سخن وری کا مہتاب غالب

دلِ ناداں تُجھے ہُوا کیا ہے

آخر اِس درد کی دوا کیا ہے

ہم ہیں مُشتاق اور وہ بیزار

یا الہٰی یہ ماجرا کیا ہے

ادب، فن و ثقافت اور لسانیات کے شعبوں سے تعلق رکھنے والی کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کے اس دنیا سے گزر جانے کے بعد بھی اُن کی خدمات کے سبب انہیں ہمیشہ یاد کیا جاتا ہے۔ ایسے لوگ اپنے فکری سرمائے، اپنی ناقابل فراموش تحریروں یا اپنی ہمیشہ روشنی پھیلاتی ہوئی شاعری اور فن کے ذریعے زندہ رہتے ہیں۔

برصغیر کی تاریخ کے اہم ترین ابواب میں سے ایک وہ باب ہے جس کا تعلق اس خطے میں جنم لینے والی ایک ایسی ثقافت سے ہے جس میں بہت سی قدیم تہذیبوں کا رنگ اور مختلف زبانوں کی چاشنی پائی جاتی ہے۔ انیسویں صدی میں برصغیر میں ایک ایسی زبان جو ارتقائی منازل طے کر لینے کے بعد اپنے جوبن پر تھی، کو عالمی سطح پر نہ صرف مقبولیت حاصل ہوئی بلکہ اسے ایک خوبصورت گلدستے کی طرح ہر محفل کی زینت بنایا جانے لگا۔ یعنی اُردو زبان نے بہت کم وقت میں اپنی خوشیو بہت تیزی سے پھلائی۔ اس سب کا سہرا اُردو کے بہت سے قد آور ادباء اور شعرا کے سر بھی ہے۔

غالب کی سب سے بڑی خوبی تو یہی ہے کہ وہ کسی بھی مضمون کو کچھ اس انداز سے پیش کرتے ہیں کہ قاری یا سامع خود بخود اس کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے۔ اس بات کا خود غالب کو بھی اندازہ تھا کہ ان کا طرزِ اظہار دوسروں سے یکسر جداگانہ ہے اور وہ اپنے انداز بیان کا فخریہ اظہار بھی کرتے ہیں۔

ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے

کہتے ہیں کہ غالب کا ہے اندازِ بیاں اور

یوں تو بہت سے شاعروں نے اُردو کی ترقی اور اس کی عالمی شہرت میں اہم کردار ادا کیا ہے تاہم اُردو شاعری میں پائی جانے والی چند بنیادی خصوصیات کو اس زبان اور اُردو لسانیاتی ثقافت کا منفرد اورانوکھا حصہ بنانے میں اسد اللہ خان غالب کی جو خدمات ہیں اُن کا ذکر گویا چھوٹا مُنہ اور بڑی بات ہے۔

آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں

غالب صریر خامہ نوائے سروش ہے

غالب ایک شاعر ہی نہیں ایک فلسفی بھی تھے۔ انہوں نے فطرت کا نہ صرف بغور جائزہ کیا بلکہ اُس کے مظاہر کو بھی اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔

سبزہ و گُل کہاں سے آئے ہیں

ابر کیا چیز ہے، ہوا کیا ہے

مرزا اسد اللہ خان غالب کے اکثر اشعار ایسے ہیں جن کو پڑھنے والا فلسفے اور فکر کی گہرائی میں ڈوب جاتا ہے اور ان اشعار کو جتنی بار پڑھا جائے ان میں سے ایک نیا پہلو اور نیا فلسفہ سامنے آتا ہے۔ مثال کے طور پر

نقش فریادی ہے کس کی شوخیٍ تحریر کا

کاغذی ہے پیراہن ہر پیکر تصویر کا

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن

دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن

خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک

غالب کی ذاتی زندگی بھی تلخیوں اور محرومیوں کی زنجیر ہے۔ بچپن میں باپ کی موت، چچا کی پرورش، پھر ان کی شفقت سے بھی محرومی، تیرہ سال کی ناپختہ عمر میں شادی کا بندھن، بیوی کے مزاج کا شدید اختلاف، قرضوں کا بوجھ۔ ان سب نے غالب کو زمانے کی قدرشناسی کا شاکی بنا دیا۔

زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالب

ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے

مزید براں کائنات اور مناظرِ قدرت کے حسن اور محبوب کی خوبصورتی پر غالب نے غائرانہ نظر ڈالی ہے۔ پھر رمز یہ اور طنزیہ انداز میں انہوں نے اپنی غزلوں میں جو جمالیاتی حسن پیدا کیا ہے وہ ان کی تخلیقی ہنرمندی کی دلیل ہے۔ قدرتی مناظر کاذکر کرتے وقت غالب کے یہاں تصوف کا پہلو ابھرتا ہے اور محبوبِ مجازی کا ذکر اپنی مثال آپ ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ عشق ایک آفاقی موضوع ہے اور اس موضوع کو تمام تر زبانوں کے شعرا نے اپنے اپنے انداز میں پرکھا، برتا اور باندھا ہے۔ اردو شاعری میں عشق سے متعلق ا اتنا بڑا سرمایہ موجود ہے کہ اس پر پوری پوری کتابیں لکھی جاسکتی ہیں۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ غالب کی شاعری میں عشق و محبت کا جذبہ اپنی مختلف صورتوں میں جلوہ افروز ہے۔ کہیں پہ وہ شوخی سے کام لیتے ہیں تو کہیں وہ نفسیاتی پہلووں کو اجگر کرتے ہیں اور اس امر سے یہ پتہ چلتا ہے کہ غالب شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ انسانی نفسیات کے نباض بھی ہیں۔کبھی وہ دوسرے عاشقوں پر طنز کرتے ہیں اور کبھی اپنے جذبہ عشق اور دیوانگی کو بلند مقام عطا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر :

عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تاب

دل کا کیا رنگ کروں خونِ جگر ہونے تک

عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا

درد کی دوا پائی، دردِ بے دوا پایا

عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی

میری وحشت میری شہرت ہی سہی

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ غالب نے اردو غزل کی روایتی طرز اظہار کو خیر باد کہہ کر اپنا نیا اندازِ بیان پیدا کیا ہے۔ ان کے یہاں استعاروں اور تشبیہوں کا برمحل اور برجستہ استعمال ملتا ہے۔ انہیں صنائع و بدائع پر دسترس حاصل ہے۔ زبان و بیان میں توانائی کے ساتھ روانی، برجستگی، سلاست اور سادگی کے ساتھ کبھی کبھی مشکل پسندی اور فکرو تصوف کے ساتھ طنز و ظرافت کی آمیزش ان کی انفرادیت کا ثبوت ہے۔ غالب کی غزلوں میں مضامین کا تنوع ، زورِ بیان اور دلکش زبان، سادہ و مشکل الفاظ کا التزام ، روایت و جدت کا حسین امتزاج ، انسانی جذبات ، مشاہدات اور تجربات کی خوبصورت پیش کش ، زندگی کے نشیب و فراز نیزغم و نشاط کے دونوں پہلو بلا تصنع اور صنائع و بدائع کا اہتمام اس قدر پر کیف انداز میں ملتا ہے کہ کسی دوسرے شاعر کے یہاں ناپید ہے۔ یہی سبب ہے کہ غالب کے کئے اشعار زبان زدِ خلائق ہو گئے اور آج تک لوگوں کے دلوں کو مسحور کرتے ہیں۔

غالب کی شاعری میں نکتہ آفرینی پائی جاتی ہے۔ غالب عام روش سے ہٹ کر چلنا پسند کرتے تھے۔ انہوں نے لفظی سے زیادہ معنو ی نکتہ آفرینی پر زور دیا۔ ان کی نکتہ آفرینی سلاست، گہرائی اور معنویت سے پُر ہے۔ اس میدان میں غالب نے نمایاں کامیابی حاصل کی۔

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

بہت نکلے مرے ارمان لیکن، پھر بھی کم نکلے

غالب نے اردو کے علاوہ فارسی اور ترکی میں بھی شاعری کی تاہم انکی وجہ شہرت اردو شاعری بنی، غالب اردو شاعری کے وہ کردار ہیں جن پر بے شمار تحریریں لکھی گئیں، سینکڑوں فلمیں ڈرامے اور اسٹیج شوز تیار ہوئے جبکہ پر اثر شاعری کی بدولت بے شمار فلموں کو عوامی پذیرائی ملی۔

