عدالتی حکم، متعدد سیاستدانوں اور حکام سے اضافی سیکورٹی واپس

0
62

سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں نوازشریف، فضل الرحمان، سمیت سابق متعدد سیاستدانوںاور حکام سے اضافی نفری واپس لے لی گئی، سابق وزرائے اعظم کیساتھ ایک گاڑی، 15اہلکار، سابق وزرائے اعلیٰ اوروزراء کے پاس 1،1گاڑی ،10،10 اہلکار تعینات ہونگے، وزرائے اعلیٰ کی سکیورٹی کا تعین چیف سکیورٹی آفیسرز کرینگے،خیبرپختونخوا میں 1769 افراد سے سیکورٹی واپس لے گئی جسکی رپورٹ آئی جی کے پی پی نے سپریم کورٹ میں پیش کر دی۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں سابق وزرائے اعظم، وزرائے اعلیٰ، وزراء اور سیاستدانوں سمیت دیگر شخصیات کی سکیورٹی پر تعینات اضافی نفری واپس بلا لی گئی ہے، سابق وزیر اعظم نواز شریف کی رہائشگاہ جاتی امراء سے 142 ایلیٹ فورس کے جوانوں اور 210پنجاب کانسٹیبلری اہلکاروں کو واپس بلایا گیا جبکہ سابق وزرائے اعظم، وفاقی اور صوبائی وزراء، سیاسی شخصیات کی سکیورٹی کا تعین بھی کر دیا گیا، نواز شریف کی سکیورٹی پر ایلیٹ فورس کے 162اہلکار
تعینات تھے جن میں سے 142اہلکاروں کو واپس بلا لیا گیا ہے،ایلیٹ فورس کی 7گاڑیاں جو سکواڈ میں شامل تھیں،انکو 14ڈرائیورز کیساتھ واپس بلوا لیا گیا ہے،پنجاب کانسٹیبلری کے 230اہلکار فارم ہائوس کی حفاظت پر مامور تھے جن میں 210اہلکاروں کو واپس بلایا گیا ہے جسکے بعد اب پنجاب کانسٹیبلری کا ایک انسپکٹر، دو سب انسپکٹر، دو اے ایس آئی اور 15کانسٹیبل سکواڈ میں شامل ہونگے۔ذرائع کے مطابق کیپٹن (ر) صفدر،میاں عباس شریف کی فیملی کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں کی واپسی ہو چکی ہے جبکہ ایلیٹ فورس کے 52 اور پنجاب کانسٹیبلری کے 50 اہلکاروں کو جاتی عمرہ سے ہٹادیا گیا ہے۔ دوسری جانب سابق وزرائے اعظم، وفاقی اور صوبائی وزراء، سیاسی شخصیات کی سکیورٹی کا تعین بھی ہو گیا،سابق وزرائے اعظم کیساتھ ایک گاڑی اور 15اہلکار تعینات ہونگے، سابق وزرائے اعلیٰ کے پاس 1،1گاڑی اور10،10 اہلکار،صوبائی وزراء کیساتھ ایک ایک گاڑی، 10،10اہلکار،تمام ڈی سیز اور ڈی پی اوز کیساتھ ایک گاڑی، 10،10اہلکار،چیف سیکرٹری،آئی جی پنجاب کیساتھ 1،1گاڑی،1،1موٹر سائیکل اور 12، 12 اہلکار تعینات ہونگے، سیشن ججز کیساتھ 1،1گاڑی اور 10،10اہلکار سکیورٹی ڈیوٹی دینگے، انسداد دہشتگردی ججز کیساتھ 1،1گاڑی،10،10 اہلکار ہونگے،ایڈیشنل سیشن جج کیساتھ 1،1گن مین سکیورٹی ڈیوٹی دیگا، اسسٹنٹ کمشنر کیساتھ بھی ایک ایک گن مین سکیورٹی ڈیوٹی دیگا، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کی سکیورٹی کا تعین چیف سکیورٹی آفیسرز کرینگے، جس کے بعدہی انکو سکیورٹی دی جائیگی، دریں اثناء عدالتی حکم پر ڈیرہ اسماعیل خان کے سیاسی،مذہبی قائدین اور سابق پولیس افسران سے سیکورٹی پر مامور پولیس اہلکار واپس لے لئےگئے ہیں جن میں سے اکثر پولیس اہلکاروں نے پولیس لائن میں اپنی حاضری کرنی شروع کر دی ہے۔ چیف جسٹس کے حکم کے بعد خیبرپختونخوا حکومت نے جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے گھراوراسکواڈمیں شامل اہلکاروں کوفوری طور پرواپس بلالیاہے اورانکو فوری طورپراپنے محکمے میں رپورٹ کرنیکاحکم دیدیاہے ۔

SHARE

LEAVE A REPLY