چیف جسٹس آف پاکستان نے ملک بھر تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے کمیٹی بنانے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوالٹی ایجوکیشن کو یقینی بنانے کے لیے ہر اقدام کیا جائے گا۔

دنیا نیوز کے مطابق تعلیمی اصلاحات کے معاملے پر سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کے زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں وفاقی محتسب طاہر شہباز، ڈاکٹر مختار احمد، وفاقی سیکرٹری کیڈ، فیڈرل ایجوکیشن اور صوبائی سیکرٹریز تعلیم نے شرکت کی۔

اجلاس سے خطاب میں چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 25 اے کے تحت تعلیم ہر شہری کا بنیادی آئینی حق ہے۔ ملک بھر میں کوالٹی ایجوکیشن کو یقینی بنانے کے لیے ہر اقدام کیا جائے گا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی میں تعلیم کا کردار بڑا اہم ہے۔ ریاستی اداروں کی جانب سے تعلیم پر توجہ دیے بغیر کچھ بھی حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کی پالیسی بنانا عدالت کا کام نہیں، تعلیم بنیادی آئینی حق ہے، ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرے، یہ یقینی بنانا عدالت کی ذمہ داری ہے۔

جسٹس ثاقب نثار نے ملک بھر تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے وفاقی محتسب طاہر شہباز کی سربراہی میں کمیٹی بنانے کا فیصلہ کرتے ہوئے متعلقہ اداروں سے کمیٹی کے لیے نام مانگ لیے۔ کمیٹی مل کر نظام میں بہتری کے حوالے سے تجاویز تیار کرے گی۔

SHARE

LEAVE A REPLY