اوج پہ اپنے مقدر کا ستارا ہے نا
ہم سے وہ دور سہی پھر بھی ہمارا ہے نا
میں اکیلی ہی سہی راہ بھی دشوار سہی
ساتھ میں تیرے تصور کا سہارا ہے نا
یہ صبا آکے مرے گرد جو منڈلاتی ہے
تونے طوفاں میں مرا نام پکارا ہے نا
میری تصویر کے پھر ناز اٹھانے کے لیے
تم نے دیوار سے پھر آج اتارا ہے نا
نام جو آج مرے نام سے منسوب ہوا
وہ حسیں نام مرے ساتھ تمہارا ہے نا
وہ جو زرؔیاب کبھی میرا گماں ہوتا تھا
آج وہ شخص، مرا سارے کا سارا ہے نا
ہاجرہ نور زریاب آکولہ مہاراشٹر انڈیا











