فروری5 , 2020
” عالمی وبایئں “
” امریکی وبایئں “

میری حیرت کی انتہا نہ رہی
صدی 16ویں میں اوربہت سی وبائیں پھیلیں
جو امریکی وبایئں کہلایئں
کہتے ہیں
یورپی باشندے
ان وباؤں کے وائرس کو
شمالی ، وسطی اور جنوبی امریکہ لے کر گئے تھے
ان وباؤں میں چیچک ، جذام بھی شامل تھیں
وباؤں نے مل کر مغربی نصف کرہ ایسے سنبھالا
کہ ۔۔ اِنکا ‘ اور ’ ایزٹیک ‘ تہذیبوں کا نشان تک مٹا ڈالا
اور۔۔ یورپ نے 1519 میں ہسپانوی ‘ ایزٹیک ‘ لوگوں پر فتح حاصل کر لی
وبایئں بھی عجیب ہیں
کوئی مر گیا تو کوئی مٹگیا تو کوئی جیت گیا !
———————————————-
” برطانوی وبایئں “

صدی 17 میں جب برطانیہ اپنی نئی بستیاں بسا رہا تھا
اپریل 1665 میں
لندن میں چوہوں میں پڑے کیڑوں سے ایک وبا اٹھی
ایک لاکھ لوگ لقمہ اجل بن گئے
لندن کی پندرہ فیصد آبادی ویران ہو گئی
بادشاہ چارلس دوم سمیت بہت سے لوگ لندن چھوڑ گئے
2 ستمبر 1666 میں لندن میں ایسی لگی آگ
جو چار روز تک جلتی رہی پر اچھا ہوا کہ وبا ٹل گئی
سوچ رہی ہوں
آسٹریلیا کی آگ
جو جون 2019 سے دہک رہی ہے
کیا کورونا وائرس کی وبا کو ٹال سکے گی ؟
——————————-
” فرانسیسی وبایئں “

اٹھارویں صدی کی دوسری دہائی تھی
یعنی 1720 میں فرانس کے شہر مارسیلز میں
ایک بحری کارگو جہاز لنگر انداز ہوا
جو مشرقی بحیرہ روم سے مارسیلز سامان لے کر آیا تھا
بلکل ویسا ہی ہوا جیسے لندن میں ہوا تھا
وائرس سے بھرے چوہے شہربھر میں گھس گئے
ایک لاکھ لوگ لقمہ اجل ہو گئے
مارسیلز کی 30 فیصد آبادی ویران ہو گئی
میں اپنے خیالوں میں
دیکھ رہی ہوں
حسن کا شہر مارسیلز
کیسے
بھوتوں کا بسیرا ہو گیا
کیا
کورونائی صدی
مارسیلز کی تاریخ دہرانے والی ہے !
” روسی وبایئں “

اٹھارویں صدی کی ساتویں دہائی تھی
یہ 1770 کا سال تھا ۔۔ شہر ماسکو تھا
اچانک طاعون پھیل گیا
لوگوں کو گھروں میں رہنے اور گرجا گھروں میں اکٹھے نہ ہونے کا فرمان جاری ہوا
پھر بھی ۔۔۔
ماسکو میں ایک لاکھ لوگ طاعون کی نذر ہو گئے
سوچ رہی ہوں
اگر کورونا وائرس
طاعون سے زیادہ ظالم نکلا
تو ۔۔۔۔۔۔ ؟؟
—————————————–
” زرد بخار فیلیڈلفیا “
فیلیڈلفیا اور امریکہ پر 1793 بڑا بھاری گزرا
” زرد بخار ” مچھروں کی وجہ سے پھیل رہا تھا
اس برس سردیاں آنے تک پچاس ہزار سفید فام مر گئے
یوں ۔۔ پہلی بار
امریکہ میں سیاہ فام نرسیں رکھی گئی تھیں
میری جنت مکانی امی جی کہا کرتیں
بارہ سال بعد تو “روڑی “کی بھی سنی جاتی ہے
کاش انسان زعم برتری میں
کسی کو روڑی نہ سمجھا کرے
اور ۔۔۔۔
ہم سب وباؤں سے محفوظ رہیں
—————————————-
” فلو کی پہلی عالمی وبا “
بھلا 1889 میں کون جانتا تھا
صنعتی ترقی
ریل اور سڑکوں کا نظام
باربرداری و مسافروں کی آمدورفت
کوئی طوفان لا سکتی ہے
اور طوفان بھی ایسا ۔۔ اللہ اللہ
فلو کی وبا صرف پانچ ہفتوں میں
’ سینٹ پیٹرزبرگ ‘ سے
روس ، یورپ اور باقی دنیا میں پھیل گئی
یوں جیسے
زمین کی سانسیں کھینچ دی گئی تھیں
جانے انسانوں کو
ترقی کرنے پر سزا ملی تھی
یا
وسائل کی نا انصافی پر
انتباہی اشارہ ہوا ہے !
