منشی عجائب لال جو کہ منشی پریم چند کے والد تھے آپ کے یہاں 1880ء کو ایک بچے کی پیدائیش ہوئی جسکا نام دھنپت رائے رکھا گیا ۔
منشی پریم چند کا اصلی نام دھنپت رائے تھا جو اُن کے والد صاھب نے رکھا لیکن اُن کے چچا نے اپنے بھتجے کا نام پریم چند رکھا اور آگے چل کر وہ منشی پریم چند کے نام سے شہرت کی بلندیوں پر پہنچے۔
آپ نے ابتدائی تعلیم لائل پور کے مولوی سے حاصل کی،جہاں منشی پریم چند اردو اور فارسی ذبان کے رموز سیکھے اور ادب سے شناسائی حاصل کی اور 1895ء میں گورکھپور سے مڈل کا امتحان پاس کیا اور بعد میں معلم کی حیثیت سے ملازمت اختیار کی اور ۱۸ روپے ماہوار تنخواہ لیا کرتے تھے۔
بعد ازاں 1899ء میں بنارس میں اسسٹنٹ ٹیچر کی نوکری مل گئی اور 1900ء میں بیرائچ کے گورنمنٹ اسکول میں بہ طور ٹیچر مقرر ہوئے تقرر ہوا اور الہ آباد میں جا کرآپ نے پہلی مرتبہ سنجیدگی سے لکھنا شروع کیا۔
جونئیر اسکول ٹیچر کا امتحان 1908ء پاس کیا اور اسی سال آلہ باد یونیورسٹی سے اُردو ہندی کا خصوصی امتحان پاس کیا 1909ء میں ترقی پاکر سب انسپیکڑ آف اسکولز ہوگئے ۔
فروری 1919 ء1920 ء میں عدم تعاون کی تحریک کے سلسلے میں ملازمت سے علیحدہ ہوئے اور لکھنو میں پہلی مرتبہ انجمن ترقی پسند مصنیفن کی صدارت کی ۔
منشی پریم چند اپنے ناول ’’نواب رائے‘‘ کے نام سے لکھتے تھے آپ کا پہلا ناول ’’اسرارِ مابعد‘‘ رسالہ آوازِ خلق میں 18؍ اکتوبر1903ء کو شائع ہوا جس نے قبول سند عام حاصل کی جب دوسرا ناول ’’کیش نا‘‘ کے نام لکھا جواب موجود نہیں۔
منشی پریم چند کا پہلا افسانوں کا مجموعہ ’’سوزِ وطن‘‘ کے نام سے 1908ء میں شائع ہوا جس میں 5 افسانے شامل تھےان افسانوں میں آزادی ، حریت پسندی، غلامی سے نجات اور علم بغاوت بلند کرنے کے موضوعات کو سمیٹا گیا تھا۔
جس کے باعث ہندوستان پر قابض حکومتِ برطانیہ نے اس افسانوی مجموعے پر پابندی عائد کردی چنانچہ گورکھ پور کی حکومت نے افسانوی مجموعے کی تمام نقول حاصل کر کے جلا دیں اور آئندہ کے لیے سخت پابندی عائد کر دی۔
اس واقعہ کے بعد سے منشی پریم چند اپنا ادبی نام ’’رائے نواب ‘‘ ترک کر کے اپنے چچا کی جانب سے دیے گئے نام میں منشی کا اضافہ کر کے ’’منشی پریم چند‘‘ اختیار کیا اور تا دم مرگ یہی ادبی نام استعمال کرتے رہے۔
منشی پریم چند کے مشہور ناول میں اسرار مابعد اور کشانا مشہور افسانوں میں کفن،حج اکبر اور نجات جب کہ معروف کہانیوں میں انمول رتن شامل ہیں۔
اگر پریم چند کی ابتدائی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ انقلابی اور باغیانہ نظامِ فکر ان کو ورثے میں ملا تھا۔
