جو کبھی چھ ہزار پولیس کی حفاظت اور سات پردوں میں رہ کر حکومت کیا کرتے تھے،اور پورے دورِ میں سات آٹھ دفعہ پارلیمان میں جاکر ممبران کو پنے درشن کرایا کرتے تھے اب وہ عوامی ہوگئے۔ اس میں سے گر پانچ سالانہ صدارتی خطابات نکالدیں تو پورے دور میں دو خطاب اور اس میں سے بھی ایکاا گر پناما والا خطاب نکالدیں جوکہ ان کی ضرورت تھا۔ توصرف دوہی زیارتیں بچتی ہیں جو پاریمان کو نصیب ہوئیں ۔ عوام تو بہت دور کی بات ہے قریبی لوگ وزراء اور ممبران پارلیمان درخواستیں دے دے کہ تھک جاتے تھے، مگر پروانہ باریابی نصیب نہیں ہوتا تھا۔ کیونکہ موصوف کو عوام اور عوامی نمائندو کو منہ شاید لگانا پسند نہیں تھا۔ انہوں نے یہ طرز حکمرانی کہاں سے لیا ہمیں معلوم نہیں کیونکہ پرانی پارلیمان اور پہلے دور کے لیڈروں کا تو عالم یہ تھا۔ کہ ا ن پر جلسہ عام میں جوتا بھی پھینکا جاتا تھا تو وزیر اعظم کہتے تھے۔ کہ پولس صاحب آپ میرے اور عوام کے درمیان میں حائل نہ ہوں، آپ تشریف رکھیں۔ جبکہ وزیر اعظم ہاؤس میں ہر ایرا غیرا جس وقت بھی جب بھی چاہتا داخل ہوسکتا تھا اور وہاں بیٹھ کر انتظار کرسکتا تھا۔ اس لیے کہ وزیرِ اعظم کاروبارِ مملکت پہلے ا نجام دینا ہوتا تھا اوراگر پارلیمان کا اجلاس ہورہا ہو تو اس میں میں بھی موجود ہونا ضروری تھا۔ جب وہاں سے واپس آتے تو پہلے عوام سے ملاقات کرتے ،پھر رات کے ایک بجے کہیں جاکر پارٹی ورکرز کے ملنے کی نوبت آتی تھی کہ پارٹی کو دیکھنا بھی ضروری تھا۔
جبکہ اسی کرسی پر آج سے کچھ عرصہ پہلے تک ظاہری طور پر جو صاحب تشریف تھے ان سے ملنا جوئے شیر لانے سے کم نہ تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دو تین دن پہلے پاکستان میں ایک نئی تاریخ رقم ہوئی کہ اسپیکر پارلیمان سے واک آؤٹ کر کے چلے گئے ۔ میڈیا نے ا نہیں جاتے ہوئے دکھایا۔ میڈیا کا کیمرہ یہ بھی دکھا رہا تھا کہ پوری پارلیمان میں صرف دو معزز اراکین تشریف فرما تھے۔ غالباً وہ وقفہ سوالات ہوگا وہ سائل ہونگے جو اس بات سے معلوم ہوا کہ اسپیکر صاحب نے واک آوٹ کرنے سے پہلے آواز دی کہ فلاں محکمہ کے وزیر صاحب موجود ہیں؟ جب کوئی جواب نہیں آیا تو پھر آواز دی کہ اس محکے کے سکریٹری صاحب موجود ہیں ۔جب اس پر بھی کو ئی جواب نہیں آیا۔ تو انہوں نے اجلاس ملتوی کر دیا اور یہ فرماتے ہوئے تشریف لے گئے اب میں کہ میں واک آؤٹ کرتا ہوں ۔ پارلیمان کی یہ بے وقعتی کیوں پیدا ہوئی اس کی ذمہ داری انہیں وزیر اعظم پرہے جوکہ آجکل بظاہر نہیں ہیں۔ مگر وہ باطنی طور پر بقول موجودہ وزیر اعظم کے“ ان کے وزیرِ اعظم وہی ہیں“ ۔ یہ صورت پیدا ہوئی وجہ یہ تھی۔ کہ انہوں نے گھر سے حکومت چلانے اور پارلیمان میں نہ جانے کا ریکارڈ توڑ دیا ۔اب وہی صاحب جب نااہل ہوگئے تو وہ ووٹ کا احترام بحال کرنے کی بات کر رہے ہیں ااور شہر شہر مارے مارے پھر رہے ہیں اور کہہ“ رہے ہیں کہ میں ہر ایک کو اس کے دروازے پر عدل دلاؤنگا ۔ اللہ کی شان ہے؟ وہ شاید سمجھ رہے ہیں کہ عوام بھول گئے ہیں کہا ان کا طرز حکمرانی کیا تھا۔ اور حکومت کی تمام مشینری اور افراد جلسے میں استعمال کر کے بزعم خود بڑے بڑے جلسوں سے خطاب بھی کر رہے ہیں اور سمجھ رہے ہیں کہ یہ عوام ہیں جو ہمارے بیانیہ اپنا رہے ہیں ۔ مگر ہو کیا رہاہے۔ وہ یہ ہے کہ بلوچستان میں ان کی پارٹی کی حکومت تھی وہ گر گئی، یہ بے بسی دیکھتے رہ گئے ۔ اب سینٹ میں شکست ہوگئی تب بھی دیکھتے ہی رہے۔
وجہ کیا ہے کہ ا ب عوام وہ نہیں رہے ہیں ، جو پہلے تھے۔ زمانہ بدل چکا ہے اس کاا ن کو ابھی تک ادراک ہی نہیں ہے۔ا لیکشن آنے دیجئے پھر دیکھئے سب کچھ سامنے آجا ئے گا۔ یہ ا پنی نوعیت کاعجیب ہی ا لیکشن ہوگا؟ جس میں کسی صوبے کو پہلے کی طرح جگانے سے کام نہیں چلے گا اگر چلا بھی تو چند اضلاع تک چلے گا جن پر ملک کے پورے وسائل خرچ کیے گئے ہیں ۔ مگرپورے صوبے میں نہیں جہاں کہ پینے کو صاف پانی نہیں ہے ،کھانے کو روٹی نہیں بیمار ہوں تو اسپتال میں دوائیں نہیں ۔ یہ الیکشن ایسا ہی ہوگا جیسے کہ جنرل یحییٰ کے دور میں بھٹو صاحب کاالیکشن ہوا تھا۔ کہ مسلم لیگ کے پولنگ ایجنٹوں تک نے ووٹ بھٹو صاحب کو ڈالے تھے۔ اب وہ کس کو ووٹ ڈالیں گے وہ وقت ہی بتائے گا۔ کیونکہ بلوچستان کی تبدیلی نے یہ ثابت کردیا ہے کہ کوئی ایسا شخص بھی آسکتا ہے جسے کوئی بھی نہ جانتا ہو؟ بشرطِ کہ چیف جسٹس صاحب جو انتظامیہ سدھار میں لگے ہوئے ہیں وہ الیکشن کے ایماندارانہ انعقاد کرانے میں کامیاب ہو جائیں۔ تو پاکستان میں ان کے اورا ن کے ساتھیوں کے نام ہمیشہ جگماتے رہیں گے، جیسے کہ سندھ چیف کورٹ کی اس کے بنچ کے ججوں کےنام تاریخ میں موجود ہیں جس نے پارلیمان توڑنے کے خلاف گورنر جنرل غلام محمد کے خلاف فیصلہ دیا تھا اور عدلیہ سے وہ داغ دھل جا ئے گا جس کو اس فیصلہ کے خلاف حکومت کی اپیل سن کر اس وقت کے چیف جسٹس، جسٹس منیر نے کالعدم قرار دے دیا تھا۔ ۔ا للہ سبحانہ تعالیٰ ا نہیں کامیاب کرے ۔ آمین













