاہ وردی پہنا کرتے ہیں۔میں ان دنوں میں فوجیوں کو سیلوٹ کیا کرتا تھا۔ یہ عادت انیس سو بائیس میں ختم ہوئی ۔ عادتیں کب پیچھا چھوڑتی ہیں۔ میں بلیک اینڈ وہائٹ ٹی وی پر نظر جمائے بس مہ پارہ کے ہونٹوں سے نکلے لفظ سنتا اور دیکھتا جاتا تھا۔ کیا لہجہ تھا کیا روانی تھی اور کیا سلاست تھی۔
آج ان کی کتاب کی تقریب رونمائی تھی۔ میں نے تو بس مہ پارہ کو دیکھنا تھا۔ جسے ایک شاعر نے چاند کا ٹکڑا کہا ہو۔ اسے ایک شاعر عقیدت سے دیکھ تو سکتا ہے۔
میں نے انھیں پہلی دفعہ دیکھا۔ میں آڈیٹوریم کی پچھلی سیٹوں پر موجود تھا۔ وہ آئیں اور نجانے کیوں اور کیسے میں احترام میں اپنی سیٹ سے کھڑا ہو گیا۔ میں اپنی اس حرکت پر خود بھی حیران تھا۔ انھوں نے مجھ سے بھی حال احوال دریافت کیا۔ حالانکہ وہ مجھے جانتی تک نہیں تھیں۔ میں سوچ میں۔ پڑ گیا کہ یہ احترام آخر کس لییے تھا۔ دل کے نہاں خانوں سے جواب آیا کہ یہ ان لفظوں کا احترام تھا کہ جن کا تلفظ تم نے ان سے سیکھا ہے۔ میں بت بنا اپنی جگہ کھڑا تھا۔ وہ پلٹ کر اپنی سیٹ پر براجمان ہو گئیں ۔ طلسم ٹوٹ چکا تھا۔ وہ اور میں دونوں ایک ہی قبیلے کے فرد بن چکے تھے۔ وہ ذرا بڑی لکھاری اور میں ذرا چھوٹا لکھاری تھا۔ لیکن ہم دونوں کا دکھ ایک ہی تھا۔ ہم دونوں کے قلم آزاد نہیں تھے۔
تقریب شروع ہوئی سب نے لیفٹ اور رایٹ کا فلسفہ بیان کرنا شروع کیا۔ اور میں بچپن کی یادوں میں گم تھا۔ اب تھوڑی بوڑھی ہو گئی ہیں۔ قد تھوڑا چھوٹا ہے۔ مسکراہٹ تو ویسی ہی دل آویز ہے۔ مجھے لیفٹ اور رایٹ سے کیا لینا دینا۔ دفعتاً کان میں آواز پڑی۔ مقرر کہہ رہے تھے۔ جو آپ نے اس میں عمران اور بھٹو کا تقابلی جایزہ پیش کیا ہے وہ بنتا ہی نہیں۔ مجھے ایسا لگا جیسے ایک محبوب کی محفل میں دوسرے محبوب کو گالیاں دی جا رہی ہوں۔ مقرر بضد تھے۔ کہاں بھٹو جیسا عظیم لیڈر اور کہاں عمران۔ اس نے تو ایک نسل کو ہی گندہ کر دیا ہے۔ میرے دل میں آیا کہ انصافیوں کی طرح سٹیج پر چڑھ دوڑوں
لیکن میں چپ رہا۔ میں ہنس دیا۔ منظور تھا پردہ ترا۔
محفل کے آداب میں سب سے مشکل کام خلاف طبعیت بات کو برداشت کرنا ہوا کرتا ہے۔ سو چپ رہا۔
عرصے بعد دہلوی لہجے کی اردو سنی تو لطف آیا ورنہ تو اس لہجے کی اردو سننے کے لییے مغل اعظم دیکھنا پڑتی ہے۔
تین گھنٹے کا پروگرام کب شروع ہوا ور کب ختم ہوا پتہ ہی نہیں چلا۔ میں نے اجازت چاہی اور روانہ ہو گیا۔
ادھوری ملاقاتیں بھی کیا لطف دیا کرتی ہیں۔
قندیل حسین قاضی