پریم چند نے جس ماحول میں زندگی گزاری اس میں قدامت پرستی، ذات پات کی تفریق انسانوں کو خاص طور پر غریب لوگوں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے تھیں اور دوسری طرف عصر حاضر کی غلامانہ ذہنیت کا شکنجہ تھا۔ پریم چند کی تمام ترزندگی جدوجہد میں گزری۔ اول اپنے اہل و عیال و اقربائ کی کفالت اور دوسری غمِ روزگار کی بھاگ دوڑ۔ بچپن میں والدہ کے مرنے کے بعد والد نے دوسری شادی کرلی اور اس سوتیلی ماں نے پریم چندپرطرح طرح کے ظلم ڈھائے۔
پریم چند کی ادبی زندگی کا آغاز1901ء سے ہوتا ہے جب انھوں نے ’’زمانہ‘‘ رسالے میں مضامین لکھنے شروع کیے۔ پریم چند کو ہندی اور اردو دونوں زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ لہٰذا انھوں نے دونوں زبانوں میں طبع آزمائی کی۔
افسانہ ’’پوس کی رات‘‘ میں پریم چند کا فن اپنے عروج پر نظر آتا ہے ۔ ان کی فنّی مہارت حقیقت نگاری ،نفسیاتی بصیرت اور تخیل نے مل کر افسانے کو پُراثر اور بلند مقام عطا کردیا ہے ۔ پریم چند نے اپنے بہت سے افسانے اسی موضوع پر لکھے ہیں جن سے ان کا عندیہ یہ ہے کہ قدرت اور انسان کے درمیان محض جبر اور تصادم کا رشتہ ہی نہیں ہے بلکہ اس میں سچی مفاہمتیں اور رفاقتیں بھی ہم آہنگ ہیں یعنی یہ آسمان ، چاند ، تارے، جنگل،پہاڑ، ندی، نالے اور رنگ بدلتے موسم سے انسان کا رشتہ ازلی ہے یہ رشتہ دوستی کا رشتہ ہے جن کے سہارے انسان کبھی نرم کبھی گرم ، کبھی سکھ کبھی دکھ میں زندگی گزارتا ہے اور جب تمام دنیا اس کی دشمن ہوجاتی ہے تو فطرت ہی اسے اپنے آغوش میں پناہ دیتی ہے۔
منشی پریم چند نے مریادا،مالا اور مادھوری کے نام سے نکلنے والوں علمی اور ادبی رسالوں کی ادارت کی اور بعد میں ملازمت ترک کر کے اپنا رسالہ ’’ھنس‘‘ کے نام شائع کیا۔
افسانوں کے مجموعے
( 1) سوزِوطن(1908ء)، (2) پریم دلچسپی جلد اول (1915ء)، (3) پریم دلچسپی جلد دوم ( 1918ء)، (4) پریم بتیسی (1920ء)، (5) خاکِ پروانہ(1921ء)،(6) خواب وخیال ( 1928ء)، (7) فردوسِ خیال(1929ء)،(8) پریم چالیسی (1930ء)، (9) آخری تحفہ (1934ء)،(۱۰) زادِ راہ (1936ء )۔
پریم چند کی افسانہ نگاری کا آغاز بیسویں صدی سے ہو جاتا ہے۔ 19 ویں صدی کی کالونیاں 20 ویں صدی میں کئی نئے ادیبوں سے آشنا ہو گئی تھیں۔
ایک طرف جہاں اردو شاعری میں اقبال نے ایک نئی جہت اور احتجاجی لہر کا آغاز کیا اور 19 ویں صدی کا معذرت خواہانہ لہجہ آہستہ آہستہ احتجاج میں بدل گیا یہی طرز نثری ادب میں دیکھا گیا اور یوں جنگِ عظیم اول 1914ء اور انقلاب روس 1917ء نے سامراجی قوتوں کے رعب میں رخنہ ڈال دیا تھا۔
پریم چند بھی اسی نیم سیاسی اضطراب اور ملک و قوم کی بقاء کے دفاع کے لیے جدو جہد میں گذرے اُس دور سے متاثر ہوئے اور شہرہ آفاق افسانوی مجموعہ ’’سوزِ وطن‘‘ تخلیق کیا جس نے قوم میں حریت و ہمیت کی نئی روح پھونک دی یہی وجہ ہے کہ برطانوی سامراج کو اس مجموعہ پر پابندی لگانی پڑی۔
