ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

1
1385

میں چلا ہوں علی سے ملاقات کو

جس کی تھی آرزو وہ گھڑی آگئی

کچھ رشتے ایسے ہیں جن کو انسان زندگی کے کسی لمحے بھی فراموش نہیں کر سکتا، ان رشتوں میں ایک رشتہ استاد کا بھی ہے۔ کچھ استاد ایسے ہوتے ہیں جن کی تعلیم کبھی فراموش نہیں کی جاسکتی۔ خلوص، ایثار، ایمانداری، وسیع النظری، محبت و اخلاق، اخلاص و شرافت یہ سب ایک جگہ جمع ہو جائیں تو شہید پروفیسر سبط جعفر زیدی کا پیکر بنتا ہے، اگر ان کی علمی قابلیت کا تذکرہ کیا جائے تو شاید ہی کوئی ایسا دنیاوی علم ہوگا جس سے وہ نا آشنا ہوں، وکالت، صحافت، مرثیہ نگاری، نقادی، شاعری، ماہر تعلیم، سوز خوانی، خطیب و مصنف، شاید ہی کوئی علمی اور ادبی گوشہ ہو، جو ان کی خدمات سے محروم رہا ہو

انہوں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی علم کو تقسیم کرنے میں کسی بھی طرح کے مذھبی تعصب اور تنگ نظری کو آڑے آنے نہیں دیا تھا-وہ زمیں کی طرح تھے جس پر نیک و بد سب ہی چلتے ہیں اور سب فیض پاتے ہیں-

سید سبط جعفر حسن زیدی المعروف استاد سبط جعفر زیدی 7 مارچ 1957ءکو کراچی، پاکستان میں پیدا ہوئے۔ انکے والد مولانا سید احمد میاں زیدی ایک عالم دین تھے۔ سبط جعفر زیدی نے 1971ء میں گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول لیاقت آباد کراچی سے میٹرک کیا اور گورنمنٹ اسلامیہ کالج، کراچی میں داخلہ لیا جہاں سے 1975ء میں گریجویشن مکمل کی۔ گورنمنٹ کالج آف ایجوکیشن کراچی سے بی ایڈ کیا، پھر 1977ء میں کراچی یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات کی ڈگری حاصل کی۔ فیڈرل لا کالج کراچی سے ایل ایل بی کیا۔ 1979ء میں کراچی یونیورسٹی سے اردو ادب میں ایم اے کیا۔ ایک عالم دین کے فرزند ہونے کی حیثیت سے استاد سبط جعفر زیدی نے مذہبی تعلیم میں بھی اسناد، مدرسہ الواعظین، جامعہ امامیہ ناظم آباد کراچی سے حاصل کی۔

سبط جعفر زیدی نے 1977ء سے 1981ءتک سید صغیر حسین جعفری ایڈووکیٹ اینڈ کمپنی کے ہمراہ وکیل کی حیثیت سے کام کیا۔ وکالت کے پیشے کو ترک کرنے کے بعد انہوں نے 1981ء میں سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا اور ان کی سب سے پہلے گورنمنٹ کالج لطیف آباد، حیدرآباد میں تعیناتی ہوئی۔ نومبر 1981ء میں انکا تبادلہ گورنمنٹ ڈگری کالج، لیاقت آباد میں ہوا جہاں وہ اسلامیات، مطالعہ پاکستان اور اردو ادب کے مضامین پڑھاتے تھے۔ 2010ء میں انہیں اسی کالج کے پرنسپل کا عہدہ ملا۔

سبط جعفر واقعی شہر علم کے اندر باب بو تراب سے داخل ہونے والوں میں سے تھے-تبھی تو علم کے گوہر نایاب ان کے دماغ میں آتے اور ہم جیسے طفلان مکتب علم کی تشنگی کو دور کیا کرتے تھے-ان کے قاتلوں کی بدبختی ہے کہ انہوں نے ایک ایسے عالم کے خون کا جرم اپنے سرلےلیا جس کی سیاہی سے ان کی آنے والی نسلیں بھی متاثر ہوتی رہیں گی-

