رابرٹ ولیم ریڈلے نے جہاں شریفوں کے خلاف استغاثہ کی دھجیاں اڑا دیں، دوسرے اہم گواہ اختر راجا نے اپنے فرسٹ کزن واٹس ایپ کال کی شہرت کے حامل جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء کو پریشان و شرمندہ کر دیا۔

ریڈلے نے جہاں2007ء سے بھی قبل کیلیبری فونٹ کے استعمال کا اعتراف کیا، کسٹ لاء فرم کے اختر راجا نے جرح کے دوران یہ حیران کن انکشاف کیا کہ انہوں نے فرسٹ کزن ہونے کے ناتے مئی2017ء میں واجد ضیاء کو جے آئی ٹی سربراہ بننے پر مبارکباد دی تھی اس کے ساتھ ہی واجد ضیاء نے جے آئی ٹی کے لئے ان کی خدمات حاصل کر لیں۔ گزشتہ5مئی کو واجد ضیاء جے آئی ٹی کے سربراہ مقرر ہوئے جب کہ اختر راجا کی خدمات12 مئی2017ء کو حاصل کی گئیں۔ ان پر قومی خزانے سے بھاری معاوضہ لینے کا الزام لگا لیکن واجد ضیاء نے ہی اپنے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ اختر راجا نے معاوضے میں35فیصد کمی کر دی۔ اختر راجا نے عدالت میں اس بات کا انکشاف ویڈیو لنک پر بیان میں کیا۔

انہوں نے نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کے استفسار پر بتایا کہ جے آئی ٹی کے لئے کام کرنے کے حوالے سے واجد ضیاء ہی نے ان سے رابطہ کیا تھا۔ اختر راجا نے عدالت کو اپنی خدمات کی نوعیت کے بارے میں بتایا کہ وہ دستاویزات اور بننے والے ایشوز کا جائزہ لیتے۔ نواز شریف کے وکلاء خواجہ حارث اور امجد پرویز نے الزام لگایا کہ اختر راجا کو واجد ضیاء نے بھاری معاوضہ ادا کیا۔ اختر راجا نے عدالت کو بتایا کہ ان کے ذریعے جے آئی ٹی کے لئے ریڈلے کی خدمات حاصل کی گئیں۔ جے آئی ٹی کے لئے براہ راست خدمات حاصل کرنا مشکل تھا۔

جرح کے دوران انہوں نے بتایا کہ شریفوں کے خلاف کیسز پر کمنٹری تیار کی جو 2000ء میں شائع ’’ڈان‘‘ کے آرٹیکل، التوفیق کیس میں لندن کی عدالت کے فیصلے اور دستاویز انتقال پر مبنی تھی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اس میں نواز شریف، مریم اور محمد صفدر کا کہیں ذکر نہیں تھا جب کہ اختر راجا نے یہ بھی اعتراف کیا کہ کمنٹری ان کی تیار کردہ نہیں ہے۔ واضح رہے کہ جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء ہی نے فنڈز کے استعمال میں پیپرا رولز سے بچنے کے لئے پابندیاں ہٹا دینے کی استدعا کی تھی۔ رابرٹ ریڈلے نے جرح کے دوران بتایا کہ اس سے قبل نیب حکام اور ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے انہیں سوا دو گھنٹے سکھایا پڑھایا۔ امجد پرویز کے استفسار پر ریڈلے نے بتایا کہ رپورٹ ہفتہ کو تیار اور اتوار کو اختر راجا کے حوالے کی گئی۔ جرح میں انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے دستاویزات نہیں پڑھیں اور انہیں ویڈیو اسپیکٹرل کمپیریٹر میں ڈالا تاکہ فارنسک موازنہ کیا جائے۔ انہیں معلوم نہیں تھا کہ ان کی رپورٹ عدالت جائے گی۔ ریڈلے نے اعتراف کیا کہ ونڈوز وسٹا کا بیٹا ورژن اپریل2005ء میں دستیاب تھا جس میں کیلی بری فونٹ شامل ہے جسے انہوں نے ڈائون لوڈ کر کے استعمال کیا۔ ریڈلے کا یہ بھی کہنا تھا کہ نوٹس جرح سے ایک دن قبل نیب حکام کی مشاورت سے تیار کئے گئے۔ جرح کے دوران ریڈلے کا کہنا تھا وہ راجا اختر کی ایماء پر جے آئی ٹی کے لئے رپورٹ دس گنا بڑی رپورٹ تیار کر سکتے تھے

SHARE

LEAVE A REPLY