لو رکھ دی ہے میں نے بنائے محبت
ترا ساتھ بھی ہے عطائے محبت
میرے مسلک عشق میں یہ ہی واجب
نماز عشق کی اقتدائے محبت
چلو سورہ وصل مجھکو سناؤ
لو اب اوڑھ لی ہے ردائے محبت
میرا رزق رازق نے لکھا ہوا ہے
مجھے مل رہی ہے دعائے محبت
تمیں نفرتوں کے خدا ہوں مبارک
میرا تو خدا ہے خدائے محت
مجسم محبت کو دیکھا ہے کس نے
کسی میں ہے دم تو دکھائے محبت
تہی دست اُس سا نہیں کوئی بے شک
تری آنکھ سے جو نہ پائے محبت
محبت خدا تک رسائی کا زینہ
محبت نہیں ہے برائے محبت
نہیں راس مجھکو لباس حریری
میرے تن سجی ہے قبائے محبت
ہے خیرات چشم فقیراں یہ آنسو
کہاں میری قسمت رلائے محبت
محبت کا نغمہ وہ نغمہ ہے صفدر
جسے خامشی سے سنائے محبت
سفدر ھمدانی













