پسند کی شادی
ثمینہ رحمت منال
قرآن و سنت کی روشنی میں اور تمام مذاہب و عقائد کی روشنی میں دنیا کی ہر شادی میں لڑکا، لڑکی کی رضامندی معلوم کرنا لازمی ہے مگر بہت سے ممالک میں خدا و رسولۖ کی اور دیگر مذاہب کی دی گئی آزادی کو قبول نہیں کیا جاتا اور اسے رسموں و رواجوں کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے۔ شادی کا مقصد دو خاندانوں کا ملن بنا دیا گیا ہے نہ کہ دو روحوں کا۔ وہ شادی جس کا مقصد دو انسانوں کے بیچ میں ذہنی ہم آہنگی اور ایک دوسرے کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی بسر کرنے کی خواہش کی تکمیل ہونا چاہئے وہ کبھی دولت کے حصول کی تکمیل کا ذریعہ بن جاتی ہے تو کبھی خاندان کی عزت کو قائم و دائم کرنے کا ذریعہ۔ یہ شادی کبھی انا و غرور کے نتیجے کی پیداوار ہوتی ہے تو کبھی بدلے کی آگ کو پورا کرنے کیلئے تکمیل کے مراحل سے گزرتی ہے۔
پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اور وہاں شادیاں ایک بڑی تعداد میں فرسٹ کزن کے ساتھ طے پاتی ہیں تاکہ دو بھائی یا دو بہنیں اپنے خاندان کو ان بچوں کے ذریعے جوڑے رکھیں اور ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہیں۔ یہ اور بات کہ اکثر وہی بہن بھائی آپس میں اپنے بچوں کی وجہ سے دست و گریباں ہوئے ہوتے ہیں۔ اب بات کرتے ہیں ان لڑکیوں کی جو گھروں سے بھاگ کر شادیاں کرتی ہیں۔ کیا یہ شادیاں صرف شادیاں ہوتی ہیں یا ان کے پیچھے منظم گروہ اور جرائم پیشہ افراد کا ہاتھ ہوتا ہے۔ 2013 میں، میں نے آئی فون پہ اس معاملے پہ انٹرنیٹ پہ کھوج لگانی شروع کی تو ڈارک ویب سائٹس تک پہنچ گئی اور انڈیا اور پاکستان کے غریب یا متوسط طبقوں کی ایسی بہت سی ویڈیوز دیکھنے کو مل گئیں جو کہ بظاہر ان کے شوہروں نے ان کے ساتھ اپنے کمروں میں بنائیں اور انہیں کسی کے ہاتھوں بیچ دیا اور ایسی سینکڑوں بچیوں کی عزتیں انٹرنیٹ پہ لوگوں کی آنکھوں کو دیسی حسن کا سرتاپا نظارہ دکھانے کی وجہ بن گئیں۔
شاید ان بچیوں کو یا ان کے خاندان کو علم بھی نہ ہو کہ غریب اور متوسط گھروں کی ان بچیوں کی زندگیاں اور ان کی زندگیوں کی راتیں کن کن لوگوں کو ان کی راتوں میں دیسی ٹچ دیتی ہیں اور ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کرتی ہیں۔ اب پاکستان اور انڈیا کو اگر خاص طور پہ دیکھا جائے تو پتہ چلے گا کہ جب بھی کوئی بچی گھر سے بھاگ کر شادی کرتی ہے اور ایسی شادی کی میڈیا کو بھنک پڑتی ہے تو میڈیا اس خبر کو اچھالتا ہے۔ ماں باپ، بہن بھائیوں کو ولن بنانے کی کوشش کرتا ہے اور بھاگنے والی لڑکی کی جرات و ہمت کو سلام پیش کر کے اس شادی کو اس کا بنیادی حق قرار دیتا ہے۔ اس کے اس اقدام کو سراہتا ہے۔ اسے باغی قرار دیتا ہے اور اس جوڑے کو لیلیٰ مجنوں، ہیر رانجھا بنانے کی کوشش کرتا ہے لیکن حقیقت دراصل یہ نہیں ہوتی۔ سچ بالکل مختلف ہوتا ہے اور اذیت و غم سے بھرپور ہوتا ہے۔ ایسی شادیوں میں اکثریت کے پیچھے جرائم پیشہ افراد کا ہاتھ ہوتا ہے۔
