جناب ووٹ سے زیادہ ووٹرزمقدس مگر آپ تو.. ؟؟ محمد اعظم عظیم اعظم

0
86

آج کل مُلک میں اِدھر سے اُدھر تک الیکشن کا شور برپاہے متوقعہ انتخا بی اُمید پر دیس کی سیاسی اور مذہبی جماعتیں خود کو گرما رہی ہیں جنہیں دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا اِس میں شک نہیں کہ :۔
الیکشن نام ہے جس کا وہ خدمت ہے عبادت ہے ہمارا ووٹ کیا ہے مُلک و ملت کی امانت ہے
مگر جب جا ئزہ اِس کا لیا تو یہ ہو ا ثابت الیکشن قوم کی خدمت نہیں ہے اِک تجارت ہے
کیااَب سینیٹ کے (ہاو ¿س ٹریڈنگ اور فلورکراسنگ بھرپور) الیکشن کے بعد یہ اُمید ہو چلی ہے کہ مُلک میں نئے متوقعہ جنرل الیکشن واقعی اپنے وقتِ مقررہ پر اورصاف وشفاف اور دھاندلی سے پاک ہو نے کو ہیں؟ ایسے میںبغیر سیاستدانوں کے کڑے احتساب کے انتخابات کا ہونا کچھ عجیب سا ہے کیا؟ مگرابھی کچھ نہیںکہا جاسکتا ہے؟ تاہم پھر بھی مان لیں کہ 2018ء مُلک میں جنرل الیکشن کا سال ہے،توقع ہے کہ اِس بار ووٹرز اپنا تقدس خود منوائیں گے اور سیاستدانوں کے اِس کُلیئے کو بدل دیںگے کہ ووٹ مقدس ہے ووٹرزتو بس اے وئیں ہیںمگر کیا اپنے بنیا دی حقوق سے محروم اورمسائل کے گرداب میں پھنسے ووٹرز اپنے سیاستدانوںاورمنتخب نما ئندوں سے اپنی اہمیت اور احترام کو اپنی ووٹ کی طاقت سے منوا پا ئیں گے؟ یا ستر سالوں کی طرح پھر اپنی آنکھوںپر شخصیت پرستی ،اندھے اعتماد و احترام کی سیاہ پٹی چڑھا کر وہی کریں گے جیسا یہ ابھی تک کرتے آئے ہیں تب ہی ووٹرز کی اِسی کمزوری کا ہمیشہ فائدہ سیاسی جماعتوں کو ہوا ہے اوریہی وجہ ہے کہ حکمران اور سیاستدان ابھی تک ووٹر اور عوام کو مسائل اور بحرانوںکی چکی میں پیس رہے ہیں۔
اِن دِنوں مُلک کی تمام سیاسی جماعتیں متوقعہ جنرل انتخابات کی تیاریوں میں لگی پڑی ہیں سب ایک سے بڑھ کر ایک ہو نے کی دعویدار ہیں اپنے منشوراور مقاصد کی روح اور بنیادی عوا می خدمت اور فلاح وبہبودکو قرار دے رہی ہیں ماضی کی طرح آج بھی دعوے تو سب کے آسمان سے تارے توڑ لا نے کے ہیںمگر پچھلے70/69سے کو ئی جماعت اپنے دعوو ¿ں کواِس طرح عملی جا مہ نہیںپہنا سکی ہیں جیسا کہ یہ ہمیشہ اپنی انتخا بی مہم کے دوران کرتی آئی ہیں عوام تو آج بھی مسائل کی دلدل میں گھرے ہوئے ہیںبلکہ پہلے سے زیادہ مشکلات اورعصاب شکن مسا ئل اور نت نئے بحرانوں کے بھی شکار ہو گئے ہیں۔
تاہم عوام کو گزشتہ سے پیوستہ سبزباغات دکھا کر ووٹ لے کر تین بار اقتدار کی مسند پر اپنے قدم رنجا فرما نے والی پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اِس مرتبہ حالتِ بے خودی میں اپنا منشور ہی ” ووٹ کو تقدس دو“ رکھنے کا اعلان کردیاہے ۔
اَب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ن لیگ کس سے کہہ رہی ” ووٹ کو تقدس دو“تو آپ نے پہلے ووٹ لے کر ووٹرکو کو نساتقدس دیا ہے جو اَب کہہ رہے ہیں ” ووٹ کو تقدس دو“ جناب ووٹ سے زیادہ ووٹرز مقدم اور مقدس ہیں، اَب آپ پتہ نہیں کیوں یہ نعرہ بلند کررہے ہیں کہ” ووٹ کو تقدس دو“ ووٹ کا تقدس تو پہلے ہی کیا کچھ کم ہے، یہ ووٹ اور ووٹر کا تقدس ہی ہے کہ تین بار ن لیگ اور تین بارہی پی پی پی کو اقتدار سنبھالنے کا موقعہ ملاہے۔