آپ کی ابتدائی کہانیوں میں حقیقت نگاری کا پہلو نمایاں رہا ہے اور پریم چند اس نکتہ سے واقف تھے کہ حقیقت نگاری کا محدود تصورفن کو تباہ کر دیتا ہے۔
جب ہندوستان میں مذہبی داستانیں اور مافوق الفطرت موضوعات عروج پر تھے، آپ نے بین الاقوامی، ملکی ، علاقائی، معاشرتی اور معاشی مسائل پر قلم اٹھایا۔ آپ نے ہندوستان کے دیہی موضوعات سے ساتھ ساتھ متوسط شہری کی زندگی کے مسائل پر بھی لکھا۔
رومانوی ادیب زندگی کی عکاسی ایک مصور کی حیثیت سے کرتاہے جبکہ حقیقت پسند، زندگی کو فوٹو گرافرکی آنکھ سے دیکھتا ہے۔
پریم چند کے ہاں ہمیں دونوں رویے ملتے ہیں۔ ایک طرف سماج کی سچی اور کھری تصویریں جبکہ دوسری طرف تخیل کی رنگ آمیزی ملتی ہے۔پریم چند کے ہاں رومانیت کا تصور ایک سماجی پہلو لیے ہوئے ہے اور وہ زندگی کی تلخ حقیقتوں سے انحراف نہیں کرتے۔
پریم چند بنیادی طورپر طبقاتی جبر کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ فرد کی آزادی کو بھی اہم سمجھتے ہیں۔ ان کی رومانیت پر وطن پرستی کا رنگ غالب ہے جس کا اظہار ان کی ابتدائی کہانیوں سے ہوتا ہے۔ پریم چند محبت کا تصور رومانوی اثرات کے ساتھ ساتھ تلخ حقائق کا اظہار کرنے سے کتراتے ہیں۔ کیونکہ ان کا تصور محبت سماجی روایت سے منسلک ہے۔ جس میں محبت کے کئی رنگ موجود ہیں۔ جس میں حب الوطنی، کچلے ہوئے طبقات سے ہمدردی، مادی حقائق کی اہمیت کو تسلیم کرنا وغیرہ۔
پریم چند کے کردار اکثر معاشرے کے ستائے ہوئے عام لوگ ہیں۔ انھوں نے ان ستائے ہوئے اور کچلے ہوئے مظلوم لوگوں خصوصاً دیہاتوں میں جاگیرداروں اور مہاجنوں کے ظلم کے مارے ہوئے لوگوں کو زبان دی۔ ان کے اندر آزادی کی تڑپ اور جدوجہد کا جذبہ پیدا کیا اور ایک نئی دنیا تعمیر کی اور طبقات سے آزاد معاشرے کا وجود ان کا بنیادی نظریہ تھا۔ وہ مثالیت اور حقیقت کے امتزاج سے اپنی افسانوی دنیا کی تخلیق کرتے ہیں۔
آپ نے اپنے افسانوں میں سادہ زبان استعمال کی۔ آپ نے سنسکرت کے الفاظ کا کم استعمال کیا۔ آپ نے اکثر کرداروں کے مکالمے ان کی معاشی اور معاشرتی حیثیت کے مطابق لکھے۔ نہ صرف یہ بلکہ ان کے لیے مکالمے ان کے لہجے اور تلفظ میں تخلیق کیے۔ جو آپ کے زبردست مشاہدے کا غماز ہے۔ آپ نے ہندوستان کے لوگوں کو حقیقت پسندی سے روشناس کرایا۔ اُس وقت جب ہندوستان میں مذہبی داستانیں اور مافوق الفطرت موضوعات عروج پر تھے، آپ نے بین الاقوامی، ملکی ، علاقائی، معاشرتی اور معاشی مسائل پر قلم اٹھایا۔ آپ نے ہندوستان کے دیہی موضوعات سے ساتھ ساتھ متوسط شہری کی زندگی کے مسائل پر بھی لکھا۔
کفن حقیقت نگاری کے ساتھ ساتھ فنی جمالیات کی ایک عمدہ مثال ہے۔ یہ افسانہ ان کے اس نقطۂ نظر کا ترجمان ہے جو انھوں نے اپنے ایک خط میں بیان کیا۔ وہ لکھتے ہیں ’’محض واقعات کے اظہار کے لیے میں کہانیاں نہیں لکھتا۔ میں اس میں فلسفیانہ یا جذباتی حقیقت کا اظہار کرنا چاہتاہوں جب تک اس قسم کی بنیاد نہیں ملتی میرا قلم نہیں اٹھتا
انھوں نے کفن میں جس جرأت کے ساتھ انسانی فطرت کو بے نقاب کیا ہے وہ ان کے فن کا کمال بھی ہے اور نقطۂ نظر کااظہار بھی۔ آپ نے ’’کفن‘‘ کے بنیادی کرداروں ’’گھیسو‘‘ اور ’’مادھو‘‘ کے باطن میں گھس کر فطرت کو بے نقاب کیا۔
پوری کہانی کی جان حالات کی ستم ظریقی ہے۔ جس نے انسان کو انسان نہیں رہنے دیا
طبقاتی نظام میں محکوم اور مجبور لوگوں کا استحصال ان کے اندر انسانی احساسات کو ختم کر دیتاہے اور ان کو حیوانی سطح پر رہنے پر مجبور کر دیتاہے۔ ’’کفن‘‘ کی یہ طنزیہ صورت حال اس درد ناک منظر سے شروع ہوتی ہے کہ جھونپڑے کے اندر جواں سال بہو دردِ زہ سے تڑپ رہی ہوتی ہے اور باہر گھیسو اور مادھوبجھے ہوئے الاؤ کے گرد بیٹھے خاموشی سے اس کے مرنے کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔ پریم چند کا کمال یہ ہے کہ وہ کم لفظوں میں بڑی حقیقت کو کہانی کا روپ دیتے ہیں۔
بنیادی طور پر کفن کی کہانی تین حصوں پر مشتمل ہے۔ جس میں پہلے حصے میں کرداروں کا تعارف، دوسرا حصہ بہو کی موت اور اثرات ، تیسرا حصہ غربت و افلا س کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بے حسی کا اظہار۔
پریم چند نے اردو زبان و ادب اور اس کے سرمایہ فکرکو ایک نئی جہت سے آشنا کیا۔ انھوں نے زندگی اور کائنات کو فکر و نظر کے مروجہ زادیوں سے ہٹ کر ایک نئی سطح سے دیکھا۔ ایک ایسی بلند سطح سے جہاں سے زندگی اور انسانیت کا سمندر کروٹیں لیتا اور ٹھاٹھیں مارتا نظر آتا تھا۔ وہ پہلے ادیب تھے جن کی نظر حیات انسانیت کے انبوہ میں ان مجبور اور بے بس انسانوں تک پہنچی جو قدرت کے دوسرے بے زبان مظاہر کی طرح صدیوں سے گونگے اور بے زبان تھے۔ پریم چند نے انھیں زبان دی۔
نوٹ: پریم چند کے دو افسانے ’’کفن اور سبحان بھگت‘‘ پریم چند خود یکجا نہ کر سکے جو بعد میں جعلی ایڈیشن کے ناموں سے شائع ہوئے۔
پریم چند طبعاً ایک غیر متعصب مصنف تھے۔ اس میں شک نہیں کہ زیادہ تر افسانوں میں ہندو کلچر پیش کیا مگر جہاں جہاں انھوں نے مسلم کلچر کے پس منظر میں کہانیاں تحریر کیں۔ ان میں ان کے مشاہدے کی گہرائی کمال پر ہے۔ جس کی عمدہ مثال افسانہ ’’ حج اکبر‘‘ ہے۔
منشی پریم چند کو قصہ گوئی کا شوق بچپن سے ہی تھا۔ دوسرے بچوں کی طرح انہیں بھی اپنی دادی ماں سے قصے سننے کو ملے اور وہ ایسے ذہن نشین ہوئے کہ اُن کہانیوں نے ان کے اندر چھپے فن نے افسانہ نگاری کو جنم دیا۔
