چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے مقتولہ زینب کے والد امین انصاری اور وکیل آفتاب باجوہ کے میڈیا پر بیان دینے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

قصور کی معصوم زینب کے زیادتی اور قتل کیس پرازخود نوٹس کی سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سماعت کے دوران عدالت نے مقتولہ کے والد کو ہدایت کی کہ وہ پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے زینب کے والد امین انصاری کو روسٹرم پر بلا لیا اور استفسار کیا کہ ‘آپ اتنےخاموش کیوں بیٹھے ہیں؟۔ جس پر مقتول بچی کے والد نے جواب دیا کہ ‘ملزم کو رحم نہیں آیا، اسے کڑی سزا ملنی چاہیے۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ‘ہم سب کو آپ سے ہمدردی ہے، زینب ہماری بھی بیٹی تھی۔انہوں نے زینب کے والد کو کہا کہ وہ جےآئی ٹی میں پیش ہوں۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منظور ملک پر مشتمل 3 رکنی بینچ زینب قتل ازخود نوٹس کیس کی سماعت سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں کر رہا ہے۔
ساتھ ہی جسٹس ثاقب نثار نے زینب کے والد کو کہا کہ وہ جےآئی ٹی میں پیش ہوں۔

SHARE

LEAVE A REPLY