وہ جو زرؔیاب کبھی میرا گماں ہوتا تھا

0
826

اوج پہ اپنے مقدر کا ستارا ہے نا
ہم سے وہ دور سہی پھر بھی ہمارا ہے نا

میں اکیلی ہی سہی راہ بھی دشوار سہی
ساتھ میں تیرے تصور کا سہارا ہے نا

یہ صبا آکے مرے گرد جو منڈلاتی ہے
تونے طوفاں میں مرا نام پکارا ہے نا

میری تصویر کے پھر ناز اٹھانے کے لیے
تم نے دیوار سے پھر آج اتارا ہے نا

نام جو آج مرے نام سے منسوب ہوا
وہ حسیں نام مرے ساتھ تمہارا ہے نا

وہ جو زرؔیاب کبھی میرا گماں ہوتا تھا
آج وہ شخص، مرا سارے کا سارا ہے نا

ہاجرہ نور زریاب آکولہ مہاراشٹر انڈیا

SHARE

LEAVE A REPLY