ہے دن کے چہرے پہ خوں اور رات سکتے میں
ہے کربلا کی زمیں پر نجات سکتے میں
جو کٹ کے بازوئے عباس ریت پر تھے گرے
لرز کے رہ گئی جیسے فرات سکتے میں
سر حسین جو سجدے میں شمر نے کاٹا
زمین زلزلے میں تھی صلٰوت سکتے میں
گلوئے اصغر بے شیر پر تھا تیر کا وار
بس ایک بار تو تھے شش جہات سکتے میں
زمیں پہ بکھرے پڑے تھے جو بے کفن لاشے
دکھائی دیتے تھے سب ممکنات سکتے میں
سناں کی نوک پہ قرآن پڑھ رہا تھا حسین
خدا گواہ تھی سب کائنات سکتے میں
حسین بیٹے کے سینے سے کھینچتے ہیں سناں
ہے موت سکتے میں صفدر حیات سکتے میں













