امریکی کانگریس میں فیس بک ڈیٹا چوری سے متعلق زکربرگ سے سوالات

0
733

فیس بک کے بانی مارک زکربرگ آج امریکی کانگریس میں پیش ہوں گے اور 8 کروڑ 70 لاکھ صارفین کا ڈیٹا کیمبرج اینالیٹکا کو فراہم کرنے سے متعلق سوالات کے جواب دیں گے۔ اس سے پہلے انہوں نے صارفین سے معافی مانگتے ہوئے تسلیم کیا کہ انہوں نے صارفین کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ اس سماعت کے بعد صارفین کی معلومات کا تحفظ یقینی بنانے کے سلسلے میں حقیقی تبدیلی آئے گی یا نہیں۔

مارک زکربرگ آج سینیٹ کی تجارت اور انصاف سے متعلق کمیٹیوں کے مشترکہ اجلاس میں پیش ہوں گے۔ وہ اس بات کا جواب دیں گے کہ فیس بک نے کروڑوں صارفین کی معلومات سیاسی مشورے دینے والی فرم کیمبرج اینالیٹکا کو کیوں فراہم کیں۔ یہ وہی فرم ہے جسے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے انتخاب سے پہلے مہم چلانے کی ذمے داری دی تھی۔

مارک زکربرگ نے پیر کے روز تحریری طور پر معافی مانگی۔ وہ اس سے پہلے یہ کہ چکے ہیں کہ ہم نے مناسب حد تک اپنی ذمے داریوں کا ادراک نہیں کیا۔ اور یہ بہت بڑی غلطی تھی۔ اور یہ میری غلطی تھی۔

فیس بک کی چیف آپریٹنگ افسر شیرل سینڈبرگ نے بھی غلطی کا اعتراف کیا ۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہم نے بڑی غلطیاں کیں اور ہمیں اس بات کا احساس ہے۔

لیکن فیس بک کی انتظامیہ تمام الزام اپنے سر نہیں لیتی۔ اس سے پہلے زکر برک اور سینڈبرک کہہ چکے ہیں کہ فیس بک آپ کے بارے میں جو بہت کچھ جانتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ نے اس بارے میں بتانے کا انتخاب کیا۔ اور یہ وہ معلومات تھی جو لوگوں نے پہلے ہی فیس بک پر عام کی ہوئی تھیں۔

کانگریس میں پیش ہونے سے پہلے زکربرگ نے پیر کو بعض قانون سازوں سے نجی ملاقاتیں کیں۔ اس کے بعد کامرس کمیٹی کے ڈیموکریٹ سینیٹر بل نیلسن نے کہا کہ اگر ہم سوشل میڈیا کا غلط استعمال نہیں روکیں گے تو ہم میں سے کسی کی نجی زندگی محفوظ نہیں رہے گی۔

سینیٹ کی عدالتی کمیٹی کے چیئرمین چک گریسلے کا کہنا ہے کہ صارفین یہ جاننے کا حق رکھتے ہیں کہ ان کی معلومات کا تبادلہ کیسے کیا گیا اور زکربرگ آئندہ اسے کیسے محفوظ بنائیں گے۔

سینٹر فور ڈیموکریسی اینڈ ٹیکنالوجی کے جوزف جیروم نے اس بارے میں کہا کہ امریکہ میں فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر بہت کچھ آن لائن معلومات دی جاتی ہے، اور ایپلی کیشن اسٹور پر بھی۔ یہ سب ذاتی ضابطے کے تحت ہوتا ہے۔ اس کی جانچ پڑتال، اس کا نفاذ کیسے ہوتا ہے، یہ کچھ واضح نہیں ہے۔

فیس بک کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ان تمام صارفین کو مطلع کررہی ہے جن کی معلومات کیمبرج اینالیٹیکا کو دی گئی۔ اس کے علاوہ صارفین کو یہ حق دیا جا رہا ہے کہ وہ فیس بک کے سوا کسی اور تک اپنی معلومات کی رسائی کو روکیں۔

شیرل سینڈبرگ کہتی ہیں کہ فیس بک اعلیٰ مقاصد کے لیے پرعزم ہے اور ہم ایک ایسی دنیا پر یقین رکھتے ہیں جہاں لوگ ایک دوسرے سے معلومات اور تجربات کا تبادلہ کر سکیں۔ ہم نے اس کے غلط استعمال کے بارے میں نہیں سوچا تھا

SHARE

LEAVE A REPLY