اَب ایسے میں بھی آپ ووٹ کا تقدس دو کا نعرہ بلند کررہے ہیں یہ توآپ اور آپ جیسے دوسرے حکمران، سیاستدان اور عوا می نما ئندے ہی ہیں جنہوں نے ہمیشہ ووٹرز سے ووٹ تو خوب جھولیاں بھر بھر کرلیئے اور مسندِ اقتدار پر بھی بیٹھے مگر آپ لوگوں نے نہ تو کبھی ووٹرز کا احترام کیا ہے اور نہ ہی کبھی ووٹرز کو اہمیت دی ، اقتدار ملنے کے بعد (خواہ ن لیگ ہو یا پی پی پی والے ہوں) سبھوں نے خود کو ہمیشہ ا پنے محسنین ووٹرز پر خدائی فوجداری کا دعویٰ کیا اور خو دکو زمینی خدا اور خودساختہ بادشاہ ہو نے سے بھی تشبیہ دی اور ووٹر کے اُن ووٹوں کو بھول گئے جن کی وجہ سے حکمرا نی نصیب ہو ئی۔
تو جناب عالی، آپ یہاں ذرا ارسطو اور بقراط کے اِس فلسفے کو بھی مدِ نظررکھیں کہ اسٹیج کے ڈرا مے کے رائٹر، فنکار اورہدایت کارسے زیادہ اہمیت کے حامل ناظرین ہوتے ہیں جب تک ناظرین ڈرامہ دیکھنے کے بعد اِسے پسند نہ کریں تو پھر ڈرامہ نگار کی ڈرامہ نگاری،فنکار کی فنکاری اور ہدایت کا ر کی ہدایت کاری سب کچھ بیکار ہیں گویا کہ کسی بھی ڈرامے کی کا میابی اور ناکامی کا پیمانہ ڈرا مہ ناظرین ہیں یکدم اِسی طرح حکمرانوں کی حکمرا نی میں بھی اہم رول ووٹ دینے والے ووٹر ز کا ہے مگر بڑے افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے یہاں حکمرا نی کے اسٹیج پر فنکاری کرنے والے اپنے حصے اور اپنی جھولی میں پڑنے والے ووٹر کے ووٹ کو تو اہمیت دیتے ہیں مگر اُس ووٹر کو ٹیشو پیپرز سمجھ کر اگلے انتخابات تک ردی کی ٹو کری میں پھینک دیتے ہیں جی ہاں وہ ووٹرجو اکثرالیکشن میں سیاستدانوں کو(چنے یا کبھی کبھی بڑے کے ایک بوٹی والی گوشت کی ) ایک پلیٹ بریانی یا مٹھی بھرگُڑ کے میٹھے چاول کھا کریا لسی کا ایک گلاس یا دودھ پتی کی چا ئے پی کر اپنا ووٹ دیتا ہے اور نامزد کردہ اپنے حلقے کے اُمیدوار کو کامیاب کرتا ہے ایوانوں تک پہنچا دیتا ہے پھر جس کے بعد یہ بیچارہ ووٹرمہنگا ئی ، بھوک و افلاس اور دیگرمسائل میں گھر کرغریب سے غریب تر اور سیاستدان امیر سے امیر تر ہوجاتے ہیں۔
آخر میںچلتے ہوئے ووٹرز سے راقم الحرف بس یہی کہنا چا ہے گا کہ اگرابھی ووٹرز نے سیاستدانوں کو ووٹ سے زیادہ اپنااحترام اور اپنی اہمیت کا احساس نہ دلایا تو پھرمجھ سمیت ووٹرز جا ئیں بھاڑ میں اورپھر وہی کریں جیسا کہ ووٹرزپچھلے ستر سالوں سے سیاستدانوں کے ہاتھوں اپنی اہمیت خود خاک میں ملاتے آئے ہیں پھر اپنا ستیاناس کریں تو کریں یہاں مجھے ووٹر ز کی کم عقلی پر شا عر کا یہ شعر یا د آگیاہے کہ:۔
وو ٹ دینے کا دِلا نے کا زمانہ آگیا دعوتیں کھا نے ، کِھلا نے کا زما نہ آگیا
ہر طرف پیسہ چلا نے کا زما نہ آگیا کالے دَھن کو اَب لُٹا نے کا زما نہ آگیا

SHARE

LEAVE A REPLY