ہیں دنیا میں اور بھی سخن ور بہت اچھے

کہتے ہیں غالب کا ہے اندازِبیاں اور

مرزا غالب(1797-1869)اردو زبان کے سب سے بڑے شاعر سمجھے جاتے ہیں۔

ان کی عظمت کا راز صرف ان کی شاعری کے حسن اور بیان کی خوبی ہی میں نہیں ہے۔ ان کاا صل کمال یہ ہے کہ وہ ز ندگی کے حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جاکر سمجھتے تھے اور بڑی سادگی سے عام لوگوں کے لیے بیان کردیتے تھے۔غالب جس پر آشوب دور میں پیدا ہوئے اس میں انہوں نے مسلمانوں کی ایک عظیم سلطنت کو برباد ہوتے ہوئے اور باہر سے آئی ہوئی انگریز قوم کو ملک کے اقتدار پر چھاتے ہوئے دیکھا۔غالباً ً یہی وہ پس منظر ہے جس نے ان کی نظر میں گہرائی اور فکر میں وسعت پیدا کی۔

مرزا غالب کا نام اسد اللہ بیگ خاں تھا۔ باپ کا نام عبداللہ بیگ تھا ۔ آپ 27 دسمبر 1797ء میں آگرہ میں پیدا ہوئے۔ غالب بچپن ہی میں یتیم ہو گئے تھے ان کی پرورش ان کے چچا مرزا نصر اللہ بیگ نے کی لیکن آٹھ سال کی عمر میں ان کے چچا بھی فوت ہو گئے۔ نواب احمد بخش خاں نے مرزا کے خاندان کا انگریزوں سے وظیفہ مقرر کرا دیا۔ 1810ءمیں تیرہ سال کی عمر میں ان کی شادی نواب احمد بخش کے چھوٹے بھائی مرزا الہی بخش خاں معروف کی بیٹی امراءبیگم سے ہو گئی شادی کے بعد انہوں نے اپنے آبائی وطن کو خیر باد کہہ کر دہلی میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔

ادبی زندگی

== شاگردی ، پہلے استاد تو مدرسے کے مولوی محمد معظم تھے دوسرے استاد ایرانی فارسی شاعر ملا عبدالصمد (جنہیں غالب نے دو سال تک اپنے گھر پر بھی ٹھہرایا) تھے

دہلی میں پہلی ادبی رشتے داری اور دوستی ، غالب کے سُسر الٰہی بخش خاں معروف جو خود فارسی اور اُردو کے شاعر تھے انہی کے پاس مولوی فضل حق خیرآبادی بھی آتے رہتے تھے اُن کے ساتھ غالب کی گہری دوستی ہوگئی

تخلص

پہلے اسد اور پھر غالب

غالب کی پسندیدہ خوراک

نہار منہ باداموں کی ٹھڈائی سے دن کا آغاز کرتے تھے

== دوپہر اور رات کے کھانے میں گوشت کا ناغہ نہیں ہوتا تھا گوشت میں چنے کی دال بہت ہی پسند تھی جس کو شادی کے بعد چونکہ بگیم کو پسند نہیں تھی اس لئے اُس کو چھوڑنا پڑا

بکرے اور دمبے کا گوشت ،پرندوں میں مُرغ ،کبوتر اور بٹیر بہت پسند تھے

پھلوں میں انگور اور آم پسند تھے – ایک دفعہ آم کے موسم میں نواب علاءالدین احمد خاں نے انہیں لوہارو آنے کی دعوت دی تو انہوں نے مذاق میں لکھا کہ میں اندھا ہوں کہ اس موسم میں دہلی چھوڑ کر لوہارو جاؤں- اُس ویرانے میں نہ آم نہ انگور نہ کوئی اور لُطف نا صاحب ! آج کل نہیں آ سکتا

یہ تسلیم شدہ بات ہے کہ 19 ویں صدی غالب کی صدی ہے۔ جبکہ 18 ویں میر تقی میر کی تھی اور 20 ویں علامہ اقبال کی۔ غالب کی عظمت کا راز صرف ان کی شاعری کے حسن اور بیان کی خوبی ہی میں نہیں ہے۔ ان کاا صل کمال یہ ہے کہ وہ ز ندگی کے حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جاکر سمجھتے تھے اور بڑی سادگی سے عام لوگوں کے لیے بیان کردیتے تھے۔غالب جس پر آشوب دور میں پیدا ہوئے اس میں انہوں نے مسلمانوں کی ایک عظیم سلطنت کو برباد ہوتے ہوئے اور باہر سے آئی ہوئی انگریز قوم کو ملک کے اقتدار پر چھاتے ہوئے دیکھا۔غالباً یہی وہ پس منظر ہے جس نے ان کی نظر میں گہرائی اور فکر میں وسعت پیدا کی

