خبر ہے کہ لڑکی حصولِ تعلیم کے لے گھر سے بھاگ گئی۔ بعد میں وہ قانون کی نگرانی میں کسی پناہ نام کے شیلٹر میں بھیج دی گئی۔ یہ خبر ویسے تو شاید اتنی خاص نہ ہو کینوکہ لڑکیان تو گھروں سے بھاگتی ہی رہتی ہیں۔ مگر ا س خبر میں یہ ہو اہے کہ اس بار اس کو والدین سے بچا کر شیلٹر میں بھیج دیا گیا۔
لہٰذا سمجھ میں نہیں آتا کہ انسان ا س مسئلے کو کس زاویے سے پکڑے۔ عجیب پیچ در پیچ مسئلہ ہے۔ ایک طرف علم حاصل کرنا ہر عاقل و بالغ مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔ دوسری طرف والدین کی اطاعت بھی بچوں پر فرض ہے۔۔ اسی طرح والدین پر بچوں کی شادی وقت پر کرنا بھی فرض ہے۔ ایک ایسامعاشرہ جو نام کا اسلامی ہو جہاں چھوٹے چھوٹے بچے اور خواتین بھی شائد اسی لیے بے چارے والدین چاہتے ہیں کہ بچیاں جلد اور باعزت اپنے گھر کی ہو جائیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ایک ایساملک جہان محبّان نبیؐ کا ایک سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے وہاں ہر کسی کی جان و مال عزت آبرو محفوظ ہو۔ لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ معاملہ الٹ ہے۔ اللہ جانے ا س بچی کے والدین کا لڑکی کی شادی میں جلدی کرنے میں کیا مجبوری تھی پیسے یا ماحول۔ لیکن ہمارے یہاں ایک اور بھی مسئلہ ہے۔ مادی ترقی میں ہم حصہ لیں یا نہ لیں والدین سے بغاوت اور جدّت پسندی کی تقلید میں ہم اور ہماری نسل کسی طور پرمغرب سے پیچھے نہیں۔ ذرا ان والدین کیا بھی سوچیں کہ جن کی گودوں کی پالی بچی نے بغاوت کر کے ان کی راتوں کی نیندیں اڑا دی ہیں ۔ وہ اس دن کو کوستے ہوں گے جس دن ان کے ہاں ایسے بچے نے جنم لیا۔ انہوں نے بچی کو بہت سمجھا نے کی کوشش کی ہو گی۔ اب یہ خدا ہی جانتا ہے کہ اصل وجہ کیا ہے۔ شاید بچی زیادہ ہوشیار ہو کہ وہ تعلیم کو بہانہ بناکر والدین کی کفالت سےنکل گئی۔ اور وا لدین سیدھے سادھے ہوں جو اپنا موقف پیش نہ کر پائے۔ یا پھر معاملہ خالص تعلیم کا ہی ہو۔ اس صورت میں بھی گھر سے بھاگنا کسی طور بھی احسن نہیں۔
ایک نہایت ماڈرن انگریز نوجوان بچی کی ویڈیونظر سے گزری ۔ ضروری سمجھتی ہوں کہ ا سکی تفصیل اپنی قوم کے بچے بچیوں اور والدین سے بھی شیئر کروں۔ گو یہ کچھ پرانی ہے لیکن دیکھنے کے قابل ہے۔ اس میں اس نے لڑکی نے اپنے بزرگوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ” وہ ا پنی جنریشن کی طرف سے ان کے سامنے شرمندہ ہے کہ ہم صرف “ہیں” لیکن معاشرے کی بہتری میں ہمارا کوئی حصہ نہیں۔ ہمیں بڑوں کے سامنے کسی بات پر اچھا جی کہنا نہیں آتا۔ کسی بڑے بزرگ کی تکریم میں ہم دروازہ نہیں پکڑکر اسے رستہ نہیں دیتے۔ ہم میں سے بیشترایسی موسقی سنتے ہیں جو خواتین کو کم تر بناتی ہے۔ ہم نشوں اور جرائم کی عظمت کے قائل ہوچکے ہیں ۔ بحث کرتے ہوئے ہم لعنت ملامت کرتے ہیں کوئی اچھا لگے تو اس کے لیے ایک لفنڈری اور گھٹیا لفظ بولتے ہیں “بے”۔ ہم برے لوگوں کو اپنا ہیرو بناتے ہیں جبکہ اچھوں کا مذاق بناتے ہیں۔ ہم انٹرنیٹ پر دوستیاں پالتے ہیں لیکن حقیقی رشتوں سے بے خبر ہیں۔ ہم سست ہں ۔ معاشر میں کوئی مثبت ذمہ داری نہیں لینا چاہتے۔
