ہم گشتہ قسط میں کسی کے گھر جانے کے آداب پر بات کر رہے تھے۔ اب آگے بڑھتے ہیں۔ اگر وہ مسلمان ہے تو آپ کی خاطر مدارات ضرور کریگا؟ کیونکہ وہ ا س حکم کے تابع ہے ، جس میں حضور (ص) نے فرمایا کہ“ اگر کسی کے گھر کوئی مہمان آیا اور کچھ کھائے پیئے بغیر چلا گیا تو اس نے اپنے مردہ بھائی کامنہ دیکھا“ تو چاہیں میزبان ایک گلاس پانی ہی پیش کرے، مگر کچھ نہ کچھ خاطر تواضح اسےکرنا ضروری ہے ۔جوکچھ وہ پیش کرے ناک بھوئیں نہ چڑھا ئیں اسے چکھ لیں۔ اگر دعوت میں آئے ہیں جس میں دوسرے لوگ بھی مدعو ہیں! پہلے تو یہ ہو تا تھا کہ سب فرش پر بیٹھ کر کھانا کھایاکرتے تھے۔ اس کے لیے احکامات یہ تھے۔ کہ چاروں طرف ہاتھ نہ ڈالیں صرف اپنے سامنے سے کھائا لیں یہ نہ کریں کہ جہاں بھی بوٹی نظر آئےا سے اٹھا ئیں؟ لیکن آج کے دور میں وہ طریقہ کار موجود نہیں ہے۔ اس کے بجا ئے کھانا بڑے برتنوں میں میز پر چن دیا جاتا ہے اور لوگ قطار میں لگ کر اور کھانا لیکر یا تو کھڑے کھڑے کھاتے ہیں اور وہیں باتیں بھی کرنا شروع کردیتے ہیں ۔ جبکہ اس دوران وہ یہ بھول جا تے ہیں کہ اور لوگ ان کے جگہ خالی کرنے کےا نتظار میں ہیں۔ بہتر یہ ہے کہ وہاں سے کھانا لیکر کہیں اور جاکر بیٹھ کر یا کھڑے ہوکر کھانا کھائیں۔ جوکہ خلاف سنت تو ہے؟ اس میں دو رائیں نہیں ہوسکتیں اور اس طرح سنت کاکا ثواب نہیں مل سکتا۔ مگر ہر جگہ“ معروف پر عمل کرنے کا حکم ہے“ لہذا جو اس طریقہ سے کھانے کہ آداب ہیں ان پر اسلامی ہدایات کی روشنی میں عمل کرنا ضروری ہے۔
ہم نے فرش پر بیٹھ کر کھانا کھانے کی صورت میں یہ دیکھا کہ حضور (ص) اپنے سامنے سے لیکر کھانے کا حکم دیتے تھے اور ندیدہ پن دکھانے کو منع فرمایا کرتے تھے؟ یہاں اس کا خیال رکھتے ہو ئے کھانا کھانا ہوگا؟ یہ نہیں کہ ساری بوٹیاں اور اچھی چیزیں آپ پیلیٹ میں بھر لائیں اور جب نہ کھاسکیں تو پھنیکدیں۔ اس طرح آپ سے اس آیت کی خلاف ورزی ہوگی کہ“ کھاؤ پیئو مگر اصراف بیجا مت کرو“ دوسرےکھانا لیتے ہو ئے اوروں کا خیال رکھیں ۔ا ور اس حدیث کا بھی خیال رکھیں کہ جو اپنے لیے چاہیں وہ دوسروں کے لیے بھی چاہیں “ پاکستان میں آجکل عام ہے کہ کھانے کے دوران لوگوں میں بھگڈر مچ جاتی ہے۔ اپنے اس فعل سے آپ دنیا میں اسلام کا معیار لوگوں کے ذہنوں میں جو بٹھارہے ہیں! نتیجہ آپ اس سے خود اخذ کرلیں کہ حشر کیا ہوگا۔
ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ مسلمان ان آداب کا خیال رکھتے جو اسلام کا طرہ امتیاز ہے۔ وہ اختیار کرتے جسے “ تنظیم“ کہتے ہیں ،ناکہ بے راہ روی۔ جبکہ یہاں حضور (ص) کا ارشادِ گرامی ہے کہ ہمیں فرشتو ں جیسی صف بندی کا حکم دے کر اور امتوں سے ممتاز کیا گیا ہے؟ ہم بجا ئے صف بندی کر نے کہ صف میں کھڑا ہونا ہی اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں ۔ اگر طوعا اور کریحا کہیں لائن میں لگ بھی جائیں تو راستے میں یا کھانے لینے کی ہی میز پر کھڑے ہوکر باتیں شروع کردیتے ہیں ۔ اور اس وقت یہ بالکل بھول جا تے ہیں کہ ہم دوسروں کا راستہ روکے ہوئے ہیں ۔اور انہیں تکلیف پہونچا رہے ہیں۔ یہ صورتِ حال کھانے کی میز پر ہی نہیں ہوتی۔ بلکہ آپ کو مساجد میں بھی حتیٰ کہ حج اور عمرے کے دوران حرم شریف میں بھی نظر آئے گی۔ اور دھکے دیتے ہوئے ،لوگوں کے کندھوں پر سے پھلانگتے ہوئے، دیر سے آنے والے نمازی اگلی صفوں جاتے نظرآئیں گے۔ جس کی اسلام میں سخت مما نعیت ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ لوگوں کو اگلی صفوں میں نماز ادا کرنے کا ثواب تو یاد ہےمگر اس میں اول وقت پہونچنے کی جوشرط ہے وہ کسی کو بھی یاد نہیں ہے۔ جبکہ امام حضرات باربار نمازیوں کو آگے بڑھنے کا حکم دیکر بجا ئے رہنمائی کہ مزید کنفیوزڈ کررہے ہوتے ہیں ۔انہیں اس کے بجا ئے “ کہ کھڑے ہوکر صفبندی کرنے کا حکم دیں اورجو نمازی ایک کے بجائے چار چار کی جگہ گھیرے ہوئے ہوتے ہیں ان سے زائد جگہ بازیاب کرائیں؟
کہ کھلی خلاف ورزی ہے ہمسایہ کے حقوق کی، ،اس قت جب کہ آپ کسی مجلس میں ہیں یاایسی جگہ میں ہیں جہاں نماز یا کسی مقصد کے لیے اسے بہ یک وقت بہت سےلوگ استعمال کر رہے ہیں ۔ اس میں سہولیات پیدا کرنے کے بجا ئے خلل ڈل کر پڑوسی کے حقوق کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہےہیں؟ کیو نکہ یہاں ہر وہ شخس پڑوسی کے زمرے میں آ تا ہے جو آپ کے آگے ہے، پیچھے ہے دائیں ہے یا بائیں ہے۔ باقی آئندہ