شادی کے بعد مرزا کے اخراجات بڑھ گئے اور مقروض ہو گئے ۔ اس دوران میں انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ور قرض کا بوجھ مزید بڑھنے لگا۔ آخر مالی پریشانیوں سے مجبور ہو کر غالب نے قلعہ کی ملازمت اختیار کر لی اور 1850ءمیں بہادر شاہ ظفر نے مرزا غالب کو نجم الدولہ دبیر الملک نظام جنگ کا خطاب عطا فرمایا ، اور خاندان تیموری کی تاریخ لکھنے پر مامور کر دیا اور 50روپے ماہور مرزا کا وظیفہ مقرر ہوا۔

غدر کے بعد مرزا کی سرکاری پنشن بھی بند ہو گئی ۔ چنانچہ انقلاب 1857ءکے بعد مرزا نے نواب یوسف علی خاں والی رامپور کو امداد کے لیے لکھا انہوں نے سو روپے ماہوار وظیفہ مقرر کر دیا جو مرزا کو تادم حیات ملتا رہا۔ کثرت شراب نوشی کی بدولت ان کی صحت بالکل تباہ ہو گئی مرنے سے پہلے بے ہوشی طاری رہی اور اسی حالت میں 15 فروری 1869ء کو انتقال فرمایا

سات بچے بچیوں کی ولادت ہوئی لیکن کوئی بھی 15 ماہ سے زیادہ عمر نہ پا سکا

1870
ء ،فروری 4 غموں اور سر پر چڑھے قرضوں سے نڈھال ، غالب کی پہلی برسی کی تیاریوں میں مصروف ،ان کی بیگم بھی اللہ کو پیاری ہو گیئں .
اردو شاعری میں مرزاغالب کی حیثیت ایک درخشاں ستارے کی سی ہے۔ انہوں نے اردو شاعری میں ایک نئی روح پھونک دی۔ اسے نئے نئے موضوعات بخشے اور اس میں ایک انقلابی لہر دوڑا دی۔ ان کی شاعری میں فلسفیانہ خیالات جا بجا ملتے ہیں۔ انہوں نے زندگی کو اپنے طور پر سمجھنے کی بھر پور کوشش کی اور ان کے تخیُّل کی بلندی اور شوخیٔ فکرکا راز اس میں ہے کہ وہ انسانی زندگی کے نشیب و فراز کوشِدّت سے محسوس کرتے تھے۔

غالب کے بارے میں عبادت بریلوی لکھتے ہیں، “غالب زبان اور لہجے کے چابک دست فنکار ہیں۔” روزمرہ اردو محاوروں کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ اس کی سادگی دل میں اتر جاتی ہے۔

اگرچہ نثر کے میدان میں غالب نے کوئی فن پارہ تخلیق نہیں کیا لیکن منفرد انداز سے خط نگاری کی؛ اور یوں ’’غالب کے خطوط‘‘ اپنے لب و لہجے، اندازِ بیان، لفظوں کے انتخاب اور نثر میں شاعرانہ انداز کے باوصف اردو ادب کا وہ شاندار سرمایہ ثابت ہوئے جسے ان کے انتقال بعد یکجا کیا گیا۔

عہدِ مغلیہ نے ہندوستان کو تین چیزیں عطا کیں تاج محل‘ اردو زبان اور مرزا اسدا للہ خان غالب۔

حقیقت یہ ہے کہ غالب کی شاعری بڑی پہلو دار شاعری ہے۔ ان کی شخصیت اور شاعری پر مختصر سے وقت میں تبصرہ کرنا بہت ہی مشکل کام ہے۔ اس لئے صرف اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ غالب ہر دور میں غالب رہے گا۔غالب کی کلام کی مندرجہ بالا خصوصیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا کلام ایک وسیع دنیا ہے۔ اہلِ دانش نے سچ کہا ہے کہ غالب اردو کی آبرو اور عروسِ غزل کا سہاگ ہیں۔

غالب کا ہر شعر ہر دن روز اول کی طرح تازہ معلوم ہوتا ہے۔ کلام غالب پڑھنے والا اس میں پنہاں معنویت اور فکر میں غرق ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُردو اور فارسی کا یہ شاعر ہر روز پہلے سے زیادہ پُر کشش اور دل میں بیٹھ جانے والا شاعر بنتا جا رہا ہے۔

ہوئی مدت کہ غالبؔ مر گیا پر یاد آتا ہے

وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا

تحریر ۔۔۔۔آفتاب احمد

کراچی پاکستان

SHARE

LEAVE A REPLY