ہم فیس بک پر لوگوں سے رابطے میں ہوتے ہیں لیکن وہ معاشرہ جس پہ ہم سب ٹکے ہیں اس کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ ہم اپنی خوبصورت تصویر کے ساتھ ایک اچھا پیغام دے کر اپنے مداحوں کی گنتی بڑھانے میں لگے ہیں۔ نہ تو ہم اپنے بڑوں کی عزت کرتے ہیں نہ اپنے ملک سے پیار۔ ہم اپنے جھنڈے کو قدموں تلے بھی لینے سے گریز نہیں کرتے۔ ہم ان خواتین وحضرات کا مذاق بناتے ں جو ہماری بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں جبکہ ان کواپنا ہیرو سمجھتے ہین جو لڑائی جھگڑا اور جنون دکھاتے ہیں۔ بحیثیت ایک قوم کے ہم تقسیم ہو چکے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اس ابتری میں ہماری اس نئی جنریشن کا بہت ہاتھ ہے۔ ہر وہ بات جس کا برا منایا جانا چاہیے ہم ا سکو سراہتے ہیں۔ ہمیں کسی چیز کی اہمیت اور قدر کا احساس نہیں، کیونکہ ہمیں یہ نعمتیں بن مانگے مل گئی ہین اس لیے ہم ا س بات کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ہمارے پاس اپنے سے پچھلے لوگوں کی نسبت کامیابی کےمواقع بہت زیادہ ہیں۔ لیکن ہمیں ان کی قدر نہیں۔ کہ ہم بھلا اتنی نعمتوں کے حقدار کیسے ہیں؟؟۔ شاید اسی لیے لوگ ہمیں جنریشن “وائے” کہتے ہیں ۔ کیونکہ ہم اس کے مستحق بالکل نہیں۔ حالانکہ ہمیں بہتر طور پر پالا گیا۔ میں سوچتی ہو ں کہ دنیا ہمیں کس بات پر یاد رکھے گی؟ اسی لیے میں اس رسم کو توڑ نا چاہتی ہوں یہ بتانے کے لیے کہ میرے والدین نے مجھے بہتر طور پہ پالا۔ کیا آپ بھی ایسا کرنا چاہیں گے؟ میں اپنے بڑ وں سے معافی مانگنا چاہتی ہوں۔ شکریہ کہ آپ نے اب تک ہماری غلط روی کو برداشت کیا، اور وہ جو اپنی غلطیوں کو نہیں دیکھ رہے میرا ان سے کہنا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ وہ اس کااحساس کریں اور اس معاشرے کو جس سے ہم پیار کرتے ہیں اس کی بہتری میں حصہ لینا شروع کردیں تاکہ شاید ہم مستقبل میں اس کو بہتر بنا سکیں۔ “
مغرب جس نے دنیا کو اس بے راہ روی میں نمائندگی کی اب اس کا مزاج اعلیٰ اقدار کی طرف مڑ رہا ہے ۔ افسوس کہ ہمارے لوگ مغربی میں کردارمیں اخلاقی ابتری دیکھ کر بھی ا س کی اندھی تقلید میں ہیں۔ جبکہ اگر ہمارے یہان یہ روش پھیلی تو اصلاح بہت مشکل ہے۔ کیونکہ جہان ڈاکٹر اور عالج کی سہولت نہ ہو وہان مریض قابو میں نہیں آتا۔
افسوس ہمارے ہاں والدین تمام تر مادی جدتوں سے فائدہ اٹھانے کے باوجود وہی دقیانوسی ہیں جبکہ بچے گھر بیٹھے کاٹھے انگریز ہو چکے ہیں۔ والدین کو بچوں کی کچھ تکریم اور بچوں کو الدین کی مکمل تکریم سیکھ لینا چاہیے۔
دنیاوی تعلیم انسان کو کردار کے لحاظ سے اچھا بنانے کی ضامن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اُن پہلی ماؤں کی اولادیں اخلاق میں ہم سے کہیں بہتر تھیں جو ظاہری علم سے آراستہ نہ تھیں۔ کیونکہ ان میں شرافت ادب لحاظ کا ایک قرینہ تھا۔
ہونا یہ بھی چاہیے کہ ہر بچے اور بچی کو گھر داری اور اس کا نظام چلانے رشتوں کو نبھاہنے اور اپنی ذمہ داریوں کو نبھاہنے کا بھی تعلیمی نصاب میں ایک مضمون ہونا چاہیے۔
صرف پہلے وقتوں میں ہی نہیں دین بھی والدین کی منشاء کی تکریم سکھاتا ہے اور اس کو برکت کا ذریعہ گردانتا ہے۔ لیکن آج کے دور میں ہر اخلاقی اور مذہبی پہلو سے انحراف ہی ترقی کی کلید سمجھا جاتا ہے۔ میڈیا نے گھر کی چار دیواری گرا دی ہے، اب آپ کے بچوں کی تربیت میں زیادہ حصہ معاشرے کا ہے۔ اسی لیے وہ گھروں سے نکل کر اسی کی پناہ میں چلے جاتے ہیں۔ اللہ رحم کرے۔ آمین
طاہرہ مسعود۔ کینیڈا













