حضرت صدیق ِا کبر۔۔۔ (13)۔۔از۔۔شمس جیلانی

0
141

درست۔ دراصل یہ ہی صدیقیت کا راستہ ہے۔ لفظ ِ “صدیقیت “ پر ہم یہا ں زور اس لیئے دے رہے ہیں کہ ہم روزانہ ایک دعا پا نچوں وقت نما زوں میں بار بارپڑھتے ہیں۔ جس کی ایک آیت ہے کہ “ ان کے راستے پر چلا جن پر تیری نعمتیں نا زل ہوئیں ” اور تمام مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ اس سے مراد نبیوں اور صدیقوں کا راستہ ہے۔ نبیوں کا راستہ کیا تھا ۔ وہ توآپ قر آن اور اس کی تفسیر میں دیکھ لیں۔ جس میں کچھ جلیل القدر نبیوں(ع) کے قصے ہیں۔ جس میں ان کی فطرت اور طریقہ کا ر سامنے آتاہے۔جو ایک توحید تھااور دوسرا تبلیغ ۔تیسرا را ضی بہ رضا یعنی اللہ کے ہر فیصلہ پر راضی رہنا اور صبر اور شکر ۔اور چو تھا ،بلا معا وضہ خدمت ِ دین اور خدمتِ خلق۔لیکن صدیقوں (رض) کے لیئے ان چار صفات کے علاوہ آپ ایک اور کا اضافہ کر لیں۔ تو اس آیت کو سمجھنے میں آسا نی ہو گی کہ۔نبی (ع) کے ہر فعل اور ہر با ت اور ہر حکم پر آمنا اور صدقنا کہنااورعمل کر نا۔ اگر مسلمان اس نکتہ کو سمجھ جا ئیں تو تمام اختلا فات اور فتنے ختم ہو سکتے ہیں۔بس ایک صفت اپنا لیں اور وہ ہے “صدیقیت “ ۔اب ہم پھر حضرت ابو بکر (رض) کی ذات کی طرف آتے ہیں ۔ اس کے بعدپہلاجو غزوہ پیش آیا اور جس میں حضرت ابو بکر (رض) سر گرم ہو ئے وہ تھا ۔
غزوہ خیبر۔ ان کی سرکو بی کا فیصلہ حضور (رض) نے مکہ سے واپس تشریف لانے کے بعد فر ما یا۔ وجہ یہ تھی کہ یہ لوگ ہمیشہ اس معا ہدے کہ با وجود کے وہ حضور (ص) کی مددکر یں گے۔ اور اگر مدینہ پر حملہ ہو ا تو وہ شانہ بہ شا نہ لڑ یں گے۔ وہ ہمیشہ دشمنوں کی مدد کر تے رہے ۔ انہوں نے غزوہ خندق کے مو قعہ پر بھی مدد کی ۔اور اس میں کفار کی اعانت عملی ،ما لی اور لفظی اورہر طرح کی مشامل تھی ۔یعنی انہوں نے اسلام اور ہا دی (ص) اسلام کے خلاف پرو پیگندہ بھی کیا اور ان کو اسلحہ بھی فرا ہم کیا ،پیسہ بھی دیا۔ اور ان کے لیئے جا سوسی بھی کر تے رہے۔ نیز قبا ئل کو بھڑ کا نے میں مدد کی۔اب ان کا یوم ِ احتساب آپہو نچا تھا۔ کیو نکہ کو ئی بھی آستین میں سانپ پا لنا پسند نہیں کر تا ۔وہ یہ کردار سالوں سے انجام دیتے آئے تھے۔انہیں اپنے ان قلعوں پر گھمنڈ تھا جو تعداد میں سات تھے اور یہ پورا علا قہ خیبرکے نام سے مشہور تھا۔ مگر ان میں سب سے مضبو ط قلعہ خیبر ہی تھا ۔جو چٹانوں پر بنا ہو ا تھا۔حضور (ص) نے اسلامی لشکر ترتیب دیا اور خیبر پر حملہ کر دیا۔ یہودیوں کا خیال تھا کہ یہ مفلو ک الحال عرب کیا لڑیں گے؟ چند دن محا صرہ رکھنے کے بعد بھا گ جا ئیں ۔جبکہ ان کے پا س نہ اسلحہ کی کمی تھی نہ خوراک کی ۔لہذا وہ لڑ نے کے بجا ئے قلعہ بند ہو گئے۔ پہلے دن حضور (ص) نے حضرت ابو بکر (رض) کو سپہ سالار بنا کر بھیجا ۔ اور فر مایا کہ ان کے سامنے دو شرا ئط پیش کر نا، پہلی یہ کہ اسلام لے آئیں اور بھائی بن جائیں ۔دوسری یہ کہ جزیہ دینا قبول کریں اور بطور رعیت ر ہیں ۔مگر انہوں نے پیغام سن کر انتہا ئی اہانت آمیز جوا ب دیا ۔حضرت ابوبکر (رض) کا میا ب نہ ہو سکے اور شام ہوگئی اور وہ واپس آگئے ۔اس کے بعد دوسرے دن حضرت عمر (رض) کو سپہ سالار بنا کر حضو ر (ص) نے بھیجا ۔اور وہ بھی شام کو نا کام واپس آئے۔اس پر حضو ر (ص)فر ما یا کہ کل میں ایسے آدمی کو جھنڈا دو نگا ۔جسے اللہ اور اس کے رسول (ص) دوست رکھتے ہیں اور وہ اللہ اور رسول (ص) کو دوست رکھتا ہے ۔اور انشا اللہ اس کے ہاتھ سے یہ قلعہ کل فتح ہو گا ۔لوگ را ت بھر منتظر رہے ،کہ دیکھئے پرچم کس کو ملتا ہے اور وہ کون خوش نصیب ہے ؟ دوسرے دن صبح کو حضو ر (ص) نے حضرت علی کرم اللہ وجہ کوطلب فر ما یا۔ جب کے وہ آشوب چشم میں مبتلا تھے۔ حضو ر (ص) نے اپنا لعا ب ِ دہن ان کی آنکھو ں میں ڈالا ،اور وہ بقول ان کے نہ صرف فورا ً بھلے چنگے ہو گئے۔ بلکہ پھر زند گی بھر ان کی آنکھیں نہیں دکھیں ۔بہر حال وہ دشمن کی طر ف بڑھے اور جس دروازے پر یہودیوں کو ناز تھا۔ اسکو انہوں نے اکیلے ہی اکھا ڑپھینکا۔ اب ان کے پا س چارہ نہ تھا ۔کہ وہ اپنے دفا ع کے لئے لڑیں، وہ لڑے اور شکست کھا ئی ۔ ان کے سب سردار لڑتے ہو ئے مارے گئے۔ اس کے بعد انہو ں اپنے اس شر ط پر ہتھیا ر ڈالد یئے کہ وہ بدستور اپنی املا ک پر قا بض رہیں گے۔ اور وہ پیدا وار میں سے نصف دیا کر یں گے۔لیکن ابھی بھی وہ اپنی جبلی خبا ثت سے بعض نہ آئے ،جو ان کی گھٹی میں پڑی ہو ئی تھی۔ انہوں نے پھر ایک سازش ایک عورت کے ذریعہ کی۔ اس نے حضور (ص) اور انکے قریبی ساتھیوں کی دعوت کی، اس کا نام زینب بنتِ حرث تھا ۔ اس نے ایک بھنی بکری پیش کی جو زہریلی تھی۔ اس مرتبہ پچھلے تجربہ کی بنا پر حضرت ابو بکر (رض) حفا ظت کے خیال سے حضور (ص) کے پیچھے تشریف فر ما تھے ۔لہذا سب سے پہلے حضور (ص) نے اس میں سے ایک پا رچہ لیا۔ اور چبا کر بغیر نگلے تھوک دیا کہ یہ زہریلا ہے۔ ان کے برابر میں حضرت بشر (رض) بن بّر ا تھے انہوں نے وہ گوشت اچھی طرح کھا لیااور شہید ہو گئے ۔ اس عورت نے سازش قبو ل کی، اس کا تقا ضہ تو یہ تھا کہ اسی وقت مع سازشیوں کے سب کو تے تیغ کر دیا جا تا! مگر یہا ں پھر رحمت جو ش میں آئی اور اس اقرار کے ساتھ کہ میں نے یہ سو چا تھا کہ آپ اگر واقعی نبی(ص) ہیں، تو آپکو پتہ چل جا ئے گا ۔ اور نہیں ہیں، تو سب کی آپ سے جا ن چھٹ جا ئے گی ۔چو نکہ آپ (ص) نے جان لیا کہ یہ زہریلا ہے لہذا میں مسلمان ہو تی ہو ں ۔حضور (ص) نے معاف کر دیا۔مگر ایک مورخ نے لکھا کہ اس کا سر قلم کر دیا گیا ۔واللہ عالم۔
