آنجہانی اسٹیفن ہاکنگ نے اپنی آخری نصیحت میں انسانوں کو اجنبی مخلوق سے رابطے کی کوشش ترک کرنے کا مشورہ دیا تھا، برطانوی سائنسدان کا کہنا تھا کہ ایسی کوشش تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔

اسٹیفن ہاکنگ نے موت سے پہلے خطرہ ظاہر کر دیا تھا کہ اجنبی مخلوق سے دور رہا جائے اور ان سے رابطے کی کوشش نہ کی جائے، ایسی صورت میں انسانوں کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ آنجہانی برطانوی سائنسدان کو یقین تھا انسانوں کے علاوہ بھی کائنات میں کوئی نہ کوئی مخلوق موجود ہے۔ ایک انٹرویو میں اسٹیفن ہاکنگ کا کہنا تھا کہ اجنبی مخلوق، انسانوں سے زیادہ چالاک ہوسکتی ہے اور ممکن ہے وہ زمین پر آکر وسائل چھین کر لے جائے۔

اسٹیفن ہاکنگ کو یقین تھا کہ اگر کوئی اورمخلوق زمین پر آئی تو انسانوں کے ساتھ وہی ہوگا جو کولمبس کے امریکا دریافت کرنے پر مقامی آبادی کے ساتھ ہوا تھا۔

واضح رہے کہ جدید دور کے آئن سٹائن کے لقب سے شہرت پانے والے ماہر طبعیات سٹیفن ہاکنگ گزشتہ روز انتقال کر گئے تھے، وہ 8 جنوری 1942 کو آکسفورڈ میں پیدا ہوئے ۔ سٹیفن ہاکنگ کو ٹائم مشین بنانے کے حوالے سے عالمگیر شہرت حاصل ہوئی۔ سٹیفن ہاکنگ کو 2009 میں ان کی خدمات کے اعتراف میں امریکا کے سب سے بڑے سول اعزاز سے نوازا گیا تھا ۔

سٹیفن ہاکنگ کو 1963 میں موٹر نیورون کا مرض لاحق ہوا تھا اور اس وقت ڈاکٹروں نے پیش گوئی کی تھی کہ وہ زیادہ سے زیادہ چند ماہ تک زندہ رہ سکیں گی۔ ان کو اس وقت شہرت ملی جب انہوں ںے موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے پیش گوئی کی کہ آنے والے سو سال دنیا کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں ۔ ان سالوں میں دنیا میں شہاب ثاقب بھی گریں گے اور یہاں کے انسانوں کیلئے زمین پر رہنا مشکل ہوجائے گا۔ انہوں ںے خبردار کیا تھا کہ مستقبل میں ایسے حالات ہوں گے کہ انسان کیلئے اس کرہ ارض پر جینا مشکل ہوجائے گا۔

سٹیفن ہاکنگ کو پارکنسن کی بیماری کا بھی سامنا کرنا پڑا جس سے ان کی قوت گویائی متاثر ہوئی اور وہ بولنے اور حرکت کرنے سے محروم ہوگئے ، ان کے دوستوں نے ان کیلئے ایک کمپیوٹر تیار کیا تھا جو ان کے خیالات کو آواز کی صورت تبدیل کر کے ان کے دوستوں تک پہنچا دیتا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY