روسی صدر ولادی میر پوتین نے جرمن چانسلر اینجیلا میرکل سے سوموار کو ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے شام میں باغیوں کے زیر قبضہ شہر دوما پر کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ حملے کے بارے میں قیاس آرائی اور اشتعال انگیزی پر خبردار کیا ہے۔

کریملن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ دونوں لیڈروں نے مغربی ممالک کی جانب سے شام پر کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے الزامات سمیت اس جنگ زدہ ملک کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔روس کی جانب سے اس بات پر زوردیا گیا ہے کہ اس معاملے میں اشتعال انگیزی اور قیاس آرائی ناقابل قبول ہوگی‘‘۔

جرمن حکومت کے ترجمان اسٹیفن سیبرٹ نے ایک بیان میں اس کی تصدیق کی ہے ’’شام کی صورت حال کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا تھا اور چانسلر میرکل نے شامی شہر دوما میں کیمیائی گیس کے نئے حملوں کی مذمت کی ہے‘‘۔

قبل ازیں صدر پوتین کے ترجمان دمتری پیسکوف نے بھی خبردار کیا تھا کہ دوما میں گیس حملے سے متعلق کوئی نتیجہ اخذ کرنا غلط اور خطرناک ہوگا ۔انھوں نے یہ رائے ظاہر کی تھی کہ شامی باغی بھی ایسا حملہ کرسکتے ہیں تاکہ اس کا الزام شامی حکومت پر عاید کیا جاسکے۔

انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’’ صدر پوتین اور وزارت دفاع انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے اس قسم کی اشتعال انگیزی کے بارے میں خبردار کر چکے ہیں ۔اس کا مطلب یہ ہوسکتاہے کہ باغی کیمیائی ہتھیار استعمال کرسکتے ہیں یا اس قسم کے کیمیائی حملے کے بارے میں افواہیں پھیلا سکتے ہیں ‘‘۔

دریں اثناء روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ روسی ماہرین کو دوما میں کیمیائی حملے کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں ۔

SHARE

LEAVE A REPLY