حضرتِ جوش ملیح آبادی کا خط آیا ہے جنت سے میرے نام

0
197

حضرتِ جوش ملیح آبادی کا خط آیا ہے جنت سے میرے نام

رسمِ الفت کا اب اس عہد میں دستور نہیں

تم یہ کہتے ہو تو جینا ہمیں منظور نہیں

حسرتِ وصل ہے اور داغ نہیں سینے میں

خواہشِ دید ہے اور آنکھ میں ناسور نہیں

جھلملاتے ہوے تاروں میں یہ سنتا ہوں صدا

رونے والے میں تیرے پاس ہوں کچھ دور نہیں

آفتاب تمہارا خط ملا پڑھ کر حالات سے آگاہی ہو میں خط کا جواب ہر گز نہیں دیتا مگر تم نے کراچی والوں کا زکر کر کے مجھے یہاں پر بھی اُداس کر دیا ۔میرا وقت یہاں بہت آسانی اور خوشی کے ساتھ کٹ رہا ہے ۔پڑوس میں رشید ترابی ہیں جن سے میرے اچھے تعلقات ہیں ویسے میری مولیوں سے ایک نہیں بنی مگر رشید ترابی مولوی صفت نہیں ایک ادبی علمی زخائر رکھتے ہیں اور ہم جب کبھی بحث کرتے ہیں کبھی وہ قائل ہوجاتے ہیں کبھی میں ۔

ہلال نقوی کی یاد بہت آتی ہے مولا اُنہے خوش رکھے ایک انسان دوست نرم گداز لہجے کے مالک ہیں میرے کلام پر جو باریک بینی سے کام کیا میں تہہ دل سے مشکور و ممنون ہوں دل سے دعائیں اور پیار ہلال نقوی کے لئے تمہارا جانا ہو انکے گھر تو میرا آداب بولنا ہر سانس میں ہلا ل تمہیں یاد کرتا ہوں تمہاری صحت اور درازی عمر کے لئے دعائیں مانگتا ہوں ۔جتنی محبت چاہت تم نے مجھ سے کی کسی اور نے نہیں کی اپنا خیال رکھا کرو چہل قدمی کیا کروں اب تو تم بھی بزرگی کی صف میں آگئے ہو یہ خوش نصیبی کی علامت ہے ۔میں نے رئیس سے کہا کہ ہلال زمین پر ہے مجھے کوئی ملال نہیں وہ میرے کلام پر کام کر رہا ہوگا ۔میں نے سجاد حیدر اور تم میں کوئی فرق کبھی نہیں رکھا جگ جگ جیو صدا جیو میرے بیٹے ہلال خوش رہو۔
میر تقی میر ،غالب ،انیس میرے گھر آتے رہتے ہیں ۔محرم میرے گھر ہی مناتے ہیں مصطفی علی ہمدانی ساتوں آسمان تک مجلس کی کوریج کر تے ہیں وہ یہاں پر بھی وہی کام احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں ۔جو زمین پر پی ٹی وی کے لئے احسن طریقے سے نبھا رہے تھے ۔

میرے ہمسائے اُستاد بندو خاں گھر ہے جہاں موسیقی کے رنگ بکھیرے جاتے ہیں ۔سارنگی بھی ان ہی کے نام سے منصوب ہوگئی ہے ۔کبھی کبھی جب زیادہ اداس ہوجاتا ہوں تو بندو خاں کے گھر چلا جاتا ہوں بڑے موسیقی کے استاد ہیں راگوں سے کھیلتے ہیں ہمیں بھی راگ سناتے ہیں دل بہل جاتا ہے۔میری بڑی عزت کرتے ہیں ۔

زید اے بخاری جنت ٹرسٹ کے چیرمین ہیں سارے جنت ٹرسٹی بخاری صاحب کے احکامات پر عمل درآمد کرتے ہیں ۔مگر میرے مرید خاص ہیں یہ انکا بڑا پن ہے جو مجھے اس قابل سمجھتے ہیں ۔میری ہر بات کو تسلیم کرتے ہیں میرا مرثیہ خوب لہک لہک کر پڑھتے ہیں ۔داد بھی خوب ملتی ہے ۔ہفتے میں ایک دن میرے گھر تشریف لاتے ہیں ، رئیس امرہوی اورمیں ملکر بخاری صاحب ساتھ کھانا کھاتے ہیں ۔

مصطفی زیدی اپنی کتاب آسمانی سفر کے اختیتامی موڑ پر ہیں جلد منظرِعام پر آجائے گی ۔

پروین شاکر اور جون ایلیا ہمارے محلے میں رہتے ہیں ۔رئیس امروی اور میں ایک ساتھ رہتے ہیں ۔

شام ہوتی ہے احباب جمع ہوجاتے ہیں باتیں کرتے کرتے بزم مشاعرے میں تبدیل ہوجاتی ہے اور یوں صبح تڑکے سب احباب اپنے اپنے گھروں کی راہ لیتے ہیں ۔احمد فراز اور فیض جنہوں نے زمین پر میرے جنازے کو کاندھا دیا تھا یہاں پر بھی مجھ پر اپنی محبتیں نثار کرتے ہیں ۔

استاد قمر جلاوی ،جاں نثار اختر ،کیفی اعظمی ،خمار بارہ بنکوی اور قتیل شفائی محلہ آبِ کوثر کے قریب رہتے ہیں

سالانہ بڑے مشاعرے میں ایک دن پہلے یہ احباب آجاتے ہیں ۔خوب دل کی باتیں ہوتی ہیں ۔

رہا تمہارا سوال کہ زمین پر کیا ہو رہا ہے تو جس اردو کے لئے میں نے ملیح آباد چھوڑدیا ارد و کا عشق

مجھے پاکستان لے آیا وہاں اردو بولنے والوں نے خوب حق ادا کیا ۔یہ ہے تمہاری زمین جہاں اردو کے عاشق کو اخبارات میں جگہ نہیں ملتی ،ریڈیو ٹی وی کی زبانوں پہ آبلے پڑ گئے ہیں میرا نام لینے پر ۔جو زمین پر اردو کے دانشور شاعر جنہے میں اندھوں میں کانا راجا بولوں تو تم کو برا نہ لگے ۔

وہ نام لینے پر میرا شرماتے ہیں ۔میرے نام کا کوئی یتیم خانہ ہی رکھ لیتے ۔بادشاہوں وزیروں درباری لوگوں کے نام پر تم نے نام رکھے ۔میرے نام سے اتنی چڑ ۔مولویوں کے نام پر تم نے کیا کیا رکھا ۔

میں یہاں خوش باش ہوں آئندہ خط لکھنے کی زحمت نہ کرنا ۔

ہم نے جنت انتیظامیہ کو خط لکھا ہے محلہ اردو کے سب لوگوں کی خواہش ہے کہ ایک اخبار نکلے ساحر لدھیانوی ،کیفی اعظمی ،جاں نثار اختر ،علی سردار جعفری،مجروع سلطان گورکھپوری ،شکیل بدایونی ،حسرت جے پوری ،جون ایلیاں ،پروین شاکر ،ادا جعفری ،فیض احمد فیض ، قتیل شفائی ،احمد فراز نے ملکر ایک جنتی ٹرسٹ بنا لیا ہے ۔میر تقی میر اسکے مدیر اعٰلی ہیں ۔سب دوست احباب اس اخبار میں لکھیں گے ۔

تم نے اپنے خط میں پوچھا تھا محسن نقوی کیا کرتے ہیں ۔بابِ رضوان کے چبوترے پر کچھ ملنگوں کے ساتھ نظر آتے ہیں ۔ایک دفعہ میں ان کے یہاں گیا تھا قصیدہ خوانی کی محفل تھی خوب جم جم کر شعر پڑھے جا رہے تھے ۔بہت معصوم بھولے نرم دل انسان ہیں ۔محرم کی مجالس میں آتے ہیں ساتھ میں سبطِ جعفر یہ دونوں بابِ رضوان میں رہتے ہیں ۔

پچھلے ہفتے پروین شاکر آئیں اور کہنے لگیں حضرت میری اصلاح فرمائیں گے کیا ؟میں شام کی چائے پی رہا تھا میرے منہ سے بر جستہ یہ نکل گیا کہ ہم اصلاح کے نہیں صلاح کے قائل ہیں ۔شائد خفگی کا اظہار کیا پھر مسکرا کر کہنے لگیں آپ استاد ہیں کچھ رہنمائی فرمائیں ۔اتنے میں کیواڑ پہ دستک ہوئی ناصر کاظمی آگئے مصافہ کیا اور بیٹھ گئے ،ناصر نے کہا حبیب جالب کے گھر میں بارش کا پانی بھر آیا ہے چھت بھی ٹپکتی ہے آپ سے گزارش ہے کہ ایک دوستوں کی میٹنگ بلائیں ۔اور سب ملکر جالب کے گھر کا بندوبست کریں وہ پریشان ہیں ۔میں نے کہا جالب قطعی اس امداد کو نہیں مانیں گے بلکہ کوئی نظم انقلابی لکھ کر ہمارے سر وں کو جھکا دینگے ۔میں نے کہا جالب کی چھت تو زمین پر بھی ٹپکتی تھی ۔جالب پر پابندی تھی ریڈیو ٹی وی پر سخت منع تھا جالب کا نام لینا کم از کم یہاں سینسر نہیں ہے ۔جالب درویش صفت انسان ہے وہ ہر حال میں

مسکرانے اور زندہ رہنے کا ہنر جانتا ہے ۔

تمہے یہ جان کر حیرت ہوگی یہاں پر بھی منٹو پارک ہے ۔بس فرق یہ ہے کہ سعادت حسن منٹو خود پارک میں ہر شام ترقی پسند دوستوں کی کثیر تعداد کے ساتھ وہاں ہوتے ہیں ۔سرخ گلاب اور موتیے کے پھولوں سے لدا ہوا پارک ہے منٹو کو گلاب بہت پسند ہے اور ساحر لو موتیے کا پھول اسی وجہہ سے ترقی پسندوں کا اجتماع ہر مہینے ایک بار ہوتا ہے ۔

بس اگر کوئی خونی رشتہ دل کو رُولاتا ہے توقلندر بہت یاد آتا ہے سنتے ہیں کہ وہ میرا ہمشکل بنتا جا رہا ہے اسکی معصوم بھولپن کی ادائیں دل کو رولاتی ہیں۔اسکے بچپنے کی معصوم شرارتیں اکثر یاد آتی ہیں فروخ کی آواز میرے کانوں میں آج بھی بازگشت کرتی ہے ۔کلیجہ منہ کو آجاتا ہے جب فروخ تمہاری یاد آتی ہے ۔تمہاری نانی اماں میرے آنسوں رومال سے پوچھتی رہتی ہیں اور کہتی ہیں اپنا فروخ بہت لائق ور محبت کرنے والا ہے کنبے کا خیال رکھے گا ۔اب تو پوتی پوتا والا ہوگیا ہے خانہ کعبہ زیارت پر گیا تھا اﷲسلامت رکھے میرے قلندر کو صدا آباد رہے ۔

سجاد حیدر کبھی کبھار ملنے آجاتے ہیں ۔ماموں جان تمہارے من موجی ہیں آتے ہیں تو کئی بار آتے ہیں وقفہ ہوتا ہے تو بڑا طویل سمجھ سے باہر ہے تمہاری نانی اماں خیریت سے ہیں میرا خیال رکھتی ہیں ۔اور تمہاری اماں بھی جو میرے دل کا قرار تھی اُس کو بھی یہاں آنے میں جلدی تھی گھر آتی رہتی ہے ۔تمہاری ماں کو دیکھ کر جی بہل جاتا ہے سکون پاتا ہوں اسے دیکھ کر ۔بیٹا فروخ اپنا خیال رکھا کرو سویرے چہل قدمی لازمی کیا کرو مسکراتے رہنا رنجیدہ نہ ہونا ،تمہارا بابا ورنہ مچل مچل کر روئے گا ۔

فروخ میرے لال صدا جگ جگ جیو تمہارا بابا تمہیں ڈھیروں دعائیں پیار دیتا ہے ۔فروخ بیٹے تم اپنا جی ہلکان مت کرو کیا ضرورت ہے میرے نام کی شاہراہ کی یہ تو حکومتوں کا کام ہوتا ہے ۔تم کیوں مننت سماجت کر رہے ہو یہ کسی کرم کے لوگ نہیں ۔نہ ہی میرا دن مناؤ میں یہاں خوشی سے لالو لال ہوں۔

میر ،انیس کے ہوتے ہوئے مجھ سے صدارت کرائی جاتی ہے ۔خوب لکھتا ہوں خوب پڑھتا ہوں

کوئی سینسر شپ نہیں۔اِس ہفتے غالب آئے کہنے لگے جوش آپ کے نام کے ڈنکے بجتے ہیں یہاں زمین والوں کی زبانوں پہ لقوہ پڑگیا شائد کسی مصلیحت پسندی کا شکار ہوگیا ہے زمانہ یا یوں کہیں جوش آپ سے زمانہ پھر گیا ہے ۔میں نے کہا آپ درست فرما رہے ہیں ۔غالب مسکرا نے لگے اور کہا کاش آپ اور ہم دونوں زمین پر ہوتے ایک ہی وقت میں تو ہم ہندوستان میں انقلاب برپا کر دیتے ۔

جون ایلیا کے آنے کا کوئی وقت نہیں کبھی تڑکے صبح یا رات ڈھلے اب تو ہمیں عادت سی ہوگئی ہے میں اور رئیس دستک سے پہچان لیتے ہیں جون آئے ہونگے ۔کمال امروہی بھی بھائی سے ملنے آجاتے ہیں بڑی محبت اور خلوص دیکھا ہے میں نے ان بھائیوں میں ایک دوسرے پر جان دیتے ہیں۔

احباب جی کھول کر داد دیتے ہیں ۔میر انیس کہنے لگے مجھ سے ہم یہاں سب ایک کنبہ ہیں ہمیں اور میر تقی میر کو تمہاری شاعری دل سے پسند ہے ۔میں اور رئیس جس گھر میں رہتے ہیں وہ کافی بڑا ہے آم کے پیڑ بھی لگے ہیں وہی جو ملیح آباد میں لگے تھے ۔وہی منظر کشی یہاں پر بھی ہے مجھے یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ میر تقی میر نے مجھے شاعرِ وجدان کا لقب دیا ہے ۔انیس نے میرے محلے کو کوچہ جوش کے نام سے منصوب کر دیا ہے ۔یہ استادوں کی عزت میرے لئے باعث افتخار سے کم نہیں ۔

فیض احمد فیض ،اور احمد فراز نے اسرا کیا آمدِ بہار پر کچھ نثری تقاضے ہیں لکھ دیجئے وہ تحریر جو میں نے رقم کی تمہیں بھیج رہا ہوں ۔”بہار کی آمد ہے دوستوں”

انسانی فطرت ہے کہ وہ پھولوں کے رنگ دیکھ کر مسکرانے لگتا ہے ۔جس طرح ماں کا چہرہ پُر شفقت حسین ہوتا ہے ویسے ہی پھولوں کی نزاکتیں بھی ہوتی ہیں ۔گجرے کی بالیاں،موتیے کی لڑیاں،گلاب کی سحر انگیزی ،گلِ اشرفی وہاں ہوتا ہے جہاں سونا ہی سونا ہو۔گلِ داؤدی کی شفیق مسکراہٹوں کے فن پارے شہکار ہیں آمدِ بہار کے نازک نازک کلیوں میں تازگی احساسِ مروت کے سب جز شامل ہیں۔

رات کی رانی جب اپنے جوبھن پہ بھینی بھینی خوشبوں سے ہواؤں میں ایک دل گداز موسم تخلیق کردیتی ہے سورج مکھی سارہ دن سورج کی جھلسی گرمی سے لڑکر اپنے حسن میں آنچ آنے نہیں دیتا ۔نرگس کے پھول کسی کی راہ تکتے ہیں ۔کوئی آکر اُنکی قصیدہ گوئی کرے ۔اُنکے رنگوں کو دیکھ کر شرمائے ۔کوئی ربائی عشق و محبت کی دہرائے۔چنبیلی کی معطر معطر خوشبوں سے چمن مہکنے لگتا ہے ۔دل میں اک گداس سی لہر پیدا ہوتی ہے ۔ دبی دبی سی اِن خوشبوں کی سر سراہٹ ہوتی ہے ۔اِن چٹختی کلیوں کی آہٹ سے بلبلوں کے قحقے کوئل کی کوک سے دل گداز ہوجاتے ہیں۔ہواؤں میں مُغننی سر تال کے ساتھ راگ ملھوترہ پر کوئی نغمہ چھیڑدے ۔کوئی پائل کی چھن چھن پہ محوِ رقص ہو ۔خوشبوں کا سفر چلتا رہے ۔موتیوں کی مالائیں جھوم اُٹھیں بادِنسیم یہ رونق نکھار سویرے سویرے خراماں خراماں ہر طرف رنگ بکھیرتے ہیں ۔ موتیے کی چٹختی کلیوں لمحوں میں پھول کا سفر طے کرتی ہیں۔یہ قوسوں قزاء کے بکھرے رنگ اپنی نزاکتیں لئے مست مست نظر آتے ہیں۔گل دوپہری کے سلگتے رنگ بھی طبعیت کے اندر شگوفوں کو جنم دیتے ہیں۔سوانیزے

پہ سورج کی کرنیں اَب وتاب سے بکھری پڑی ہیں ننھے ننھے گل دوپہری کے پھول سورج کی کرنوں کی تپش سے لڑتے لڑتے اپنے رنگ ونور کی بارشوں سے ایک رنگینی کے قالین بچھا دیتے ہیں۔ست رنگی تتلیاں جھومتی ناچتی رہتی ہیں کھبی بیلے کے منہ پہ بوسہ کناری میں مصروف تو کبھی موتیے کی ٹہنی میں چٹختی کلیوں کے سراہنے بیٹھ جانا ۔کبھی ہواؤں میں لہرانا تو کبھی گلاب کے پھولوں پہ دستک دینا ۔چھوئی موئی کی کلیاں بھی بیتاب ہیں کوئی شرمیلی اپنے آنچل کو سمیٹنے کی فکر میں بے قرار ہو جیسے ۔یہ خدوخال گلاب کے نقاب الٹ دی ہو جیسے بہار نے ۔صدا بہار کے حسین پھول موسم کی سختیاں ہوں ہوائیں گرم ہی کیوں نہ ہوں اُن کے پہلوں میں یہ حسین فن پارے جھوم جھوم کر اپنی رعنائیاں دیتے ہیں ۔یہ مایوس نہیں کرتے ہر دن سدا بہار کے پودوں میں بہار کے رنگ لہرا رہے ہوتے ہیں۔یہ معصوم بھولپن کی سب ادائیں لئے ٹہنیوں پر جھولتی رہتی ہیں۔ چمپہ کے پھولوں کی بھینی بھینی خوشبوں چودھوی کے چاند کی چاندنی جیسی لگتی ہے ۔جسم بھیگتے رہیں اور احساس کے موتی برستے رہیں۔کنول کے پھولوں پر شبنم کے قطرے ڈولتے ڈولتے پانی پر لہراتے ہوئے کنول کے پھولوں پر حسین نظارے کسی شاعر کا تخیل لگتے ہیں۔فردوس کی سب شمعیں روشن ہیں یہ جلوے چراغِ طور ہے۔رنگ اور خوشبوں کے مہتاب رقصاں ہیں۔ہونٹوں پر تبسم بھی ہے دوستوں بہار ہی بہار ہے ۔آنکھوں کی ہر گرہ کوکھولتی ہے خوشبوں کی مہکار بیلے کی چمن فروز کلیاں گوندھی گئی ہیں جس میں عطر سندل کی ندیاں رکتی ہیں۔یہ کیف ومستی چھائی ہے چمن میں موجِ حسن کی بہار ہے ۔زلفوں کے بکھیرے کسی چنبیلی کے منڈوے تلے مکھڑے پہ تازگی شگفتگی یہ نوخیز کلیاںیہ جوانی کے دھیرے دھیرے انداز یہ غنچوں کی کمانی مہکا ہوا بدن کسی دولہے کی ہو جیسے سُہاگ رات ۔یہ گلاب کی سرخی یہ کانٹوں بھرا جال گلستاں میں چراغاں ہو جیسے بھونورے بنے عشاق یہ گلاب کی کلیاں یہ سہرے کی لڑیاں حیا کا پیکر آنچلوں میں چھپائے کروٹ لی ہو جیسے کسی حسینہ نے ۔فصلِ بہار مبارک ہو عزیزوں۔لچکتی ہوئی شاخوں پہ رنگ و نور کی برسات پھیلی ہے ۔روح کو بیدار کرتی ہیں تخلیق کے اِس سانچے کو۔شاخِ گل سے مسکراہٹوں کے دئے دہکتے ہیں۔لبوں پہ نغمے مکھڑے گن گناتے ہیں۔الجھی ہے صبا کی خنکی ہلچل دلوں میں مچاتی ہے اُلہڑ کافر جوانی کی لچک شعلے بھڑکاتی ہے ۔یہ دل کشی نقوش چمن کے ۔بیاضِ بہار کی آمد آمد ہے۔لبوں پہ یہ جلتے قمقمے یہ ترانے بہار کے ۔آبرو قدرت کی دل ربائی بتا رہے ہیں۔پھولوں کی مسکراہٹوں کی بارات فروزاں نظر آتی ہے۔پدی چڑیاں ننھی ننھی شاخوں پہ جھول کر نغمہ سرائی میں مصروف ہیں ۔بانکپن کے خورشید روشن ہیں ۔ہستی مسکراتی ،گنگناتی ندی کے کنارے

پھولو ں کی قطاریں کسی الف لیلٰی کی داستانوں میں لے جاتی ہے ۔چہچہا تے پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ اُمڈے چلے آرہے ہیں ۔اِن حسین دلفریب نظاروں کی مدعا سرائی میں مصروفِ عمل ہیں۔مور کے پنکھ بھی بیتاب ہیں کھلیں ہواؤں کے جھونکوں پہ رقصِ دل لگی ہوجائے۔گھونگھٹ اُٹھ گئے ہیں بہار کے۔جمالیاتی حسن کی سب حکائتیں رو برو ہیں۔نسیمِ صبح کے تازہ جھونکوں نے نغمہ چھیڑ دیا ہو جیسے۔تلسی کے پودوں پہ مہکی مہکی سی خوشبوں بکھرتی جاتی ہے ندیا کا پانی پک ڈنڈیوں سے لہراتا ہو جیسے۔گیندے کے پھولوں پہ یہ قوسو قزاء کے سب ہی رنگ بادامی بھی ،بنفشی بھی ،سرخ ،پیلا ،اورنج جتنے رنگ وتنے گیندے کے رنگ ۔تروتازہ اور شاداب حسین پھول جو دلوں کو قرار سکون اور راحت کا سامان دیں ۔

تحسین کے سب پھول مرحبا کی صدائیں دے رہے ہیں۔

ہر ایک کانٹے پہ سرخ کرنیں ہر اک کلی میں چراغ روشن

خیال میں مسکرانے والے ترا تبسم کہاں نہیں ہے

کوچہِ جوش
بمقام جنت
جوش ملیح آبادی
تحریر آفتاب احمد

SHARE

LEAVE A REPLY