عموماً ہوتا یہ ہے کہ جیسے ہی لڑکی کورٹ کچہری میں جا کے اپنے ولی کے بغیر کسی لڑکے کو محبوب و مسیحا مان کے اسے مجازی خدا کا درجہ دیتی ہے تو وہ اس درخت سے محروم کر دی جاتی ہے۔ وہ درخت جو باپ، بھائی، تائے چاچے اور باقی رشتوں کی شکل میں اس کے سر پہ چھائوں کئے ہوتے ہیں۔ قانونی طور پہ لڑکا شوہر کا روپ دھارتے ہی اس کا قانونی وارث بن جاتا ہے اور لڑکی کے ماں باپ اور خاندان والوں کو اپنی اور اپنی بیوی کی خوشیوں کا قاتل قرار دے کے پولیس میں رپورٹ درج کروا دیتا ہے اور میڈیا کو بیان دے دیتا ہے۔ اس طرح لڑکی یا بچی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے مہربان ہاتھوں سے اور مہربان درخت کی چھائوں سے محروم ہو جاتی ہے۔ اب وہ لڑکا اور اس کا خاندان اس بچی کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے۔ اسے ہر روز کس ذہنی و جسمانی اذیت سے گزارتا ہے یہ صرف وہ بچی جانتی ہے یا اس بچی کا خدا یا وہ زمینی فرشتے جو اس کا نصیب لکھ رہے ہوتے ہیں یعنی اس گروہ کے جرائم پیشہ افراد ان بچیوں کی عصمتیں گوگل کی ڈارک ویب سائٹس پہ ان کے شوہروں کے ہاتھوں بیچ دی جاتی ہیں اور اکثر اوقات وہ بچیاں خود بھی بیچ دی جاتی ہیں۔ واپسی کا راستہ کوئی بچتا نہیں اور حالت یہ ہو جاتی ہے کہ پیچھے گڑھا، آگے کھائی…عزت تجھ کو راس نہ آئی۔
کچھ عرصہ پہلے کراچی کی ایک معصوم بچی کو موبائل فون پہ پٹا کے ایک لڑکا ٹیکسی میں بٹھا کے اسے کسی دوسرے شہر لے گیا اور اس سے نکاح کر لیا۔ بچی کے باپ نے اغوا کا اور گمشدگی کا مقدمہ درج کروایا اور پورے میڈیا کو بیچنے کیلئے چورن مل گیا۔ میڈیا اور سوشل میڈیا دن رات باپ کو سستی شہرت کا بھوکا اور بچی کی زندگی کا ولن گرداننے لگے۔ یہاں تک کہ بچی کے حمل کی کہانی بھی سنا دی اور بچی کا ایک کے بعد ایک انٹرویو بھی نشر کیا جانے لگا۔ مگر باپ آخر باپ تھا اور اس نے اپنی معصوم بچی کی بازیابی کیلئے ہر ظلم برداشت کیا۔ طنز کا ہر وار سہا اور آخرکار عدالت نے بچی کو باپ کے سپرد کر دیا ورنہ وہ بچی بھی شاید کسی ڈارک ویب سائٹس پہ لوگوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنی ہوتی اور زندگی میں ہی زندہ لاش بن کے بنا کفن کے ان دیکھی قبر میں قید ہو جاتی۔ وہ ممالک جہاں کروڑوں لوگوں کے اربوں مسائل ہیں ہر شخص زندگی کی جنگ لڑ رہا ہے۔ ہر شخص بقا کیلئے سانسوں کی ڈوری کھینچ رہا ہے وہاں ایسی شادیوں کا چورن میڈیا کیوں بیچتا ہے۔ وہ چورن جس سے سکول کالج میں پڑھنے والی بچیوں اور بچوں کو دن رات محنت کر کے تعلیم کے میدان میں جھنڈے گاڑنے کی بجائے انہیں سستی شہرت کا انجکشن لگایا جاتا ہے کہ کوئی بھی لڑکا کسی بھی لڑکی کو بھگا کے اس کے خاندان کی عزت نیلام کرے گا تو اسے ہیرو بنا دیا جائے گا۔ ان کو ان کی زندگی پہ فلم یا ڈرامہ بنانے کا جھانسہ دے دیا جائے گا۔ ان کا نام تاریخ میں امر کر دیا جائے گا اور ان خبروں کو دن رات میڈیا و سوشل میڈیا پہ چلا کے حقوق نسواں کی تنظیمیں فنڈنگ حاصل کر سکیں گی اور ایک خاندان کی حرمت، عزت و آبرو کو سربازار رسوا کر کے اپنی جیبیں بھرنے کا کام لے گی۔ زندہ لاش بن جانے والے بھائی اور باپ کو سرعام رسوا کرے گی اور جرائم پیشہ افراد کے جرائم کو عشق و محبت کا روپ دے کے اپنی مٹھی گرم کرے گی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا جہان میں قوانین میں تبدیلی کی جائے اور اگر کوئی لڑکی ولی کی مرضی کے بغیر نکاح کرتی ہے، ایجاب و قبول کرتی ہے۔ شادی کے پھیرے لیتی ہے تو قانونی طور پہ ان کے خاندان والوں کو خاص طور پہ باپ، بھائی ماں بہن کو ان سے مہینے میں ایک بار ملنے کا حق دیا جائے۔ اگر انہوں نے اپنے ہی خاندان کے خلاف رپورٹ لکھوائی ہے تو یہ ملاقات قانون کے رکھوالوں کی موجودگی میں کروائی جائے تاکہ لڑکا یہ مت سمجھے کہ یہ لڑکی اب ایک کٹی ہوئی پتنگ ہے اسے جو چاہے لوٹے۔ اصل پتنگ کے مالک کا اس سے رشتہ ناطہ ختم کر دیا گیا ہے اور پتنگ کی ساری بھاگ دوڑ اس لڑکے کے ہاتھوں میں آ چکی ہے۔
ہم سب جانتے ہیں کہ خزاں کا موسم درختوں کے پتے گرانے کیلئے آتا ہے تو ان گرے ہوئے پتوں کا نہ ہی تو کوئی نام باقی رہ جاتا ہے نہ ہی مقام اور نہ ہی ان کے ہرا بھرا رہنے کا کوئی جواز۔ وہ زمین کی نذر ہوتا ہے،کھاد بن جاتا ہے یا پھر صفائی کرنے والے کے ہاتھوں سے ہوتا ہوا کسی کوڑے کی ٹوکری کا ڈھیر بنا دیا جاتا ہے۔
ماں باپ کا بھی کام ہے کہ وہ بچوں بچیوں پہ نظر رکھیں۔ ان سے پورے دن کے بارے میں پوچھیں۔ سکول، کالج اور آن لائن ان کے دوستوں کے بارے میں سوال جواب کریں۔ کمرے میں بند ہو کے وہ آن لائن رہ کے اپنے موبائل پہ یا کمپیوٹر پہ جو کام کرتے ہیں اس کی پوری جانچ پڑتال کریں۔ قدم قدم پہ انہیں اپنے سایہ دار وجود کا محبت بھرا سایہ اور پھل فراہم کریں تاکہ ان کے قدم نہ بھٹکیں۔ ماں باپ، بہن بھائیوں کے ملنے والے پیار و محبت کی کمی کو وہ کہیں اور پورا کرنے کی کوشش نہ کریں۔ ان کی زندگی کا بنیادی مقصد اپنی عزت و آبرو کی حفاظت کرنا ہو۔ اپنی تعلیم پہ توجہ دے کے معاشرے کا موثر فرد بننا ہو اور علم و ہنر سیکھ کے اپنے فن میں یکتا ہو ،شہرت کا حصول ان کی زندگی کا اولین مقصد ہو جو شہرت نیک کاموں کے ذریعے کمائی جائے نہ کہ بدنامی کو شہرت سمجھ کے، رسوائی کو عزت جان کے اور بے حیائی کو حیا سمجھنے کی غلطی کرنیکی کی جائے کیونکہ ایسا کرنے سے شہرت نہیں ملتی بلکہ شہرت کے نام پہ پورے خاندان کو رسوائی ملتی ہے۔ سر پہ عزت کی چادر اوڑھانے والا گھر سے بھگا کے عزت کو داغ دار کرتا ہے، اسے چار چاند نہیں لگاتا۔ آپ کو یا آپ کی بچی کو اکیلا وہ کرتا ہے۔ آپ سے چھینتا وہ ہے جس نے اسے اکیلا کر کے اپنے منظوم مقاصد میں کامیابی حاصل کرنی ہوتی ہے اور وہ کامیابی کبھی گوگل کے چکلوں میں بند ہو جاتی ہے تو کبھی شہر کے چکلوں میں۔ اور ان مقامات پہ پہنچنے سے پہلے اپنی بچی کی، اپنے بچے کی عزت کی حفاظت کرنا آپ کا کام ہے۔ ماں باپ، بہن بھائی، تایا چچا، پھوپھا، ماموں، خالو کا کام ہے میڈیا کا نہیں۔ میڈیا مال بنانے کیلئے بیٹھا ہوتا ہے۔ آپ کی عزت کی حفاظت کرنا اس کا کام نہیں ہے اور یہ بات ماں باپ کو ذہن نشین کرنی چاہئے تاکہ کوئی بچی کوئی غلط قدم نہ اٹھائے نہ اپنی منزل سے بھٹکے۔ پوری دنیا کو ڈاکٹرز، انجینئرز، استاد اور دیگر شبعوں میں ماہر افراد کی ضرورت ہوتی ہے نہ کہ عاشقوں کی۔ عاشق کسی عمر میں بھی بنا جا سکتا ہے، تعلیم کبھی بھی حاصل کی جا کستی ہے مگر جوانی ایک دفعہ ہی آتی ہے، عزت پہ چھوٹا سا داغ ساری عمر کے اعلیٰ کردار کا سرف بھی نہیں دھو سکتا اور یہ بات ماں باپ کو اپنے بچوں، بچیوں کو اچھی طرح باور کروانے کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر بچہ یا بچی اپنی پسندیدگی کا اظہار کر بھی دے تو اسے ڈانٹ ڈپٹ کے خاموش نہ کروایا جائے نہ ہی کسی زبردستی کے بندھن میں باندھا جائے بلکہ اس کی پسند کے لڑکے یا لڑکی کے خاندان سے بات کی جائے۔ اس کی محبت کے دعوے کو پرکھا جائے اور پھر سب جانچ پڑتال کر کے بچی، بچے کو زمانے کے سرد گرم بتا دئیے جائیں۔ اپنے تجربے کا نچوڑ ان کے آگے رکھا جائے کہ ان کا یہ انتخاب صحیح ہے یا غلط اور اگر غلط ہے تو کیوں۔ تاکہ بچی یا بچہ ماں باپ کو اپنا دشمن نہ سمجھیں اور گھر سے بھاگ کر جرائم پیشہ افراد کی خوراک نہ بنیں۔
یاد رکھیں آپ کو یا آپ کی اولاد کو تنہا وہ کرتا ہے جس نے مارنا ہوتا ہے جان کو یا عزت کو یا آبرو کو۔ آپ سے مخلص شخص آپ کی اولاد کبھی بھی آپ سے نہیں چھینے گا اور نہ ہی انہیں کوئی غلط رستہ دکھائے گا۔ میں امید کرتی ہوں کہ عدالتوں میں کئے گئے فیصلوں کو بچوں، بچیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے اور جرائم پیشہ افراد کو محبت کا میٹھا نوالہ دے کے بچیوں کو زہر دینے سے روکا جائے گا۔