—————————————-
” پولیو کی وبا “
پہلی عالمی جنگ 1914 سے 1917 تک جاری رہی
حیران کن بات ، امریکہ شامل جنگ نہ تھا
پولیو کی وبا نے 1916 میں امریکہ کو ایکبار پھر ہلا کر رکھ دیا
نیویارک میں 27000 لوگ پولیو سے متاثر تھے
اور 6000 افراد جان سے جا چکے تھے
امریکہ کو پولیو سے نجات پانے میں 25 سال لگ گئے
پر پاکستان ، افغانستان اور نائیجریا
ایسے ملک ہیں
جہاں پولیو کے قطرے ابھی بھی ناکافی ہیں
آج بھی
ہر سال ۔۔ دنیا بھر میں
دو لاکھ بچے پولیو کی زد میں آ ہی جاتے ہیں
کاش ۔۔۔ وبایئں
تعلیم و تربیت بھی کر سکتیں
———————————————–
فروری,6 2020
” فلو کی دوسری عالمی وبا , ہسپانوی فلو “
پولیو کی وبا کے دو سال بعد
یعنی 1918 میں یورپ سے فلو کی وبا ایکبار پھر پھوٹی
جو دو سال تک دنیا بھرمیں کہرام برپا کرتی رہی
پانچ سو ملین لوگ متاثر ہوئے ، 100 ملین جان سے گئے
چھوٹی قومیتیں تو صفحہ ہستی سے ہی مٹ گئیں
اف ۔۔
یہ وبا تھی کہ پانی پت کی جنگیں
کاش میرے لوگ
میری التجا کو سن لیں
ہر سال فلو کی ویکسین لگوا لیا کریں
صحت والی زندگی ہی تو نعمت ہے
—————————————–
” فلو کی تیسری عالمی وبا , ایشین فلو “
فروری 1957 میں
سنگاپور میں فلو کی وبا پھیلی
ایوین فلو وائرس فارموں میں پرورش پانے والی مرغیوں میں ملا تھا
اپریل تک فلوہانگ کانگ کو متاثر کر گیا
پھر گرمیوں میں امریکہ کے ساحلی علاقوں تک جا پہنچا
دنیا میں 11 لاکھ لوگ ایشین فلو سے مر گئے
ہائے ۔۔
وبا میں مرنا کتنا آسان ہوا ہے!
” ایڈز کی عالمی وبا “
انیسویں صدی کی 8 ویں دہائی کا استقبال
’ ایڈز ‘ کی عالمی وبا نے کیا
1920 میں پتہ چلا
ایچ آئی ویHIV وائرس بندروں کی قسم ’ چمپینزی ‘میں تھا
ایڈز 1981 ء سے اب تک 35 لاکھ لوگوں کی جان لے چکی ہے
اور تاحال اس کی کوئی ویکسین ایجاد نہیں ہو سکی ہے
میرے کئی مریض ہیں
جنہیں ایڈز ہے
روشن خیال مغرب میں بھی
ایڈز پر بات کرنا جوئے شیر لانے جیسا ہے
میں دیکھ رہی تھی
مشرق اور مغرب
دونوں ہی وباؤں پر بات کرنے سے گریزاں رہتے ہیں
بات حد سے بڑھتی ہے تو خبر لیتے ہیں
اس بار بھی
جو ناول کورونا وائرس کی خبر لینے میں دیر کر دی
تو ۔۔۔ ؟
——————————————
” فلو کی چوتھی عالمی وبا , سوائن فلو “
دوہزار نو میں
دنیا بھر میں سوائن فلو سے
ایک ارب سے زائد لوگ متاثر ہوئے
پانچ لاکھ ہلاک ہوگئے
اس فلو نے سب سے زیادہ بچوں اورجوانوں کو بیمار کیا
صد شکر
آج ویکسین بن چکی ہے
جو سال میں ایک بار لگوائی جاتی ہے
خدا خیرکرے
کورونا وائرس سے
بچے ، بوڑھے اور بیمار متاثر ہو رہے ہیں
پر ابھی تک
نہ اس کا علاج ملا اور نہ ہی ویکسین
عام انسان
شاید سوچ نہ پائے
ناول کورونا وائرس بستیاں اجاڑسکتا ہے
اف ۔۔ خدا نہ کرے !
