آگہی کا یہ لمحہ مجھے ایک نئی دنیا کا پتہ دے رہا تھا ۔۔اب مجھے کرشماتی زندگی کا لطف اٹھانا ہے ۔۔ انجانے رستوں پر چلنے کا مزہ لینا ہے ۔
کون رہا ہے یہاں
نہ راجہ نہ فقیر
باب العلم حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا کہ موت زندگی سے بھی بہت بڑی حقیقت ہے
میں جانتی تھی ۔۔ زندگی جاننے کے دو پہلو یہ ہیں ۔۔
ایک بیداری کا رستہ ہے اور دوسرا عدم بیداری کا رستہ تھا ۔ پھر ایک رات میں نے بیدار رہنے کا فیصلہ کر لیا ۔۔ مجھے جاننا تھا کہ اگر کیمو تھراپی ہوئی تو کیا کیا ہو سکتا تھا ۔۔ جو ریڈیو تھراپی ہوئی تو کیا ہو گا۔۔ اور جو موروثیت میں کینسر ملا ہو تو میری نسل کس حد تک متاثر ہو سکتی تھی ۔۔ مجھے یہ جاننا تھا کہ کیسے انہیں بچایا جا سکتا ہے ۔ اور یہ سب میں 15 جون سے پہلے پہلے جان لینا چاہتی تھی کہ جو اگر ڈاکٹر برلنگ نے کوئی سا بھی علاج تجویز کیا تو مجھے دھچکہ نہ لگے ۔۔ آپریشن کے وقت یوٹرائن کینسر گریڈ ٹو کا تھا جو مکمل بائیوپسی میں کسی بھی گریڈ کا نکل سکتا تھا ۔۔ میں چاہتی تھی کہ میں پوری بیداری کے ساتھ اپنے ڈاکٹر سے ملوں اور ان کے تجویز کردہ علاج کو سہار سکوں ۔
فریحہ اور میرے مریضوں نے کینسر کی تکلیف کو سہا تھا اور میں ان کے درد کی گواہ تھی ۔۔پر اب میں یہ اپنے لیئے محسوس کرنا چاہتی تھی ۔۔ میرے سامنے کیمو تھراپی پر کئی آرٹیکلز کھلے پڑے تھے ۔۔
کینسر ہمارے جسم کے خلیوں میں شروع ہوتا ہے پھر یہ ایک انبار کی شکل میں اکٹھے ہو جاتے ہیں، جسے گلٹی کہا جاتا ہے۔ یہ جاننا بہت ضروری تھا کہ خلیوں کے تمام انبار کینسر نہیں ہوتے۔ ایسا انبار جو کینسر نہ ہو، بینائن کہلاتا ہے کیونکہ یہ جسم میں کہیں اور نہیں پھیل سکتا۔ خلیات کا ایسا انبار جو جسم کے دیگر حصوں میں پھیل سکتا ہے اس کینسر کو میلگنینٹ کہتے ہیں ۔۔ کیموتھراپی کی ادویات کینسر کے انہیں خلیوں کو تباہ کرتی ہیں۔ ادویات کو بذریعہ خون پورے جسم میں پہنچایا جاتا ہے۔ ادویات کینسر کے خلیوں کو ختم تو کرتی ہی ہیں لیکن صحت مند خلیات کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ کیموتھراپی اس وقت تک شروع نہیں کی جا سکتی جب تک مریض اسے پوری طرح سے سمجھ نہ لیں اور شروع کرنے کی اجازت نہ دے دے ۔
کبھی علاج کے لئے صرف کیموتھراپی ہی کافی ہوتی ہے اور کبھی سرجری یا ریڈیو تھراپی کے ساتھ دی جاتی ہے ۔۔ لیکن زیادہ تر کیمو تھراپی دیگر علاجوں سے پہلے دیتے ہیں تاکہ کینسر کو چھوٹا کیا جا سکے پھر سرجری یا ریڈیوتھراپی کی جاتی ہے تاکہ کینسر ختم ہوجائے ۔۔ کیمو تھراپی کبھی دیگر علاجوں کے بعد بھی دی جاتی ہے تاکہ کینسر کو دوبارہ ہونے سے روکا جائے ۔۔ جب کوئی کینسر لا علاج ہوجائے یعنی آخری اسٹیج پر معلوم ہو تو کیمو تھراپی مریض کو بہتر محسوس کرنے یا زیادہ عرصہ زندہ رہنے میں مدد کے لیے دی جاتی ہے ۔ کیموتھراپی اکثر ایسی بیماریوں کے علاج میں بھی استعمال ہوتی ہے جو کینسر نہ ہوں جیسے روماٹائڈ آرتھراٹس
(Rheumatoid Arthritis) ۔۔MS, Lupus, and Sarcoidosis ۔
