کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب کسی نہ کسی بڑے کا بیرونی دورہ خبر میں نہ ہو ۔ہمارے ملک کی تاریخ ہے کہ سیاسی رہنما جتنے بیرونی دورے کرتے ہیں اتنے شاید ہی کسی ملک کے رہنما اپنے ملک پر بوجھ ڈالتے ہوں ،خاص کر یہ دو پارٹٰیاں جب بھی حکومت میں آتی ہیں بیرونی دوروں کی، باہر علاج کرانے کی ،چیک اَپ کے لئے جانے کی نوید ہر دن خبر کا حصہ بنتی ہے ۔اگر یہ دورے اپنے خرچے پر ہوتے ہیں تب بھی ہم حٰیران ہیں کہ اتنی کمائی کیسے ہوتی ہے ویسے تو بہت سی تنخواہیں سُن کر ہی ہمارے ہوش اُڑ جاتے ہیں لاکھوں کروڑوں جو کبھی حیران کر دیا کرتے تھے اب اس طرح لئے جاتے ہیں جیسے آلو پیاز ۔ہر تنخواہ لاکھوں میں ہے کہاں سے دی جاتی ہے کیسے دی جاتی ہے پتہ نہیں ۔
اگر یہ دورے ملک کے خزانے سے کئے جاتے ہیں تو ملک کا جو حال ہے سمجھ میں آتا ہے ۔کیونکہ نہ اسکول نہ کالج ،نہ یونیورسٹی ،نہ اسپتال سب کچھ تنزلی کا شکار کہ جب اہم کام غیر اہم کر دئے جائیں تو ملک کہیں نظر نہیں آتا ،یہ سب کچھ ہمارے عوام دیکھتے بھی ہیں سُنتے بھی ہیں اور بُھگتتے بھی ہیں لیکن شاباش ہے کہ کبھی کسی احتجاج یا شکایت کے لئے کوئی بھی باہر نہ نکلتا ہے نہ ہی نکلنے والوں کا ساتھ دیتا ہے ،بلکہ خوش ہے کہ جس طرح چاہے رکھو ہم تماہرے ہیں ۔کیونکہ ابھی ایک سروے آیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستانی سب سے زیادہ خوش قوم ہے ۔ہمیں بہت خوشی ہوئی کہ کہیں تو اچھا ئی میں نام آیا ۔
ہم نے کبھی کسی ملک کے حکمرانوں کو اس طرح بے دریغ بیرونی دورے کرتے نہیں سُنا اور ہماری حالت تو اب یہ ہو گئی ہے کہ ہمارے بے کُرسی وزیرِ اعظم (کیونکہ وہ خود کو وزیرِ اعظم نہیں سمجھتے ) امریکہ میں ایک عام پاکستانی کی طرح جوتے اتارتے ،بیلٹ نکالتے ،اور تلاشی دیتے دکھائے گئے ،ہماری اآنکھوں میں صدر ایوب کا دور گھوم گیا بھٹو کا دور گھوم گیا ،مشرف کا دور گھوم گیا ،جب ہی کہتے ہیں شاید کہ قدر کھو دیتا ہے ہر روز کا آنا جانا ۔لیکن ہمیں کوئی شرمندگی ہے نہ افسوس ۔کیونکہ ہم ان تمام باتوں سے بہت آگے نکل گئے ہیں ،صرف اور صرف شخصیت پرستی اور بے پنگم حکومتی دور میں ۔
جو علاج باہر ہورہے ہیں اُن کا بِل کس کھاتے میں جاتا ہے وہ بھی اللہ ہی کو معلوم ہے ۔کیونکہ ایم این اے یا سینیٹر بننے کا مطلب ہے کہ سارا خرچہ تمہارے سَر ،عوام کا کچومر نکل گیا ہے اور اب تو علاج اتنا مُشکل ہو گیا ہے کہ لوگ اپنی تکلیفیں بھی چھپانے لگے ہیں گھر والوں سے کہ نہ اسپتال جائینگے نہ خرچ ہوگا کہاں سے لائینگے یہ دوائیں جو سونے کی قیمت میں مل رہی ہیں ،لیکن کوئی بات نہیں ہمارے بڑے تو صحت کی وہ سہولتیں لے رہے ہیں جو بڑے بڑے ملکوں کے حاکم بھی برداشت نہیں کر سکتے ۔لیکن ہمارا خزانہ کھلا ہے ۔