—————————————————
” ایبولا وبا “
پہلی بار ایبولا وائرس
کانگو اور سوڈان میں 1976 میں دریافت ہوا تھا
دوسری بار 2014 میں
مغربی افریقہ میں ظاہر ہوا
اور دو سال کے اندر ہی
گنی بساؤ ، لائیبریا ، سیرا لیون سے
نائیجریا ، مالی ، سینی گال ، امریکہ اور یورپ تک پھیل گیا
پچاس ہزار لوگ متاثر ہوئے اور 11ہزار جان سے گئے
خدا نہ کرے
جو تیسری بار ایسا ہو
کیسے بچا جائے گا
اب تک اس کی کوئی ویکسین جو نہیں ہے
———————————–
” زیکا وبا . ڈینگی بخار “
جنوبی اور وسطی امریکہ میں
ایک ایسا بخار پھیلا
جس سے
خون بننے اور مدافعت کا نظام ابتر ہو گیا
یہ بخار گرم مرطوب موسموں میں
مچھروں میں پائے جانے والے وائرس سے ہوا
ان بخارکو 1979 میں ڈینگی کا نام دیا گیا
ڈینگی بخار سے 1990 کے آخر تک 40 لاکھ لوگ مر گئے
ڈینگی بخار کی وبا دوسری بار اگست 2006 میں آئی
اور ستمبر تک دنیا کے ایک سو ملکوں میں پھیل چکا تھا
مجھے یاد ہے
اکتوبر 2006 میں
امی جی نے لندن سے فون پر بتایا تھا
کراچی ( پاکستان ) میں
میری بہن نزہت نسیم شدید بیمار ہے
آغا خان ہسپتال میں موت سے لڑ رہی ہے
میں وہ دن نہیں بھول سکتی
ابھی بھی جیسے پاؤں تلے زمین نکل گئی ہو
نزلہ زکام، بخار، سر درد، منہ اور ناک سے خون آیا تھا
اسے ڈینگی بخار ہوا تھا
اس وقت تو کچھ سمجھ نہ آیا کہ کیسے ہوا ہے
بعد میں ۔۔۔ پتہ چلا
ڈینگو وائرس پھیلانے والے اڑتیس اقسام کے مچھر ہیں
پاکستان میں ان میں سے صرف ایک قسم کا مچھر پایا جاتا ہے
وہی ڈینگی بخار کا موجب بنا ہے
خدا جانے ۔۔۔۔
” ناول کورونا وائرس” کی کتنی اور اقسام ہونگی
جیسے ہر سال
دنیا کی چالیس فیصد آبادی ڈینگی بخار سے متاثر ہوتی
پانچ کروڑ کیسزمیں پندرہ ہزار افراد ہلاک ہو جاتے ہیں
ایسے ہی
اگر ناول کورونا وائرس ہوا ۔۔۔۔ تو ؟
ستم یہ کہ دونوں ہی
کوئی ویکسین نہیں بن سکی ہے !
————————————-
” برصغیر کی وبایئں “
ملیریا ۔۔ ہیضہ ۔ ۔ ٹی بی اور بھوک
آہ ۔۔۔
1942 کا قحط
1943 کا قحط
تیس لاکھ ہندوستانی ہیضے اور بھوک سے مر گئے تھے
اف ۔۔
کسے خبر تھی
اکیسویں صدی کی دوسری دہائی ہوگی
پوری دنیا کو
کورونائی وبا درپیش ہوگی
کہیں ایسا تو نہیں
بے خبری
ہمارا مذاق اڑانے والی ہو
انسانی عمر
زندگی کے اسٹیج پر
آخری دکھ
سہنے کی تیاری کر رہی ہو !
ڈاکٹر نگہت نسیم