شاعر اہلیبت محترم صفدر ہمدانی کا یہ قطعہ شہید سبطِ جعفر کے لئے تھا کیا خوب کہا

ہونٹوں پہ تیرے عشق محمد کی پیاس ہے

تو بزم سوز خوانی کی برحق اساس ہے

بستہ بلک بلک کے ہے فریاد کر رہا

تیرے بغیر مرثیہ،نوحہ اداس ہے

سادہ لباس زیب تن کئے ہوئے، ایک پرانی سی موٹر سائیکل پر سوار پورے شہر میں سر وعدہ پہنچنے والے شخص کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ یہ شخص ایڈووکیٹ، مصنف و شاعر اور سوز خوان و قومی سماجی کارکن ایک کالج کا پروفیسر، کئی مذہبی اور تعلیمی اداروں کا بانی، پاکستان میں فن سوز خوانی اور مرثیہ خوانی کے مؤثر ترین بلکہ واحد ادارے، ادارہ ترویج سوز خوانی کا سربراه اور ان سب باتوں سے بڑھ کر شاعر و مداح اہلبیت (ع) تھا۔ ہزاروں شاگردوں کی مختلف میدانوں میں تربیت کرنے والے سبط جعفر کی شخصیت سادگی میں پر کاری کا مصداق تھی۔ طبیعت کی سادگی نے مزاج کو اتنا شفیق کر دیا تھا کہ ہر ملاقات کرنے والا یہ سمجھتا تھا کہ استاد اسی سے اتنا قریب ہیں۔ بچے بڑے کا فرق ان کی نظر میں کیا تھا بس احترام کرنا تھا ہر انسان کا اور وہ بھی عبادت جان کر۔ ہر وقت خوشگوار مزاج میں دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے کے مشاق ہر حال میں راضی برضائے الہی نظر آتے۔ ایکسیڈنٹ میں ہاتھ ٹوٹا اور میری ان سے اسپتال میں ملاقات ہوئی اور ہاتھ پر بندھا پلاسٹر دیکھ کر میں نے خیریت دریافت کی تو بولے بس طوطا پال لیا ہے۔ جب آنکھ کا آپریشن ہوا تو پھر ملنے کا اتفاق ہوا، جب عیادت کی تو بولے کچھ نہیں بس چند دنوں آرام کرنا تھا۔ نہ جانے کون سا دل دے کر خدا نے انہیں اس زمین پر بھیجا تھا۔ اتنی سادگی تھی کہ سادگی بھی شرما جائے۔

مولانا سید احمد میان زیدی راہی جہانگیر آبادی مرحوم ابن مولانا سید انوار الحسن زیدی کے گھر سن 1957ء میں آپ کی ولادت ہوئی۔ تعلیم کے مراحل طے کرتے ہوئے نمایاں امتیازی حیثیت سے متعدد مضامین میں ایم اے، بی ایڈ، ایل ایل بی اور جامعہ کراچی سے پوسٹ گریجویٹ سرٹیفکیٹ بزبان عربی بدرجہ امتیاز حاصل کیا۔ ادیب اعظم، مفسر قرآن مولانا ظفر حسن نقوی امروہوی کی سرپرستی اور مولانا پروفیسر سید عنایت حسین جلالوی صاحب کی نگرانی میں مدرسۃ الواعظین جامعہ امامیہ کراچی سے گریجویٹ مبلغ کورس بھی مکمل کیا اور اس کے بعد عملی وکالت اور سول سروس سے دستبرداری کے بعد پبلک سروس کمیشن کی سفارش پر گورنمنٹ کالج (محکمہ تعلیم / حکومت سندھ) میں ایسوسی ایٹ پروفیسر، مشیر قانون و نگران امورِ طلبہ اور ناظم تقریبات مقرر ہوئے۔ اس کے علاوہ پیشہ وارانہ اور شعبہ جاتی وابستگیاں کچھ اس طرح تھیں۔