کاش کبھی تو کوئی پوچھے کہ یہ علاج جو بیرونِ ملک ہوتے ہیں ہمیں کس کھائی میں لے جاتے ہیں ،جو اُن اسپتالوں میں مہینوں علاج کراتے ہیں جہاں کا خرچہ شاید ملکہ بھی نہیں اُٹھا سکتیں وہ ہمارے غڑیب ملک کے حاکم کس طرح ادا کرتے ہیں ۔؟؟
ایسا لگتا ہے کہ ملک میں اندھوں بہروں اور گونگوں کی حکومت ہے ،کیونکہ کوئی بھی کسی ایسے معاملے پر بات نہیں کرتا جو عوامی ہو یا عوام کے مفاد میں ہو جو لوگ پارٹیاں چھوڑ رہے ہیں وہ اپنی پارٹی پر تنقید کر رہے ہیں جو پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں وہ کس نیت سے شامل ہو رہے ہیں پتہ نہیں ۔ہمیں صرف اتنا پتہ ہے کہ سب پاکستانی ہیں اور پاکستان سے محبت رکھتے ہیں لیکن یہ محبت صرف زبانی کلامی نہیں ہونی چاہئے نظر بھی آنی چاہئے جو اچھا کام کرے اُسے سراہنا چاہئے چاہے اختلاف کتنا ہی کیوں نہ ہو ،اور جو برا کرے اُسکی نشابدہی احسَن طریقے پر کرنی چاہئے ۔ان دو پارٹیوں کو اب اپنے اندر نئے لوگوں کو جگہ دینی چاہئے بہت حکومت کر لی اب نئے لوگوں کو آگے لانا چاہئے کوئی ضروری نہیں کہ بے نظیر کے صاحبزادے اور صاحبزادیوں میں وہ ہی خسوصیات ہوں جو اُنکی والدہ میں تھیں یا والد میں ہیں ،اور کوئی ضروری نہیں کہ میاں صاحب کی صاحبزادی ویسے ہی داؤ کھیل سکیں جیسے اُنکے والد اور چچا کھیلتے تھے ،اس نئی نسل کو بھی ان باتوں کے خلاف اُٹھ کھڑا ہونا چاہئے کہ بس بہت ہوگیا اب نئے لوگوں کو موقعہ دو ،
لہرا لہرا کر تقریریں کرنا یا اُنگلی کے اشاروں سے مجمعے کو ہپناٹائز کرنا جو چچا بھتیجی کا امتیاز ہے ضروری نہیں کہ ہر دور میں کامیاب ہو ،اب عوام کو بھی عقل کے ناخن لینے چاہئیں بہت اآزما لیا اب نکل کھڑے ہو اپنی بہتری کے لئے اپنی اولاد کے مستقبل کے لئے ،جسٹس صاحب کو چاہئے کہ وہ ان بیرونبی دوروں کا بھی نوٹس لیں اور معلوم کریں کہ خرچہ کون اُٹھاتا ہے اور کیسے اٹھاتا ہے ؟
بہت سارے دوہری شہریت والے لوگ بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیں جن کی لسٹیں نکل رہی ہیں ،دوہری شہریت برائی نہیں ہے لیکن جب آپ کسی سرکاری عہدے پر ہوں پھر یہ ملک کے لئے تازیانہ بن جاتی ہے ۔وزیرِاعظم باہر نوکری کر رہے ہیں ۔وزیرِ خارجہ باہر نوکری کر رہے ہیں وزیر داخلہ باہر اقامہ رکھتے ہیں۔ کیوں ؟ یہ پتہ نہیں ۔عام پاکستانی تو رُل جاتا ہے اپنی فیملی تک کو بلانے کے لئے اُسے اجازت نہیں ملتی لیکن یہ حکمران جہاں کا چاہے اقامہ بھی لے لیتے ہیں اور جہاں چاہے نوکری بھی مل جاتی ہے کیونکہ انہوں نے سب کچھ اپنے لئے کیا ہے عوام کے لئے نہیں ۔
