پشاور ریڈیو کی اسٹیشن ڈائریکٹر اورکنٹرولر سیدہ عفت جبار سے پہلی ملاقات

0
1485

خیبر پختونخواہ کی پہلی خاتون اسٹیشن ڈائریکٹر اورکنٹرولر سیدہ عفت جبار سے پہلی ملاقات

چند ماہ پیشتر ریڈیو پاکستان پشاور سے فون آیا۔اسٹیشن ڈائریکٹر صاحبہ آپ سے بات کریں گی۔۔اچھا ملا دیجئے ہم نے حیرانگی چھپاتے ہوے پی اے سے کہا۔پھر سیدہ عفت جبار نے اتنی اپنائیت اور گرم جوشی سے اباسین ادبی ایوارڈ ملنے کی مجھے مبارکباد دی۔کہ ہمیں لگا۔کہ جیسے برسوں پرانی شناسائی ہے۔
میری خود نوشت اور اباسین ادبی انعام پر بات ہوئی تو میں نے کہا۔کہ آپ کے لئے کتابیں بھجواونگی۔انہوں نے کہا آپ جب بھی آئیں۔ایک دن پہلے بتائیے گا۔تاکہ آپ کا انٹرویو بھی ریکارڈ کر لیں۔میں نے حامی تو بھر لی۔مگر سچی بات تو یہ ہے۔کہ خود اپنا تعارف کروانا اور انٹرویو دینا مشکل سا لگتا ہے۔اور میں ہمیشہ خلیل جبران خلیل کا قول دہراتی ہوں۔
کہ میں کبھی لاجواب نہیں ہوا۔مگر اس شخص کے سامنے جس نے مجھ سے پوچھا تو کون ہے؟
دوسرا نومبر دسمبر بھتیجوں کی شادی اورہلا گلا میں گزر گئے۔فروری میں یاد آیا۔سیدہ عفت جبار کو کتابیں دینی ہیں۔فون کرنا چاہا تو نمبر ندارد۔کاروان حوا کی چئیر پرسن بشری فرخ سے نمبر لے کر فون پربات کی۔انہوں نے خوشدلی سے کہا آجائیں۔ریڈیو پاکستان پشاورکی سالگرہ ہے بہت مصروف ہوں۔مگر آپ کے لئے ٹائم نکالتی ہوں۔آپ 4بجے تک آجائیں۔مگر پھر یوں ہوا۔کہ صبح بھائی کے گھر بہت اہم مہمان آگئے۔پھر ہم انکے ساتھ باہر چلے گئے۔گھر واپس پہنچے تو 5بج چکے تھے۔یاد آیا تو سوچا کہ اب حیات آباد سے ریڈیو اسٹیشن جاتے جاتے تو گھنٹہ لگ ہی جاے گا۔اور ویسے بھی اب تو دفتر کی چھٹی بھی ہوگئ ہوگی۔خیر خود کو خود ہی تسلی دی۔کہ پی اے کا فون نہیں آیا۔
پاوں پسار کر اطمینان سے بیٹھے ہی تھے۔کہ مغرب کے وقت پی اے ٹو ایس ڈی صاحب کا فون آگیا۔میڈم انتظار کر رہی ہیں۔اچھا اچھا میں آرہی ہوں۔شرمندگی سے بری حالت تھی۔بھتیجے حیدر کوکہا کہ چلو مجھے لے چلو۔تو کہنے لگا۔یہ تو رش کا ٹائم ہے۔ہمارے پہنچتے پہنچتے بہت دیر ہوجاے گی۔معذرت کر لیں۔نہیں میں بہت شرمندگی محسوس کر رہی ہوں۔چلو جلدی کرو۔ہم جس حال جن کپڑوں میں تھے روانہ ہوگئے۔ریڈیو اسٹیشن پہنچے تو رات اپنی سیاہ زلفیں پھیلا چکی تھی۔اور ریڈیو پاکستان کی وسیع وعریض عمارت چپ کی چادر اوڑھے ہوے تھی۔ہم ریلنگ کے سہارے تیزی سے سیڑھیاں چڑھ گئے۔حالانکہ عام حالات میں سیڑھیاں دیکھ کر ہی ہمت حوصلے جواب دے جاتے ہیں۔
ایس ڈی صاحبہ کے دفتر گئے تو میز پر چاے اور لوازمات لگے ہوے تھے۔آپ چاے پیجیے۔میڈم سٹوڈیو میں ہیں، آتی ہیں۔تھوڑی ہی دیر میں وہ ہنستی مسکراتی ہوئی آئیں اور بڑی گرم جوشی اور محبت سے سواگت کیا۔سب سے پہلے رنگ برنگے پھولوں سے مزین بوکے دیا۔پھر بہت سلیقے سے پیک شدہ کتابوں کا تحفہ دیا۔