سبط جعفر اپنا تو ، کل یہی ہے سرمایہ

ہم یہی سنائیں گے جب امام آئیں گے

استاد سخی صرف علم کے نہ تھے بلکہ وہ مال کے سخی بھی تھے-ساری زندگی انہوں نے مال و دولت کو جوڑنے کے فعل سے نفرت کی اور اپنے مال و دولت کو ہمیشہ ضرورت مندوں میں تقسیم کرنے کو مقدم جانا-استاد اتنے سخی تھے کہ کسی ضرورت مند کی مدد کے لیے قرض لینے سے بھی گریزاں نہ ہوتے تھے-اور یہ عمل سخاوت بھی ضرورت مندوں کی مذھبی یا نسلی تفری‍ق کے تابع نہیں تھا-استاد نے علم و مال دونوں کی سخاوت میں کسی تعصب کو آڑے آنے نہیں دیا-

مختلف دینی، ادبی، علمی و سماجی و ثقافتی اداروں سے مختلف حیثیتوں میں وابستگی کے علاوہ دورانِ طالب علمی اسکول، کالج اور یونیورسٹی میں مختلف عہدوں پر منتخب ہوئے۔ (کراچی یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کا کونسلر، FR چیئرمین پریس اینڈ پبلیکیشنز اور چیئرمین اسپورٹس بورڈ۔ اس دوران اعلٰی سطح پر کرکٹ اور ٹیبل ٹینس بھی کھیلی)۔ انجمن محمدی قدیم (رجسٹرڈ) کے صدر اور انجمن سوز خوانان کراچی کے بھی عہدے دار رہے۔ انجمن محبان اولیاء کے مرکزی خادم، بانی رکن ہونے کے علاوہ کراچی بار ایسوسی ایشن اور سندھ پروفیسرز لیکچررز ایسوسی ایشن کی رکنیت کے علاوہ آرٹس کونسل آف پاکستان (کراچی) کی تاحیات رکنیت حاصل تھی۔ نیز بین الاقوامی ادارہ تزویج سوز خوانی کے بانی ہونے کے علاوہ انجمن وظیفہ سادات و مومنین پاکستان رجسٹرڈ کے مرکزی صدر (2005ء تا 2008ء) ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔ بطور شاعر و سوز خوان مختلف ممالک کی سیاحت و زیارت کا شرف حاصل ہوا۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی نامور یونیورسٹیز (بالخصوس ہارورڈ یونیورسٹی) نے بطور ماہر فن خصوصی پذیرائی کی۔

ریڈیو ،پی ٹی وی سے وابستگی 1967ء سے رہی خصوصاََکمپےئر ،سوزخوان ،مقرر ،مہمان صدر سے بھی شرکت کی ۔جبکہ بطور شاعر و نا ظم نعت ،نعت خوان ریڈیوِ ،ٹی وی سے طویل اور مستقل وابستگی رہی ۔

نارویجن ریڈیو / ٹی وی پر بھی بطور ادیب و شاعر و سوز خوان پروگرام کئے۔ نیز مختلف سرکاری اور نجی چینلز کے لئے خصوصی پروگرام تحریر و تیار اور پیش کیے۔ بطور محقق و مصنف 1996ء پاکستان ٹیلی وژن نے صوتی علوم و فنونِ اسلامی پر “لحن عقیدت” کے نام سے دس خصوصی تحقیقی و معلوماتی پروگرام نشر کئے۔ بطور شاعر و سوز خوان تقریباً 50 آڈیو، ویڈیو کیسٹس اور سی ڈیز EMI، شالیمار، رضوی کیسٹس، زیدی پروڈکشن، یاسین اسٹوڈیو، جعفری کسیٹس، پنجتن کیسٹن، AB میوزک سینٹر، باب العلم کیسٹ لائبریری، عترت فاؤنڈیشن، پیام، ترابی کیسٹس لائبریری، شاہ جی اسلامک سی ڈی سینٹر وغیرہ نے جاری کئے۔ ان میں سے خاصا مواد مختلف اداروں نے سی ڈی اور ویب سائٹ / انٹرنیٹ پر بھی جاری کر رکھا ہے اور مزید کام جاری ہے۔

آپ کہا کرتے تھے میں غریب علاقے میں بچوں کی تربیت کرنے میں بہت سکون محسوس کرتا ہوں ۔ بقول حکیم محمد سعید سچ بات یہ ہے کہ مجھے پہلی بار صوفی علوم وفنون اسلامی پر نئے انداز سے نمود فکر کا موقع پروفیسر سبط جعفر نے فراہم کیا ۔بقول پروفیسر سحر انصاری :، پروفیسر سبط جعفر ادب میں ان اہم موضوعات پر کام کررہے ہیں جن پر ابھی تک کوئی کام نہیں ہوا ۔ شاید قدرت نے ان کو اسی کام کے لئے دنیا میں بھیجا

اس کے علاوہ آپ کی تصانیف میں انٹر میڈیٹ اور ڈگری کلاسز کیلئے نصابی، امدادی نصابی کتب 1983ء سے 1988ء کے دوران متعدد بار شائع ہوئیں۔ مطالعہ پاکستان، عمرانیات اور اطلاق عمرانیات وغیرہ نیز منتخبات نظم و نثر، “زادِ راہ”، “نشان راہ” اور صوتی علم و فنونِ اسلامی وغیرہ۔ علاوہ ازیں علمی دینی ادبی سماجی اور فن و ثقافت کے حوالہ سے مختلف مقامی و قومی اور بین الاقوامی اخبارات و جرائد میں مضامین و مقالات شائع ہوئے۔ بالخصوص روزنامہ جنگ، اخبار جہاں، عوام، نوائے وقت، قومی اخبار، پبلک، امن حریت، جہانِ چشت، تنظیم، ندائے اسلام، رہنما، نوائے اسلام، توحید، سنگم ٹائمز، عوامی مسائل، اصلاح، سفینہ (ناروے) اور دیگر جبکہ مختلف مجلوں، رسالوں اور خصوصی شماروں کی ادارت اور ترتیب و تدوین و اشاعت کی سعادت بھی حاصل کی۔ بالخصوص منتخب و معیاری کلام پر مشتمل مجموعہ کلام “بستہ” انتخاب بستہ اور گلدستہ وغیرہ شامل ہیں۔

تعلیم و تدریس کے حوالہ سے شاگردوں کی تعداد ہزاروں میں ہے، تصنیف و تالیف اور شعر و سخن میں بھی بہت سے شاگرد ہیں، تاہم سوز خوانی کے حوالہ سے براہ راست استفادہ کرنے والے خواتین و حضرات کی تعداد بھی سو سے زائد ہے، جو کراچی و بیرون کراچی اور ملک سے باہر بھی کسی نذرانہ یا کرایہ آمد و رفت کے بغیر یہ خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ (ان افراد کے متعلقین اور بالواسطہ استفادہ کرنے والے بے شمار ہیں)۔ لیکن جب خود ان کے جاہ و حشم کا تذکرہ کروں تو ان خراب حالات میں بھی اپنی روٹین کے مطابق اسی موٹر سائیکل پر اکیلے پورے شہر میں گھومنا کیونکہ خود ہی تو کہتے تھے

