آئی جی سندھ کو ہٹانے پر وفاقی اور سندھ حکومت آمنے سامنے آگئے، آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے چارج چھوڑنے سے انکار کر دیا، ان کا کہنا ہے کہ وہ وفاقی حکومت کے نوٹیفیکشن تک چارج نہیں چھوڑیں گے۔

واضح رہے کہ سندھ حکومت اے ڈی خواجہ کو عہدے سے ہٹا چکی ہے اور ایڈیشنل آئی جی عبدالمجید دستی کو قائم مقام آئی جی کے عہدے کا چارج دے دیا گیا ہے۔

آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ اور سندھ حکومت کے مابین، تنازع کا گڑا مردہ پھر اُکھڑ کر باہر نکل آیااور توقع کے عین مطابق اس کی چنگھاڑ سندھ سے اسلام آباد تک سنائی دے رہی ہے۔

سندھ حکومت نے اے ڈی خواجہ کی خدمات وفاق کے سپرد کرنے کی درخواست گزشتہ روز ارسال کی تھی اور جواب کا انتظار کئے بغیر آج انہیں عہدے سے فوری طور پر ہٹانے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا ہے۔

نوٹیفکیشن میں اے ڈی خواجہ کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کے احکامات جاری کئے گئے جبکہ سندھ پولیس میں تعینات گریڈ 21کے سینئر افسر سردار عبدالمجید کو آئی جی سندھ کا قائم مقام چارج سنبھالنے کا حکم دیا گیا ہے۔

دوسری جانب وفاقی حکومت نے یہ فیصلہ قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ذرائع کے مطابق فیڈرل اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ کوئی صوبہ یکطرفہ طور پر فیصلہ نہیں کرسکتا۔

تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ سندھ اور وفاق میں براہ راست تصادم والی صورتحال ہے۔

سندھ کے سیاسی حلقوں کے مطابق آج نہیں تو کل اے ڈی خواجہ کے ساتھ ایسا ہونا ہی تھاکیونکہ انہوں نے پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت کی ڈانٹ ڈپٹ کو لفٹ نہیں کرائی تھی، اُن کے عزیز دوستوں کے فون نہیں اُٹھائے۔

سندھ پولیس میں نئی بھرتیوں کا موقع آیا تو حکومت میں شامل کئی وزراء اپنے اپنے جثے کے مطابق حصہ چاہتے تھے مگر اے ڈی خواجہ نے میرٹ کو یقینی بنانے کیلئے فوج اور سی پی ایل سی کے ماہرین پر مشتمل کمیٹی بنادی جس پر انہیں جبری رخصت پر بھیج دیا گیا۔

اس دوران وزیراعلیٰ مراد علی شاہ یہ کہتے نظر آئے کہ آئی جی اپنی مرضی سے رخصت پر گئے ہیں، جبری رخصت کی تلوار سندھ ہائی کورٹ کے حکم امتناع سے ٹوٹی اور اس سال جنوری میں اے ڈی خواجہ نے دوبارہ اپنی ذمے داریاں سنبھال لی تھیں۔

سندھ حکومت کی جانب سے ایڈیشنل آئی جی عبدالمجید دستی کو قائم مقام آئی جی سندھ بنانے اور اے ڈی خواجہ کی جانب سے آئی جی کے عہدے کا چارج چھوڑنے سے انکار کے بعد صورت حال یہ ہے کہ اس وقت ایک صوبے کے دو دو آئی جی ہیں۔

اس صورت حال میں پولیس افسران پریشان ہیں کہ کس آئی جی کا حکم مانیں اور کس کا حکم نظر انداز کردیں

SHARE

LEAVE A REPLY