حضرت ابو بکر (رض)صدیق بنی فرازہ کی مہم پر۔۔۔غزوہ خیبر سے واپسی کے بعد حضو ر (ص)نے حضرت ابو بکر(رض) کو بنی فرا زہ کی مہم پر روانہ فر ما یا ۔مگر کو ئی خا ص مارکہ نہیں ہوا اور انہوں نے لڑ نے کے مقابلہ میں فرار کو ترجیح دی اور وہ بھاگ کر پہاڑوں میں چھپ گئے۔ لیکن حضرت ابو بکر (رض) نے ان کا پیچھا نہیں چھو ڑا اور تعقب کر تے ہو ئے وہا ں پہنچ گئے ۔اور انہوں نے تھک ہا ر کر ہتھیا ر ڈالد یئے۔
عمرة القضا ء۔ اس کے بعد حضور (ص) نے صلح حدیبہ کے شرا ئط کے تحت عمرہ کرنے کا فیصلہ فر ما یا ۔ تا ریخ میں اس کو عمرے قضا ءکانام دیا گیا ہے ۔اس میں بھی حضرت ابو بکر (رض) بھی شامل تھے ۔حضور (ص)نے تقریبا ً دو ہزار افرا داپنے ہمرا ہ لیئے۔ اورمکہ معظمہ روانہ ہو ئے۔لیکن اس مر تبہ کفار قریش نے کو ئی مزاحمت نہیں کی۔اور حسب معا ہدہ انہوں نے مکہ خالی کر دیا اور وہ لو گ پہا ڑوں پر چڑھ گئے ۔ اس میں ان کی مصلحت یہ تھی ۔ کہ وہ نہیں چاہتے تھے وہ لو گ مسلما نوں کے ساتھ خلط ملط ہو ں! کیو نکہ ان کو ڈر تھا کہ ان کی خواتین اور نئی نسل بگڑ نہ جا ئے ۔چو نکہ سات سال کے بعد مسلمان مکہ معظمہ میں داخل ہو ئے تھے تو بہت سے رقت انگیز منظر دیکھنے میں آئے حضرت ابو بکر (رض) شہر میں گئے ۔ اور اپنے دوستوں اور اقربا سے ملے ۔جن میں ان کے والد بھی شامل تھے۔ جو کہ ابھی ایمان نہیں لا ئے تھے ۔اسی دو ران حضرت میمو نہ (رض) نے اسلام قبول کر لیا۔ چو نکہ وہ حضرت عبا س (رض)کی سالی تھیں ۔اس کے بعدانہوں نے خود کو نبی (ص) کی زو جیت میں دینے کی خوا ہش ظاہر کی، جس کو حضور (ص)نے قبو ل فر مالیا ۔اور نکا ح ہو گیا ۔ حضور (ص) نے ولیمہ دینا چا ہا مگر کفار نے دعوت کو یہ کہہ کر رد کر دیا ،کہ ہم آپکا (ص) ولیمہ نہیں کھا نا نہیں چا ہتے ۔اور آپ (ص) فو را ً مکہ سے چلے جا ئیں ۔ لہذاان لو گوں نے جن کے مکانوں اور جا ئیدادوں پر ان کی عدم موجودگی میں قبضہ کرلیا تھا۔ جن میں ابو سفیان بھی شامل تھا کہ اس نے حضور (ص) کے مکان پر قبضہ کیا ہوا تھا۔ مشورہ دیا کہ مکہ خالی ہے۔ اس پر قبضہ کر نے کا بہترین مو قعہ ہے ،چو نکہ یہ نبی (ص) کے شان خلا ف تھا کہ جو دوسروں کو ایفا ئے عہد کی تلقین کر ےاور خو د وعدہ خلافی کریں ۔لہذا حضور(ص) اوران کے ساتھیوں نے مکہ خالی کر دیا اور مکہ سے با ہر جا کر ولیمہ دیا ۔ ( باقی آئندہ)

SHARE

LEAVE A REPLY