موت برحق ہے تو پھر موت سے ڈرنا کیسا

ہے شہادت کی خبر اپنے لئے خوشخبری

آج دشمنوں نے بلاشبہ ایک بہت بڑے ہدف کا انتخاب کیا، کیونکہ کسی بھی قوم کو اگر تباہ کرنا ہو تو اس کی علمی اور تربیتی بنیادوں کو کمزور کر دو، بس وہ قوم خود بخود تباہ و برباد ہوجاتی ہے۔ اسی نظریہ کے پیش نظر ہزاروں جوانوں کے مربی اور مرد مومن استاد سبط جعفر کو ڈگری کالج لیاقت آباد کہ جس کالج میں وہ علم دوست جوانوں کو علم کی دولت سے مالا مال کیا کرتے تھے، علم دشمنوں نے اپنے ہدف کا نشانہ بنایا اور وہ اس حملے میں شہید ہوگئے۔ ورثاء میں ایک بیٹا دو بیٹیاں اور ان کی اہلیہ شامل ہیں۔ آج ببانگ دھل یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ مرثیہ نگاری کا قلم ٹوٹ گیا۔ علم کی مسند ویران ہوگئی، بلکہ کیا لکھوں، ایک انسان اس دنیا کی وحشی گری کا شکار ہوگیا۔ مگر یہ دشمن کی بھول ہے کہ وہ سبط جعفر کو شہید کر پایا ہے، کیونکہ سبط جعفر کسی شخص واحد کا نام نہیں بلکہ ہر باشعور انسان، علم دوست جوان اور اردو زبان عزاداران شہہ مظلوم کا نظریہ اور اسکی فکر کا نام ہے۔

آج ببانگ دھل یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ مرثیہ نگاری کا قلم ٹوٹ گیا۔ علم کی مسند ویران ہوگئی بلکہ کیا لکھوں، ایک انسان اس دنیا کی وحشی گری کا شکار ہوگیا۔ مگر یہ دشمن کی بھول ہے کہ وہ سبط جعفر کو شہید کر پایا ہے، کیونکہ سبط جعفر کسی شخص واحد کا نام نہیں بلکہ ہر باشعور انسان، علم دوست جوان اور اردو زبان عزاداران شہہ مظلوم کا نظریہ اور اسکی فکر کا نام ہے۔

پروفیسر سبط جعفر زیدی ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ انہوں نے بحیثیت معلم قوم کے مستقبل کے معماروں کی تربیت کے لیے عملی طور پر بہت سے اقدامات کیے جو اب ہمیشہ ان کے نام سے ہی وابستہ رہیں گے ۔پروفیسر سبط جعفر زیدی ادارہ ترویجِ سوز خوانی کے بانی تھے۔ یہ سوز خوانی کی ترویج و رقی کے لیے ایک بین الاقوامی آرگنائزیشن ہے جس نے سوز خوانی کی بقا اور ارتقا میں بہت اہم کردار

ادا کیا ہے۔استاد سبط جعفر زیدی جے ڈی سی (جعفریہ ڈیسازٹر مینیجمنٹ سیل )کے فعال رکن اور بانیوں میں سے تھے۔

پروفیسر سبط جعفر نے اپنی ساری زندگی علم کے فروغ کے لئے وقف کرکے اپنے آپ کو علم کی دنیا میں ہمیشہ کے لئے امر کردیا۔آپکی نماز جنازہ امروہہ گراوٴنڈ انچولی میں ادا کی گئی جس میں تمام مکاتب فکر کے علماء شعراء ، اساتذہ اور انکی دی ہوئی تعلیم سے سرفراز ہونے والے شاگردوں نے شرکت کی آپ کو وادی حسین قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا ۔

شہید سبط جعفر نے اپنی راہ و روش اور موت کا انتخاب جس آگاہی اور شعور کے ساتھ کیا، بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔ آپ ایک مستند اہل علم و فضل تو تھے ہی، لیکن سب کچھ ہونے کے باوجود ان کی سادہ زیستی بلندی کردار کی دلیل تھی۔

انھیں یقین تھا تو اس بات کا کہ شہید کا خون کبھی رائیگاں نہیں جاتا، انھیں یقین تھا کہ شہید کا خون ملت کی رگوں میں شعور بن کر سرایت کر جاتا ہے۔ انھیں یقین تھا قرآن کے ان الفاظ پر کہ خدا کی راہ میں قتل

