محبت کا نغمہ وہ نغمہ ہے صفدر

0
923

لو رکھ دی ہے میں نے بنائے محبت
ترا ساتھ بھی ہے عطائے محبت

میرے مسلک عشق میں یہ ہی واجب
نماز عشق کی اقتدائے محبت

چلو سورہ وصل مجھکو سناؤ
لو اب اوڑھ لی ہے ردائے محبت

میرا رزق رازق نے لکھا ہوا ہے
مجھے مل رہی ہے دعائے محبت

تمیں نفرتوں کے خدا ہوں مبارک
میرا تو خدا ہے خدائے محت

مجسم محبت کو دیکھا ہے کس نے
کسی میں ہے دم تو دکھائے محبت

تہی دست اُس سا نہیں کوئی بے شک
تری آنکھ سے جو نہ پائے محبت

محبت خدا تک رسائی کا زینہ
محبت نہیں ہے برائے محبت

نہیں راس مجھکو لباس حریری
میرے تن سجی ہے قبائے محبت

ہے خیرات چشم فقیراں یہ آنسو
کہاں میری قسمت رلائے محبت

محبت کا نغمہ وہ نغمہ ہے صفدر
جسے خامشی سے سنائے محبت

سفدر ھمدانی

SHARE

LEAVE A REPLY