اسی کے ساتھ ساتھ پریم چند کو کھیلوں میں بھی بے حد دلچسپی تھی۔ یوں تو وہ سبھی کھیل کھیلتے تھے مگر گلی ڈنڈا ان کا عزیز ترین کھیل تھا۔ وہ پورے پورے دن گلی ڈنڈا کھیلتے رہتے۔ وہ اپنی باری حاصل کرنے کے لئے بڑی سے بڑی چیز بھی قربان کر دیتے تھے۔ ان کے ساتھیوں میں سب سے زیادہ دم دار ٹول مارتے تھے۔ ’’گلی ڈنڈا‘‘ افسانے میں بھی انہوں نے اپنی رغبت اور اپنے ایک دوست’’ گیا‘‘ کو بہت یاد کیا۔ بچپن کی انہیں شرارتوں اور معمولی گھرانوں کے لڑکوں سے دوستی کی وجہ سے ان کی زندگی کے وہ دن سہانے گزرے اور نقش کرتے چلے گئے۔ پریم چند کم عمرسے ہی حساس طبیعت کے مالک تھے۔ اور گاؤں کی زندگی ، رہن سہن اور حالات کا انہوں نے بہت اچھی طرح مشاہدہ کیا تھا۔ دیہی سماج کی مفلوک الحالی اور پستی و بلندی کا بغور مطالعہ کیا تھا۔گاؤں والوں پر ساہوکار ، سیٹھ ، بنئے، پٹواری اور بڑے زمین داروں کے مظالم ہوتے ہوئے دیکھے کسانوں کی سادگی اور جہالت کو دیکھا، پرکھا اور اس قسم کی بہت سی باتیں انہیں بار بار اکساتی رہیں۔ کچھ اس طرح کی باتیں ان کے دل میں گھر کر گئیں، اور ان سب چیزوں کی وجہ سے ان کا دل بے حد متاثر رہتا۔
منشی پریم چند نے چاہے بچپن کو بنیاد بنا کر افسانے قلمبند کئے ہوں یا چاہے اپنے تجربات اور مشاہدات کی بنیاد پر دوسرے افسانے لکھے ہوں، بچوں کے حوالے سے رقم کئے ہوں یا عورتوں مردوں اور بزرگوں کی نفسی وجنسی زندگی کوپیش کیا ہے۔ دیہات کی جزئیات نگاری کے عناصر در آجاتے ہیں ۔ بڑے گھر کی بیٹی، روشنی، وفا کی دیوی، بڑے بھائی صاحب، گلی ڈنڈا، رام لیلا، زیور کا ڈبہ، پوس کی رات، عیدگاہ وغیرہ افسانوں میں گاؤں کے رہن سہن، دیہاتیوں کے خیالات ان کے نظریات، رسومات اور سنسکاروں اور ضعیف الاعتقادیوں کو بخوبی دیکھا جاسکتا ہے ۔
منشی پریم چند نے اپنے افسانوں اور ناولوں میں دیہات کی زندگی اور وہاں کے بسنے والوں کو جس خلوص ، دیانت داری اور تعمیری جذبے کے ساتھ پیش کیا اس سے افسانے کے فن کو فقط جلا ہی نہ ملی بلکہ آنے والی نسلوں کی راہیں بھی ہموار ہوئیں۔منشی پریم چند کے حوالے سے یہی کہا جائے گاکہ منشی پریم چند جیسا افسانہ نگار، ناول نگار اور حقیقت شناس شاید ہی کوئی دوسرا پیدا ہو۔ اور ن کا قلم آخری ناول ’’منگل سوتر‘‘ کو لکھتے ہوئے بیچ میں چھوڑ کر ہی 7اکتوبر 1936کو ہمیشہ کے لئے خاموش ہوگیا۔
دس افسانوی مجموعوں کے تخلیق کار اور ناول نگاری میں سے ڈارمہ نگاری کے رموز تراشنے والے اردو ادب کے پہلے معروف ناول نگار،افسانہ نگار اور ڈرامہ نگارمنشی پریم چند آج بھی اپنی لازوال تحریروں میں زندہ ہے اور علم و ادب کے پیاسوں کوسیراب کر رہا ہے ۔
تحریر آفتاب احمد
کراچی پاکستان













