احتساب عدالت میں جرح کے دوران پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء نے اعتراف کیا ہے کہ نواز شریف کے آف شور کمپنیوں، لندن فلیٹس، العزیزیہ اسٹیل ملز کی ملکیت کی کوئی دستاویز نہیں ملی۔ واجد ضیاء نے کہا کہ موساک فونیسکا نے بھی نواز شریف کے ان کمپنیوں کے بینی فیشل اونر ہونے کی کوئی ایسی معلومات نہیں دی، قطری خط میں بھی ان کا نام نہیں، گلف اسٹیل ملز کی فروخت کی رقم کے لین دین میں شامل نہیں تھے۔ جس پر نوازشریف کے وکیل نے کہا کہ واجد ضیاء رضا کارانہ جواب دے رہے ہیں اسے ریکارڈ کا حصہ بنالیں۔احتساب عدالت کے جج نے کہا کہ جتنا ہو سکے مختصر جرح کریں، عدالت پہلے ایون فیلڈ ریفرنس کو مکمل کریگی پھر دیگر ریفرنس سنے گی۔بعدازاں عدالت نے مقدمے کی سماعت آج تک کیلئے ملتوی کر دی۔ بدھ کے روز احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کے خلاف ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس کی سماعت کی، نواز شریف،مریم نواز اور کیپٹن صفدر عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ سماعت
کے دوران واجد ضیاء کے بیان پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے جرح شروع کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا آپ نے ایون فیلڈ پراپرٹیز سے متعلق نواز شریف کی ملکیت کی کوئی دستاویزات پیش کیں۔ جس پر انہوں نے کہا کہ نہیں ایسی دستاویزات ہمارے پاس نہیں اور نہ پیش کیں، ایون فیلڈ پراپرٹیز، نیلسن اور نیسکول کی ملکیت تھیں۔ خواجہ حارث نے سوال کیا کہ ایسی کوئی دستاویز پیش کی کہ نواز شریف ایون فیلڈ پراپرٹیز کے بینیفیشل اونر ہیں؟ جس پر واجد ضیاء نے کہا کہ ایسی دستاویزات پیش نہیں کیں جن سے ثابت ہو نواز شریف بینی فیشل اونر ہیں۔ خواجہ حارث نے سوال کیا کہ کوئی ایسی دستاویزات کہ ماضی میں کبھی نواز شریف ان کمپنیوں کے بینیفیشل اونر تھے؟ جس پر جے آئی ٹی سربراہ نے کہا کہ نہیں ایسی کوئی دستاویزات نہیں ہیں۔ نواز شریف کے وکیل نے سوال کیا کہ نیلسن اور نیسکول کے ساتھ کیا غیر سرکاری فرم موزیک فونسیکا ڈیل کر رہی تھی؟ جس پر واجد ضیا نے کہا کہ یہ درست ہے کہ یہ غیر سرکاری مگر رجسٹرڈ فرم ہے. خواجہ حارث نے سوال کیا کہ موزیک فونسیکا نے کوئی ایسی معلومات دیں کہ نواز شریف ان کمپنیوں کے بینی فیشل اونر ہیں، واجد ضیا نے کہا کہ نہیں کوئی ایسی معلومات نہیں دی گئیں۔ اس موقع پر واجد ضیاء نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے موزیک فونسیکا سے براہ راست کوئی خط و کتابت نہیں کی، موزیک فونسیکا پرائیویٹ لا فرم تھی اور ہم نے براہ راست بی وی آئی اٹارنی جنرل آفس سے خط و کتابت کی۔ واجد ضیاء نے بتایا کہ ابتدائی طور پر ہم نے بی وی آئی کی ایف آئی اے کو خط لکھا جس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا جس پر نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ والیم چار کا صفحہ 53 اور 54 دیکھیں، کیا یہ خط بی وی آئی کی ایف آئی اے نے نہیں لکھا۔ جس پر واجد ضیاء نے کہا کہ جوابی خط مجھے براہ راست نہیں ملا جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ آپ جتنا مرضی گھمائیں میرا سوال وہی ہے۔ واجد ضیاء نے کہا کہ خط ڈائریکٹر فنانشل انویسٹی گیشن ایجنسی کے دستخط کے ساتھ تھا جو جے آئی ٹی کے نام لکھا گیا جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ خط کے مندرجات سے ظاہر نہیں ہوتا کہ خط اٹارنی جنرل آفس سے بھیجا گیا۔ واجد ضیاء نے کہا یہ درست ہے کہ خط کے مندرجات سے پتا نہیں لگ رہا کہ یہ اٹارنی جنرل آفس سے بھیجا گیا۔ جے آئی ٹی سربراہ نے مزید کہا کہ جزوی طور پر درست ہے کہ بینی فیشل اونر کا نتیجہ 2012 اور 2017 کے 2 خطوط کی بنیاد پر نکلا جس پر نواز شریف کے وکیل نے فاضل جج سے درخواست کی کہ یہ رضا کارانہ جواب دے رہے ہیں اسے ریکارڈ کا حصہ بنالیں۔ واجد ضیاء نے کہا کہ ان دو خطوط اور وہاں کے قوانین کے مطابق بینی فیشل اونر کا نتیجہ نکالا تاہم رجسٹرڈ آف شئیر ہولڈرز کی اصل دستاویزات کبھی نہیں دیکھیں۔ سربراہ جے آئی ٹی نے کہا کہ ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ نواز شریف گلف اسٹیل کے مالک یا شیئر ہولڈر ہوں تاہم جے آئی ٹی کے سامنے صرف طارق شفیع نے کہا کہ گلف اسٹیل کا شئیر ہولڈر شریف خاندان ہے اور کسی گواہ نے نہیں کہا کہ نواز شریف گلف اسٹیل کے مالک یاشیئر ہولڈر ہیں۔ سماعت کے دوران احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث سے مکالمہ کیا کہ آپ کچھ مختصر جرح نہیں کرلیتے؟جتنا ہوسکتا ہے مختصر کریں، ابھی تو مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے بھی جرح کرنی ہے۔ جج محمد بشیر نے کہا کہ عدالت پہلے ایون فیلڈ ریفرنس کو مکمل کرے گی پھر دیگر ریفرنس سنے گی۔ فاضل جج کے ریمارکس پر خواجہ حارث نے کہا کہ واجد ضیا نے جورضاکارانہ طور پر باتیں کیں ابھی ان پربھی جرح کرنی ہے، ابھی میں نے واجد ضیاء کا بیان نہیں پڑھا، وہ سوالات کیےجو میرے ذہن میں ہیں، واجد ضیاء کا بیان پڑھنے کے بعد مزید جرح کروں گا اور امید ہے کہ جمعہ تک جرح مکمل ہوجائے گی۔ خواجہ حارث نے کہا کہ سپریم کورٹ میں جو قطری خطوط آئے انکے 3 پہلو ہیں، قطری خط کاپہلا پہلو یہ ہے کہ 1980میں سرمایہ کاری ہوئی، دوسرا پہلو یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ سرمایہ تقسیم ہوا، تیسرا پہلو 2006 میں ایون فیلڈ پراپرٹیز کی سیٹلمنٹ سےمتعلق ہے۔ خواجہ حارث نے واجد ضیا سے سوال کیا کہ قطری خط میں کسی بھی پہلو سے نواز شریف کا نام موجود ہے؟ اس پر واجد ضیا نے کہا کہ نہیں، تینوں پہلوؤں میں کہیں بھی نواز شریف کا نام موجود نہیں۔ خواجہ حارث نے پوچھا کہ دوران تفتیش کسی نے نواز شریف کا نام کسی ٹرانزیکشن میں ہونےکی گواہی دی؟ کیا کسی نے نوازشریف کا نام ایون فیلڈ پراپرٹیز،گلف اسٹیل ملز میں لیا؟ واجد ضیاء نے کہا کہ نہیں دوران تفتیش کسی گواہ نے بھی نواز شریف کا نام نہیں لیا