کیمو تھراپی میں کونسی ادویات ہوں اور کتنے تناسب سے ہوں ۔۔ہفتے میں کتنی بار ہو اور دو کیموتھراپی میں کتنا وقفہ ہو اور کتنی مدت تک ہو ۔۔ یہ سب کینسر کی قسم اور اس کے گریڈ یعنی اسٹیج پر منحصر ہے ۔ عام طور پر ہفتہ وار یا ہر دوسرے یا تیسرے یا ہر ماہ دی جاتی ہے ۔ عام طور پر کیمو تھراپی تین سے چھ ماہ تک اسی ترتیب سے دی جاتی ہے لیکن اگر کینسر آخری اسٹیج پر ہو تو اس سے بھی زیادہ مدت کے لئے کیمو تھراپی کی جا سکتی ہے ۔ کیموتھراپی کی ادویات سات طرح کی ہوتی ہیں جو کئی طریقوں سے استعمال کی جا سکتی ہیں۔۔۔ جیسے
• ورید میں (Intervenoue or PICC Line)
• گولیوں یا کیپسول کی صورت میں (Oral)
• جلد کے نیچے انجیکشن لگا کر (Sub-Cutanous )
• کسی پٹھے میں انجیکشن لگا کر ( Interamuscular)
• ریڑھ کی ہڈی کے اردگرد مادے کے اندر انجیکشن لگا کر ( Interaspinal)
• مثانے جیسی کسی جگہ میں (Interabladder)
• ِجلد کے کینسرز کی کچھ اقسام میں کریم کے طور پر ( Tropical)

کیموتھراپی کے اثرات ہی جسم و جان کو ہلانے کو کافی ہوتے ہیں ۔۔ میری آنکھوں میں کئی چہرے ٹھہر سے گئے ۔۔ سائیڈ افیکٹ کی تفصیل بہت ہی لمبی تھی ۔۔میں نے تکلیف محسوس کرتے ہوئے آنکھیں کچھ دیر کو بند کر لیں ۔۔لیکن بیداری کا جو رستہ میں نے چنا تھا اس لیئے جاننا بہت ضروری تھی ۔۔
١. انفیکشن (Infection )
کیموتھراپی ہماے خون میں موجودخون کے سفید خلیات کی تعداد کو کم کر سکتی ہے۔ یہ نیوٹروپینیا کہلاتا ہے۔ یہ انفیکشن ہونے کے امکانات بڑھا دیتا ہے۔
اگر انفیکشن ہو جائے اور مندرجہ زیل علامات ہوں تو ہمیں فورا ہسپتال سے رجوع کرنا چاہیئے
• درجہ حرارت.5 37)
°F°.99.5 )C
یا اس سے زیادہ ہو
• طبیعت اچانک خراب ہو جائے، خواہ آپ کا درجہ حرارت نارمل ہی کیوں نہ ہو۔
• انفیکشن کی علامات خاص طور پر یہ ہوتی ہیں
o گرم یا ٹھنڈا محسوس کرنا
o لرزا محسوس کرنا
o گلا خراب ہونا
o کھانسی ہو نا
o پیچش ہونا
o زیادہ پیشاب کرنے کی ضرورت محسوس ہونا۔
عام طور پر خون کے سفید خلیات اگلی کیمو تھراپی سے پہلے عمومی سطح پر آ جاتے ہیں۔ اسی لیئے ہر کیموتھراپی سے پہلے خون کا ایک ٹیسٹ کیا جاتا ہے ۔ اگر خون کے سفید خلیوں کی تعداد کم ہوئی تو کیمو کو کچھ دنوں کے لئے ملتوی کر دیا جاتا ہے ۔ بعض اوقات ہڈیوں کے گودے میں خون کے سفید خلیے زیادہ بنانے میں مدد دینے کے لیے ایک دوا، جسے
CSF-G
کہتے ہیں، کے انجیکشن لگائے جاتے ہیں۔
٢. خون کی کمی
(Anemia )
۔۔ جس سے مریض تھکا ہوا اور نڈھال رہتا ہے
٣. خون کا رسنا اور بہنا ۔۔۔ خون میں پلیٹلیٹس کی تعداد کو کم کر سکتی ہے۔ پلیٹلیٹس وہ خلیات ہیں جو خون کو جمنے میں مدد دیتے ہیں۔ خون کے کسی بھی قسم کے بے وجہ رسنا شروع کر دیتا ہے جیسے نکسیر پھوٹنا، مسوڑوں سے خون بہنا، خون کے دھبے یا جلد پر سرخ دانے نمودار ہونا شامل ہیں۔
٤. تھکن
٥. الٹی یا متلی آنا
٦. قبض
٧. پیچش
٨. منہ کا ترش ہو جانا
٩. بھوک کی کمی
١٠ . ذائقہ میں تبدیلی
١١. اعصاب پر اثرات
١٢. بال جھڑنا ۔۔۔ اکثر علاج شروع ہونے کے 2 سے 3 ہفتے کے بعد بال جھڑنا شروع ہو جاتے ہیں ۔ کبھی کبھار یہ کچھ دنوں کے اندر ہو سکتا ہے۔ علاج کے چند مہینوں کے بعد بال واپس اگنا شروع ہو جاتے ہیں۔
١٣. خون کےلوتھڑے
(Thrombosis)
۔۔ کینسر اور کیموتھراپی دونوں کی وجہ سے خون کے لوتھڑے بننے کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے۔ خون کے لوتھڑے کی وجہ سے درد، جلد میں سرخی اور سوجن، سانس اکھڑنا اور سینے میں درد ہو سکتا ہے۔