ہمارے لوگ جو متحدہ عرب امارات میں اور بیشتر دوسرے ممالک میں نوکریاں کرتے ہیں وہ کن کن عزابوں سے گزرتے ہیں ہمارے حکمرانوں نے کبھی نہ سوچا نہ ہی اُن کے لئے کبھی بات کی ۔کیونکہ یہ وہ مزدور ہیں جو ان ممالک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں لیکن انتہائی نا مساعد حالات کا شکار رہتے ہیں ملک میں اپنی خون پسینے کی کمائی بھیجتے ہیں لیکن ملک کے حاکم انکی کوئی پزیرائی نہیں کرتے ۔پڑوسی ملک کی مثال لے لیں ان کے صدر نے کس طرح اپنے لوگوں کو ان ممالک میں نوکریاں دلائی ہیں کس طرح انکی بہبود کا خیال کیا ہے وہ بھی سب کے سامنے ہے ۔لیکن افسو ہم مسلمان ہوتے ہوئے مسلمان ممالک سے بھی اپنے عام آدمی کےلئے آسانیاں نہیں لے سکے ،جو روزگار حاصل کرنے جاتا ہے ۔
جب سارے عہدے اپنی اِنٹی میں رکھے جائینگے جو ان دونوں بھائیوں نے وطیرہ بنایاہوا تھا تو نتیجے یہ ہی نکلینگے ۔لیکن اب دہائی دے رہئے ہیں کہ سب ایک ہو جاؤ ۔
ہمیں لگتا ہے جو یو ٹرن میوں صاحب اور صاحبزادی نے لیا ہے وہ کوئی اور خطرناک کھیل تو نہیں بن جائیگا کیونکہ ملک کہیں نہیں ہے صرف اور صرف اپنا مفاد اور اپنا بھلا چاہئے ۔اقتدار کا نشہ کسی صورت اترتا نظر نہیں آرہا ۔لیکن عوام کو شہ پر بنناپڑیگا جب تک عوام نہیں بولے گی نہیں نکلے گی زیادتیوں اور محرومیوں کے خلاف جب تک یہ سرکس اسی طرح چلتا رہے گا اور یہ کاغزی شیر یونہی دھاڑتے رہینگے ایک کوڑا چاہئے سخت اور بے رحم کوڑا جب تک سختی نہیں ہوگی نہال ،نہال ہوتے رہینگے اور طلال اور دانیال خوشحال ہوتےرہینگے ۔یہ پہیہ چلتا رہے گا اور ہم پستے رہینگے ہمارا تیل نکلتا رہے گا ۔
اس سب کے باوجود ہمیں لگتا ہے کہ بس اب اور نہیں ۔لیکن یہ بس جب ہی ہوگی جب جسٹس صاحب نرمی اور محبت کو کم کرینگے ،جب تک کچھ لوگ سخت عدلیہ کے زیر حکم نہیں آئینگے یہ تضحیک اور تزلیل چلتی رہے گی ۔کرپشن ہوتی رہیگی اور یہ ملک دشمن طریقے ملک کو کمزور اور بد حال کرتے رہہینگے ۔جس طرح نہال کے بچوں کا خیال کیا ہے سارے ملک کے بچوں پر ہاتھ رکھیں جو کرپشن کے مارے ہوئے ہیں ۔ جو ان سیاست دانوں سے جھوٹ غلط بیانی ،بے ایمانی اور حقوق غصب کرنے کا سبق سیکھ رہے ہیں ۔انہیں بتائیے کہ فیصلے کس طرح ایسے دماغوں کو پا بندِ سلاسل کرتی ہے تاکہ ایک اچھا اور سچا معاشرہ وجود میں آسکے ۔۔ہمیں امید ہے کہ نہال صاحب اب کبھی بھی کسی بھی بات میں غلط بیانی اور تضحیک کا شائبہ بھی نہیں رکھینگے ۔ ورنہ احسان فراموشوں کی صف میں بھی اآجائینگے ۔نئی نسل پر احسان کریں زبان کی حفاظت کریں ۔
نیب کے باہر جو عدالت سجائی جا رہی ہے وہ عبرت دلانے کا کافی ہے ۔کہ تین دفعہ اتنے بڑے عہدے پر رہنے والے کس طرح اپنے ہی بنائے اداروں پر کیچڑ اُچھال رہے ہیں صرف اپنا جھوٹ اور کمزوری چھپانے کو ۔آپ سے صرف یہ ہی تو پوچھا جا رہا ہے کہ کہاں سے آئی یہ دولت ،؟خاقان صاحب نے کیا نئی چال چلی ہے پتہ نہیں ،یہ بھی شاید سرکس کا کوئی نیا کرتب ہے جب کھلے گا تب پتہ چلے گا ،
اللہ میرے ملک کو ان سرکس کے شیروں سے بچائے آمین

SHARE

LEAVE A REPLY