نصؔیر ترابی نے اردو غزل کو معیار،وقار, اعتبار بخشا :- ڈاکٹر رخسانہ صؔبا

0
1084

آئیں گے لوٹ کر کہاں بیتے دنوں کے کارواں
گرد بھی ساتھ لے گئے ناقہ سوار و سارباں

نصؔیر ترابی نے اردو غزل کو اعلی معیار،وقار اور اعتبار بخشا

 ڈاکٹر رخسانہ صؔباء ,کراچی

مختار مسعود نے کہا ہے
“قحط میں موت ارزاں ہوتی ہے اور قحط الرجال میں زندگی”

اس وقت قلم قبیلے کو قحط میں نہ سہی وبا میں سہی، موت کی ارزانی کا بھی سامنا ہے اور قحط الرجال کا سامنا تو ہم برسوں سے کر رہے ہیں۔ایک ایک کرکے بڑے لوگ، خلاق ذہن اور مردہ لفظوں کو حرمت اور زندگی عطا کرنے والے تخلیق کار رخصت ہوتے جاتے ہیں اور یہ خلا بڑھتا ہی جاتا ہے۔ایسے میں نصیر ترابی جیسے شاعر، ناقد اور زبان و ادب کے پارکھ کا ہمارے درمیان سے اٹھ جانا ایک اور سانحہ ہے۔نصیر ترابی کا شمار ان گنے چنے تخلیق کاروں میں ہوتا ہے جنھوں نے اردو غزل کو روایت اور جدت کے امتزاج کے ساتھ معیار، وقار، ترفع اور اثر انگیزی سے ہم کنار کیا ۔نصیر ترابی غزل کی کلاسیکی روایت کے زبردست پاس دار تھے اور فنی معاملات پر ان کی گرفت بڑی مضبوط تھی لیکن اس کے باوجود ان کی غزل اپنے عصر سے جڑی ہوئی اور جدید طرز احساس کی حامل ہے ۔شخصی اعتبار سے بھی وہ ایک رچی ہوئی تہزیبی شخصیت کے حامل تھے مشاعروں اور مجلس آرائیوں سے دور رہنے والے اور اپنے نقطہء نظر پر حوصلہ مندی اور جراءت کے ساتھ قائم رہنے والے تھے۔ان کی وفات پر انھی کے چند اشعار ان کی نذر ۔

آئیں گے لوٹ کر کہاں بیتے دنوں کے کارواں
گرد بھی ساتھ لے گئے ناقہ سوار و سارباں

خاک ہے کوئے دلبراں خواب ہے شہر دوستاں
اس کے سوا ہے اور کیا اجرت عمر رائیگاں

کل بھی رہیں گی فرصتیں کل پہ رکھو مسافتیں
آؤ نصیر گھر چلیں رات ڈھلی کشاں کشاں

نؔصیر ترابی تو اپنے حقیقی گھر چلے گئے لیکن
اب وہ فرصتیں میسر نہیں ہوں گی کہ نئے لکھنے والے ان کے علم و فن سے استفادہ کرسکیں۔

سوگوار:- ڈاکٹر رخسانہ صباء ۔ کراچی

SHARE

LEAVE A REPLY