سالٹ اینڈ پیپر ریسٹورنٹ میں محترمہ شہناز نقوی کی کتاب جو گزر گی وہ حیات ہےکی تقریب رسم اجراء لاہور کے ایک ہوٹل میں منعقد ہوئی ،تقریب کی نظامت شاھین اشرف علی نے کی ۔ سب سے پہلے محترمہ عطرت بتول صاحبہ نے قرآن پاک کی شاندار تلاوت کی پھر شاھین اشرف علی نے نعت رسول مقبول پیش کی اور پروگرام کے پہلے مقرر رضا نعیم صاحب تھے ،س کے بعد سید آغا علی نے شہناز نقوی کی کتاب جو گزر گی وہ حیات ہے پر گفتگو کی ،تقریب کی اگلی مقررہ معروف ماہر تعلیم رائٹر محترمہ کنول بہزاد صاحبہ تھیں کھلتے ہیں اندھیرے میں اجالوں کے دریچے آتی ہے سحر رات کی منزل سے گزر کر محترمہ منیبہ عصیم صاحبہ کو دعوت کلام دی گئی
دیگر ادبی حوالے کے ساتھ عصیم لائیبریری کی بنیاد رکھنے والی معروف ادبی شخصیت ھیں
ان کے بعد بہاو الدین زکریایونیورسٹی کی صدر شعبہ اور انقرہ یونی ورسٹی میں پڑھانے والی پروفیسر ڈاکٹرعقیلہ جاوید نے بہت اچھی گفتگو کی شہناز نقوی کے ساتھ انکا پرانی وابستگی اور بہت ساری خوبصورت یادیں پر مشتمل باتیں شئیر کی
پروگرام. کے اگلے مقرر جناب غلام حسین ساجد صاحب نے صاحب کتاب شہناز نقوی کے بارے میں گفتگو کی اور بہت داد پائی۔
اس کے بعد لاہور میں مقیم شعر و ادب کی دینا میں معروف شخصیات محترمہ نیلم احمد بشیر صاحبہ جو اپنی خوبصورت گائیکی کے ساتھ اپنی شاندار کتابوں کی اشاعت اور دیگر ادبی خدمات کی وجہ سے بہت معروف ہیں انکو بہت محبت و عقیدت کے ساتھ دعوت کلام دی گی
مقررین نے شہناز نقوی کی اس خصوصیت پر بہت بات کی کہ انھوں شادی کے بعد اعلی تعلیم حاصل کی اور گھر والوں کی بے پناہ تریف و توصیف کے ساتھ اعلی تعلیمی مدراج اور اپنی چوتھی کتاب مکمل کی
نیلم احمد بشیر کے بعد محترمہ سلمی اعوان صاحبہ نے شہناز نقوی کی تخلیقی صلاحیتوں کو بہت سراہا اور انکو چوتھی کتاب کی اشاعت پر بہت مبارک باد پیش کی ،سلمی اعوان صاحبہ کے بعد اس محفل کی بہت خاص شخصیت محترمہ شہناز نقوی کو دعوت کلام دی گی ،تخلیق کار اس کار جنوں کے لیے لہو سے چراغ جلاتا ہے انکا کہنا تھا کہ
شادی کے بعد انھوں نے دوبارہ تعلیم کا سلسلہ شروع کیااور تعلیم کے ساتھ اپنے شوہر کی راہنمائی میں لکھنے کا آغاز کیامملتان کی حسن پرواہ کالونی میں انکا خوب ادبی سفر شروع ہوَا
دشوار ہے اگرچہ بہت زندگی مگر
ہوتی ہے پیار ملنے سے آساں کبھی کبھی
ڈاکٹر بجیب جمال ادبی دنیا کا بہت معروف نام ہے انکا تعلق بھی ملتان سے ہے
شہناز نقوی ایک زمانے سے لکھ رہی ہیں ملتان کی ادبی فضاوں میں شہناز نقوی کا نام بہت ممیز ہے ملتان سے بہت بڑے نام موجود تھے حریم فن میں ہم حضرات بھی جاتے تھے
اصغر ندیم سید صاحب ادبی اورعلمی فضاوں کے بارے میں امروز میں لکھتے تھے شہناز نقوی کے بچپن کاذکر بہت خوبصورت انداز میں کیا گی تقریب کے اخری
مقرر جناب اصغر ندیم سید تھے انکی زندگی کا بہت بڑا حصہ ملتان کی ادبی فضاوں میں گزراہے ،اصغر ندیم سید صاحب نے بہت عمدہ گفتگو کی ،ملتان کے حوالے سے ادبی سفر کا احوال سنایا اور شہناز نقوی کی کتاب کی اشاعت پر بہت مبارک باد پیش کی
پروگرام کے اختتام پر تمام مہمانوں کی ڈنر سے تواضع کی گئی
رپورٹ۔شاہین رضوی