ہم نے بھی انہیں اپنی کتابیں پیش کیں۔
ریڈیو پاکستان پشاور کی87 سالہ تاریخ میں پہلی خاتون ہیں جنہیں اسٹیشن ڈائریکٹر اور کنٹرولر کے عہدے پر فائز ہونے کا اعزاز حاصل ہے انہوں نے بچوں کے پروگرام میں چائلڈ اسٹار سےاس سفر کا آغاز کیا تو پھر پیچھے مڑکرنہیں دیکھا۔ریڈیو سے محبت، لگن، جستجو اور محنت سے وہ آج اس عہدے پر متمکن ہیں۔
سیدہ عفت جبار کاتعلق ایک علمی وادبی خانوادے سے ہے۔ان کی نانی علیگڑھ سے فارغ التحصیل تھیں۔وہ فرانٹیر کالج کی پرنسپل بھی رہیں۔عفت جبار کے والد سید عبدالجبار صاحب ریڈیو کے معروف براڈ کاسٹر اور پروڈیوسر تھے۔تو ان کے گھر دبستان پشاور کے ادبا ءوشعرا کا آنا جانا لگا رہتا۔عفت نے بیتے دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی والدہ انہیں اور انکے بہن بھائیوں کو گھر آئے مہمانوں کے لئے ٹرے سجا کر دیتیں۔کہ بیٹھک میں دے آو۔یوں بچپن ہی سے ادبا ءوشعرا کوسننے، دیکھنے اورفیض پانے کاموقع ملا۔ماں کی تربیت نے ٹرے دے کر مہمان نوازی کا درس دیا۔بقول سیدہ عفت کے ان کی ماں نے قدم قدم پر ان کی ہمت بندھائی۔حوصلہ دیا۔ان کے والد ان کے رول ماڈل ہیں۔جن کی بڑی سی تصویر انہوں نے اپنے دفتر میں لگا رکھی ہے۔جو انہیں آمادہ سفر رکھتی ہے۔نئ منزلوں کی جستجو اورستاروں سے آگے جہاں ڈھونڈنے کی ترغیب دلاتی ہے۔
میرے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مردوں کے اس معاشرے میں کسی بھی خاتون کو چاہے وہ جس عہدے پر بھی فائز ہو۔دگنی محنت کرنی پڑتی ہے۔کامیابی وکامرانی کا کوئی بھی سفر آسان نہیں ہوتا۔
نامی کوئی بغیر مشقت نہیں ہوا
سوبار جب عقیق کٹا تب نگیں ہوا
والد کی تصویر کی طرف پیار سے دیکھتے ہوئے کہا کہ مجھے اپنے والد گرامی کے نام کابھی خیال رہتا ہے۔کہ میرا ہر عمل ان کے نام اور عزت میں اضافے کا باعث ہو۔عفت جبار بہت روانی تصنع سے پاک مزے کی گفتگو کرتی رہیں۔کہ دل چاہا کہ وہ کہیں اور سنا کرے کوئی کے مصداق سنتے رہیں۔حیدر بھی ہمہ تن گوش تھا۔عفت اس سے بھی اس کی دلچسپی کے موضوعات پر گفتگو کرتی رہیں۔ہم ابھی کچھ دیر اور بھی گفتگو کرتے مگر گھر سے فون آنے لگے۔ہم نے پھر ملنے، انٹرویو دینے کا وعدہ کرکے اجازت چاہی۔انہوں نے باہر تک آکر رخصت کیا۔حیدر نے اور ان کے پی اے نے ان لمحات کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا۔۔
گاڑی میں بیٹھے تو حیدر نے تعریف کرتے ہوئے کہا پھپھو اچھا ہوا آپ آگئیں ۔
جوابا میں نے حیدر کو ڈھیروں دعائیں دے ڈالیں۔کہ پشاور میں جہاں بھی جانا ہو حیدر ہمیشہ میرا ساتھ دیتا ہے۔جیتے رہو شہزادے
نصرت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY