حسین بیٹے کے سینے سے کھینچتے ہیں سناں۔ صفدر ھمٰدانی

0
1569

ہے دن کے چہرے پہ خوں اور رات سکتے میں
ہے کربلا کی زمیں پر نجات سکتے میں

جو کٹ کے بازوئے عباس ریت پر تھے گرے
لرز کے رہ گئی جیسے فرات سکتے میں

سر حسین جو سجدے میں شمر نے کاٹا
زمین زلزلے میں تھی صلٰوت سکتے میں

گلوئے اصغر بے شیر پر تھا تیر کا وار
بس ایک بار تو تھے شش جہات سکتے میں

زمیں پہ بکھرے پڑے تھے جو بے کفن لاشے
دکھائی دیتے تھے سب ممکنات سکتے میں

سناں کی نوک پہ قرآن پڑھ رہا تھا حسین
خدا گواہ تھی سب کائنات سکتے میں

حسین بیٹے کے سینے سے کھینچتے ہیں سناں
ہے موت سکتے میں صفدر حیات سکتے میں

SHARE

LEAVE A REPLY