١٤. دیگر ادویات ۔۔۔ بعض ادویات کیمیائی علاج پر اثر انداز ہو سکتی ہیں یا علاج کے وقت نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ اپنے زیر استعمال ہر قسم کی ادویات کے بارے میں بشمول وٹامنز، جڑی بوٹیوں والی دوائیں اور معاون تھراپیز کے بارے میں ضرور بتایئے ۔
١٥. تولیدی اہلیت (Fertility) ۔۔ حاملہ ہونے یا بچے کا باپ بننے صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے
١٦ . مانع حمل ادویات (Conteraceptive) ۔۔ دوران عالج حاملہ نہ ہوں یا بچے کے باپ نہ بنیں۔ کیمو تھراپی نشوونما پانے والے زچہ کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
١٧. جنسی ملاپ (Intercourse) ۔۔۔کیموتھراپی شروع کرنے سے چند دن پہلے جنسی ملاپ کی صورت میں کنڈوم استعمال کرنا پڑے گا تاکہ حمل نہ ٹھہرے ۔
١٨. چھاتی سے دودھ پلانا (Lectation ) ۔۔ دوران علاج چھاتی کا دودھ نہیں پلا سکتے کہ دودھ کے زریعے کیموتھراپی بچے میں منتقل ہو سکتی ہے۔
١٩. میڈیکل اور ڈینٹل علاج ۔۔۔ اپنے ڈینٹسٹ کو ہمیشہ بتائیں کہ آپ کیموتھراپی لے رہے ہیں کہ دواؤں میں ٹکراؤ ممکن ہے ۔
٢٠. سفر ۔۔۔بہتر ہے کہ دوران علاج اور علاج کے کچھ عرصے بعد تک دوران بیرون ملک سفر نہ کیا جائے کیونکہ سفر کے لئے مخصوص ویکسینیں نہیں اور دھوپ جلد کو جلا سکتی ہے ۔
٢١. کیموتھراپی کے دوران کام کرنا ۔۔۔ کیموتھراپی کے دوران کام سے چھٹی لینی پڑے گی ۔ ۔۔کام اور کینسر ساتھ ساتھ نہیں چل نہیں سکتے ۔
کیمو تھراپی کے ساتھ ساتھ ہم خوراک کو نظر انداز نہیں کر سکتے ۔ ماہر غذائیات
Gisela Krause-Fabricius
کے مطابق کینسر سیلز جسم میں پھیلنے کے لیے سب سے زیادہ طاقت شوگر سے حاصل کرتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں کینسر کے مریضوں کی غذا میں جو
fat
شامل ہوتا ہے وہ کینسر سیلز کے پھیلاؤ میں رکاوٹ بنتا رہتا ہے اس لیے ماہر غذائیات
Gisela Krause-Fabricius
کا سرطان کے مریضوں کے لیے مشورہ ہے کہ وہ اپنی غذا میں زیادہ سے زیادہ پروٹین اور کم سے کم شوگر کا استعمال کریں۔ وہ کہتی ہیں، ’کینسر کے مریضوں کے جسم کے میٹابولزم کو عام انسانوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے۔ پھر کینسر کے مریض کے لئے ماحول کا مثبت اور آرام دہ ہونا بھی علاج ہی کی طرح تھا۔
میں سوچ رہی تھی کہ میں اس قدر خوش قسمت ہوں کہ نوکری نہ کر کے بھی کینسر کے علاج کے اخراجات کو برداشت کر سکتی ہوں ۔۔ بہترین معالج میسر تھے ۔۔بہترین ملک میں تھی ۔۔ پھر بھی اتنا کچھ جان کر جیسے جان پر بن آئی تھی ۔۔ میرا سپورٹ نیٹ ورک بھی بہت مظبوط تھا ۔۔ آفتاب اور بچے سائے کی طرح ساتھ تھے ۔۔ دوست احباب ہر دوسرے دن کھانے بنا کر لا رہے تھے ۔۔ میں جس قدر شکر اور شکریہ کرتی کم تھا۔۔ لیکن میرے وطن میں کسی کو کچھ میسر تھا تو کچھ اور میسر نہ تھا ۔۔ دوست بتاتے تھے کہ کینسر کے علاج میں جائیدادیں بک جاتی ہیں ۔۔اف میرے خدا میرے لوگوں پر رحم فرما ۔۔کوئی سبیل کر انہیں اچھا کر دے ۔۔
میں تھکنے سی لگی تھی ۔۔ ریڈیو تھراپی آج نہیں جان پاؤنگی ۔۔ پروفیسر کرس سوہن جب مجھے وارڈ میں بہت زیادہ کام کرتا دیکھتے تو ہنس کر کہا کرتے تھے کہ کلینڈر میں ایک دن ہے جسے ہم “ کل “ کہتے ہیں وہ کل آج بن جائے گا ۔۔باقی کام پھر کر لینا۔۔۔
جاری ہے
ڈاکٹر نگہت نسیم













