اسلام اور حقوق ا لعباد (38)۔۔۔ شمس جیلانی

0
120

ہم گزشتہ مضمون میں ہمسایوں کے حقوق پر بات کر رہے تھے۔ جو ہم فراموش کیئے ہوئے ہیں۔ جس کی وجہ سے ہمارے ہمسایہ کے مکانوں کی قیمت کبھی بڑھ جاتی تھی اور اس کے برعکس اب گھٹ جاتی ہے۔ اس زمانہ میں ایک بہت چھوٹی سا رواج تھا ؟ مگر اس کی اہمیت بڑی تھی اس لیے اس کوا للہ سبحانہ تعالیٰ نے ا تنی اہمیت عطا فر مائی کہ اسے قرآن کی ایک آیت میں شامل کردیا، وہ تھی اپنی چیزیں ہمسایوں کوا ستعمال کے لیئے پڑوسیوں یا دوسروں کودینا؟ اس سورہ میں جہاں اسلام نے دوسرے کئی اہم اعمال کا ذکر کیا ہے، وہیں اس کاابھی کیا ہے مثلاً سب سے ا ہم رکن نماز میں سستی ، یتیمو کی مدد نہ کرنا اور بھوکوں کو کھانا نہ کھلانے کی مذمت ہے وہیں اپنی چیزیں “ برتنے کے لیئے دوسروں کونہ دینے والوں کی بھی مذمت فرمائی ہے“ (سورہ الماعون آیت نمبر7تا1) وجہ یہ ہے کہ ایک صدی پہلے تک صورتِ حال یہ تھی کہ نہ ہر گلی اور محلہ میں چھوٹے چھوٹے بازار تھے نہ کوئی اور سہولت ،ہر چھوٹے شہر یا قصبے میں صرف ایک ہی بڑا بازار کسی مرکزی جگہ پر ہوتا تھا جہاں سے لوگ ضروریات زندگی خرید سکتے تھے۔ جبکہ دیہاتوں کی حالت ا س سے بھی خراب تھی۔ آجکل کی طرح نہ تیز رفتار کاریں تھیں کہ جن کے ذریعہ چیزیں مین بازار سے منٹوں میں جاکر لے آئیں؟لہذا ہر ایک کی عزت پڑوسیوں کی ہاتھ میں تھی کہ وہ چاہے تواس پر احسان کرکے کسی کی عزت بچا لے یا اس کو ذلیل کردے۔ مثلاً اگر کے اس کے یہاں مہمان آگیا ہے اور اس کا گھر انواع اقسام کی تمام چیزوں سے بھرا ہوا بھی ہو؟ صرف نمک جیسی ایک معمولی چیز گھر میں نہ ہو۔ تو اپنے دروازے پر آئے مہمان کی وہ کھانے سے خاطر تواضع نہیں کر سکتاتھا۔ اس مشکل وقت میں ہمسایوں کا ہی آسرا تھا۔ اس لیئے ہم سایوں سے چیزیں مانگنے کا عام رواج تھا۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اچھا ہمسایہ کتنی بڑی نعمت تھا۔ اور برا ہمسایہ کتنی بڑی لعنت تھا؟ اوراس لیےکے یہ معمولی یا بڑی چیز کے لیے اس تاکیدی حکم نے ہرمسلمان کے کردار میں وہ خوبی پیدا کردی تھی۔ جس کا ذکر ہم اوپر کی سطور میں کرچکے ہیں۔ یہ ان میں ایک ہے جو اسلام نے مسلمانوں کو پورا پیکیج ہمسایوں کے سلسلہ میں دیا ہے ۔ نئی نسل اس بات کو سن کر ہنسے گے کہ کتنا غلط مہمان تھا کہ بغیر اطلاع کہ آگیا؟ ان بیچاروں کو کیا پتہ کہ اس وقت موبائل تو دور کی بات ہے فون بھی نہیں تھے۔ روزانہ ڈاک بھی صرف شہروں میں تقسیم ہوتی تھی اور دیہاتوں میں ہفتے میں ایک مرتبہ ۔ اور پھر خط پہونچتا بھی مہینوں میں تھا۔ دوسری بات بچے یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر بغیراطلاع کے مہمان آہی گیا تھا تو ہوٹل میں لے جاتے اور وہاں خاطر تواضع کرکے رخصت کردیتے۔ تو عرض ہے ہوٹل تھے ہی کہاں ؟ پھرشرفا تو ہوٹل میں جانا کیا وہاں بیٹھنا بھی پسند کرتے تھے۔ لہذا یہ بھی مہمان اور میزبان دونوں کے لیے مشکل اور ذلت کاباعث تھا۔اب آئے دیکھتے ہیں کہ پڑوسیوں کے سلسلہ میں بقیہ پیکج کیا ہے اور ہم آجکل اسے پورا کیسے کرتے ہیں۔سب سے پہلا تو یہ ہے کہ ہر ہمسایہ کا خیال رکھنا ہر مسلمان پر لازم ہے؟ اس لیے کہ اس پر جب تک کھانا بھی حرام ہے جب تک ان کے پیٹ پہلے نہ بھر جائیں ۔ اس لیئے خود کھانا کھانے سے پہلے سب کی خبر گیری کرنا اس کے فرائض میں شامل ہے۔ جب کہ ہمسایہ کے حقوق چالیس چالیس گھر تک چاروں طرف ہیں ۔ پھر ان کے جذبات کا بھی خیال رکھنا ہے کہ انکی عزتِ نفس اس کے کسی غلط اقدام سے مجروح نہ ہو! مثلاً کوئی مقامی نیا نیا پھل بازار میں آیا ہے تواس وقت نہ کھائیں جب تک کہ قریبی ہمسایہ کے گھر نہ بھج دیں؟ اس لیے کہ اس کی خوشبو ہمسائیگی میں کہیں نہ پھیل جائے اس سے اس کے اور اس کے یا اس کے بچوں کے جذبات مجروح ہوں ۔ جبکہ اس پر ہم اس حد تک عمل کرتے ہیں کہ اپنے ملکوں اس کے چھلکے پڑوسی گھر کے سامنے پھینک دیتے ہیں تاکہ اس پر رعب پڑے؟ جبکہ اس طرح کسی کی عزت نفس مجروح کرنے اور برتری ظاہر کرنے کی اسلام اجازت نہیں دیتا اورسخت معیوب سمجھتا ہے۔ دل تو وہاں والوں کا بھی یہاں رہتے ہوئے ایسا کرنے کو چاہتا ہوگا۔ مگر مجبوری یہ ہے کہ یہاں کے قوانین جازت نہیں دیتے اور کئی جگہ تو اس طرح کے جرم کا جرمانہ دو ہزار ڈالر تک ہے۔ جبکہ صفائی ہمارے یہاں نصفِ ایمان ہے یہ ہمیں سکھایا گیا تھاجس میں ہم اب صفر ہیں۔ پھر ہمسایوں کے ساتھ کسی قسم کی بھی برائی کرنے میں گناہ بھی دو گنا ہے۔ چاہیں وہ کوئی بھی بر افعل ہو۔ مگر آج اپنے وطنِ عزیز میں کیا حال ہے۔ زیادہ تر ہر قسم کی برائیاں ہمسایہ ہی ہم سایوں کے ساتھ کرتے ہیں ۔ میں مزید تفصیل میں نہیں جانا چاہتا کہ لکھتے ہوئے میرا قلم کانپتا ہے کہ مسلمان کیا تھے اور اپنے انہیں اعمالوں کی وجہ سے کیا ہوگئے۔ باقی آئندہ

SHARE

LEAVE A REPLY