حیدر کی کہیں جعفرطیار کی خوشبو۔ بلال رشید

1
181

حیدر کی کہیں جعفرطیار کی خوشبو
تھی سیرت قاسم میں علمدار کی خوشبو

گفتار میں شبیر کی شوکت تھی نمایاں
تھی فقر میں شبر سے حیادار کی خوشبو

ہے آج یہاں تزکرہ پھر ابن حسن کا
محسوس ہوئی ہے مجھے سرکار کی خوشبو

فروہ کے پسر زینب و کلثوم کے پیارے
ہے تجھ میں رچی سید ابرار کی خوشبو

صدقہ ہے یہ قاسم کی جوانی کا بلاشک
باقی جو رہی عابد بیمار کی خوشبو

لاشہ ترا چنتے ہوئے شبیر نے بولا
آتی ہے مجھے بھائی کی دستار کی خوشبو

مجلس میں بلال آپ بھی بیٹھے ہو کہیں پر
آتی ہے یہاں آپ کے اشعار کے خوشبو

سو جان سے نوکر ہے بلال آپ کا مولا

ائے سبط شہہ دین کے کردار کی خوشبو

بلال رشید

SHARE

1 COMMENT

LEAVE A REPLY