حیدر کی کہیں جعفرطیار کی خوشبو
تھی سیرت قاسم میں علمدار کی خوشبو
گفتار میں شبیر کی شوکت تھی نمایاں
تھی فقر میں شبر سے حیادار کی خوشبو
ہے آج یہاں تزکرہ پھر ابن حسن کا
محسوس ہوئی ہے مجھے سرکار کی خوشبو
فروہ کے پسر زینب و کلثوم کے پیارے
ہے تجھ میں رچی سید ابرار کی خوشبو
صدقہ ہے یہ قاسم کی جوانی کا بلاشک
باقی جو رہی عابد بیمار کی خوشبو
لاشہ ترا چنتے ہوئے شبیر نے بولا
آتی ہے مجھے بھائی کی دستار کی خوشبو
مجلس میں بلال آپ بھی بیٹھے ہو کہیں پر
آتی ہے یہاں آپ کے اشعار کے خوشبو
سو جان سے نوکر ہے بلال آپ کا مولا
ائے سبط شہہ دین کے کردار کی خوشبو
بلال رشید














Kia koshboo he wha Subhanullah…