عالمی یوم خواتین بین الاقوامی طور پر 8 مارچ کو منایا جاتا ہے

0
289

عالمی یوم خواتین بین الاقوامی طور۸/ مارچ کو منایا جاتا ہے؛جس کا مقصدمردوں کو خواتین کی اہمیت سے آگاہ کرنا اور لوگوں میں خواتین پر تشدد کی روک تھام کیلئے پیش قدمی کی ترغیب دینا ہے۔

دنیا میں سب سے پہلا انٹرنیشنل ویمن ڈے(یوم ِخواتین)۱۹/ مارچ سن 1911 ءکومنایا گیا پھر سن 1977 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے یہ بل پاس کیا کہ خواتین کا بین الاقوامی دن ہر سال آٹھ مارچ کو باقاعدہ طورپرمنایا جائے گا۔

تحریکِ حقوق ِنسواں، اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے ہر سال عورت پر جسمانی تشدد، نفسیاتی استحصال، غصب شدہ حقوق اور صنفی عصبیت کا نگر نگر واویلا کرتی ہے۔

عظیم الشان فیو اسٹارہوٹلوں میں پُرتّکلُف سیمینارز کا انعقاد، اخبارات میں رنگین ضمیموں کی اشاعت، کانفرنسوں اور سمپوزیم میں بے نتیجہ مباحثے اور پھر سے ہر سال نئی قراردادوں کے لیے سفارشات اس عالمی دن کی لاحاصل روایات و رسومات کا حصہ ہیں۔

اسلام نے 1400 سال پہلے عورتوں پر ظلم کے خلاف جو آواز اٹھائی ہے اور جو حقوق کے تحفظ کا آسمانی بل پیش کیا ہے اسکی مثال لبرل، سیکیولر، نام نہاد عالمی حقوق نسواں کے ٹھیکیدار اور این جی اوز تاقیامت پیش کرنے سے قاصرہیں اور رہیں گے۔

اسلام نے عوتوں کو کتنی ترقی دی؟ کیسا بلند مقام عطاکیا ؟قرآن کریم کی لاتعداد آیتوں اور بے شمار احادیث سے اس کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ اسلام نے پوری دنیا کے سامنے حقوق نسواں کا ایسا حسین تصور پیش کیا اور عورتوں کے تئیں وہ نظریات اپنائے کہ اپنے تو اپنے غیر بھی اس مثبت ومساوی نظام عمل پر عش عش کراٹھے، اور یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ اسلام ہی دراصل حقوق نسواں کا علم بردار اور عدل ومساوات کاحقیقی ضامن ہے۔

آج اگر مغرب اور مغرب پرست اسلام پر نکتہ چینی کرتے ہیں اور اسلام کو حقوق نسواں کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتے ہیں، تو یہ صرف حقائق سے چشم پوشی کرکے اسلام کو بدنام کرنے کی سازش ہے،؛ کیوں کہ آج بھی بہت سے غیرمسلم مفکرین اور دانایانِ فرنگ اعتراف ِحقیقت کرتے ہوئے اسلام ہی کو صنفِ نازک کا نجات دہندہ اور حقوق نسواں کا پاسدار سمجھتے ہیں۔

آئیے اس اعتراف حقیقیت کی چند جھلکیاں ملاحظہ کریں ۔

پاسباں مل گئے کعبہ کو صنم خانے سے:

چنانچہ اس بات کو بیان کرتے ہوئے کہ اسلام نے ہی عورت کو تمام معاشی، معاشرتی اور اخلاقی حقوق دیئے ؛جن کا تصور قبل از اسلام ماورائےعقل تھا۔

ای بلائڈ ن رقمطراز ہیں ”سچا اور اصلی اسلام جو محمد ﷺلے کر آئے، اس نے طبقۂ نسواں کو وہ حقوق عطا کئے جو اس سے پہلے اس طبقہ کو پوری انسانی تاریخ میں نصیب نہیں ہوئے تھے’’۔ (بہ حوالہ سنت نبوی اور جدید سائنس)

ڈبلوالائٹرر“ لکھتےہیں: عورت کو جو تکریم اور عزت محمدﷺنے دی وہ مغربی معاشرے اور دوسرے مذاہب اسے کبھی نہ دے سکے“۔

SHARE

LEAVE A REPLY