ہو جانے والوں کو مردہ مت سمجھو۔

انھیں یقین تھا میثم تمار کے پاکیزہ لہو پر جو حق کی گواہی دیتے ہوئے بہایا گیا۔ انھیں یقین تھا تو اپنے جد زید بن علی زین العابدین کی حقانیت پر۔ انھیں یقین تھا اس بات پر کہ

قتل گاہوں سے چن کر ہمارے علم

اور نکلیں گے عشاق کے قافلے

نظریات کبھی مرتے نہیں۔بس وقت ان پر سوالوں کی ضربیں لگاتا رہتا ہے

پروفسیر سبط جعفر کا قتل تعلیم دشمن کا واضح ثبوت ہے اْن کی شہادت نے پاکستان کو عظیم سرمایہ سے بھی محروم کردیا۔شہید سبطِ جعفر کا یہ کلام جب جب پڑھا جاتا ہے لکھا جاتا ہے اشکوں کی لڑیاں آجاتی ہیں ۔

جب خدا کو پکارا علیؑ آ گئے

جب علیؑ آ گئے زندگی آ گئی

زندگی بندگی روشنی آگئی

روشنی آگئی آگہی آ گئی

موت اِنکے محبوں کو آتی نہیں

آ بھی جائے تو پھر بچ کے جاتی نہیں

موت کا کیا خطر موت سے کیا ہے ہذر

اس سے بچنا بھی کیا آگئی آ گئی

تیری مسند پہ غیروں کو بٹھلا دیا

وارثِ مصطفیٰﷺ مظہرِ کبریا

تُو علیؑ و وصیُ و ولیُ ہی رہا

منزلت میں تیری کیا کمی آ گئی

ہم کےسرشار عشق و تولہ میں تھے

جانتے ہی نہ تھے نفرت و دشمنی

یہ تبرا بھی واللہ کیا چیز ہے

ہمکو اغیار سے دشمنی آ گئی

مسلکِ عشق میں مانگنا عیب ہے

میں بھی خاموش ہوں وہ بھی خاموش ہیں

اُنکو سب ہے خبر اسلئے چُپ ہوں میں

کیا ہوا آنکھ میں گر نمی آ گئی

خمس دینا مودت کی اِک شرط ہے

اور نہ دینا بھی مثلِ فدک ہے گناہ

حقِ سادات و زہراؑ کے مقروض سے

جب تبرا سنا تو ہنسی آ گئی

کیوں نہ روئے وہ قسمت کو اپنی صدا

جنکا پورا مقدر ہے لعنت زدا

جنکی قسمت میں اپنے ہی اعمال سے

بنتِ احمد کی ناراضگی آگئی

سورۃِ آلِ عمران بھی ہے گواہ

مثلِ کوثر ہوئی آل اُنکو عطا

وہ جو کہتے تھے ابتر نبیﷺ کو میرے

اُنکی قسمت میں ابتری آ گئی

عشقِ حیدرؑ میں پھرتے تھے شام و سحر

اُنکے مدح ہیں سارے جن و بشر

اُنکی آورگی کا سفر دیکھ کر

ذہن میں فکرِ آوارگی آگئی

شاعری کی شرائط بتا بھی گئے

اور مئے عشقِ حیدرؑ پلا بھی گئے

سبطِ جعفر میں قرباں مئے عشق کے

ابنِ جعفرؔ کو بھی شاعری آ گئی

۔آفتاب احمد

SHARE

1 COMMENT

  1. شہید سید سبط جعفر زیدی ہندوستان کے اترپردیش کے ضلع بجنور کے دیہات ملک جہانگیرآباد میں پیدا ہوئے اور 5 سال کی عمر میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ کراچی پاکستان ہجرت کی

LEAVE A REPLY