ایران کا اسرائیل کیخلاف ‘ آپریشن ٹرو پرومِس’

0
721

برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کے مطابق ایرانی فوج کی جانب سے جاری بیان میں اسرائیل پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ حملے یکم اپریل کو دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر حملے کا جواب ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کے اسرائیل پر اس حملے کو ’Operation True Promise‘ کا نام دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ اقوام متحدہ میں ایرانی مشن کا سو شل میڈیا پر بیان سامنے آیا جس میں کہا گیا ہے کہ ایران کی فوجی کارروائی دمشق میں ایران کے سفارتی احاطے کے خلاف اسرائیل کی جارحیت کے جواب میں کی گئی، معاملہ اب ختم سمجھا جا سکتا ہے۔

ایرانی مشن کا کہنا ہے کہ ایران پر حملہ کیا گیا تو مزید شدت سے جواب دیاجائے گا۔

ادھر ایران کے وزیر دفاع نے ایک بیان جاری کر کے پڑوسی ممالک کو خبردار کیا کہ ان میں سے جو بھی ڈرون کو روکنے کے لیے اسرائیل کے لیے اپنی فضائی حدود کھولے گا اسے نشانہ بنایا جائے گا۔

اس کے علاوہ ایرانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران کسی بھی فوجی جارحیت کے خلاف اپنے جائز مفادات کے تحفظ کے لیے مزید دفاعی اقدامات کرنے سے دریغ نہیں کرے گا۔

اسرائیل نے ملٹی ائیر ڈیفنس سسٹم لانچ کردیے
عرب ٹی وی پر اسرائیلی تجزیہ کار روری شالون نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے ملٹی ائیر ڈیفنس سسٹم لانچ کردیے ہیں، اسرائیل نے ایرانی حملے سے محفوظ رہنے کیلئے آئرن ڈوم بھی لانچ کیا ہے۔

اس کے علاوہ اسرائیل فضائیہ نے ڈیوڈ سلنک نامی دفاع نظام اور ایرو ٹو اور ایرو تھری بھی لانچ کر دیا ہے۔

ادھر اردن نے اسرائیل کو ایرانی ڈرون سے بچانے کیلئے فضائی سسٹم کو فعال کرنا شروع کر دیا جبکہ قبرص میں موجود برطانوی جنگی طیارے مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ ہوگئے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایران کے حملے کے بعد اسرائیلی لڑاکا طیاروں کا غزہ سے انخلا ہوگیا، غزہ جنگ کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیلی لڑاکاطیارے غزہ میں موجود نہیں ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY