اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی وزیر خارجہ اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف کو قومی اسمبلی کی رکینت سے نااہل قرار دے دیا۔
جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین رکنی لارجر بینچ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عثمان ڈار کی درخواست پر فریقین کے دلائل سننے کے بعد 10 اپریل کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
پی ٹی آئی رہنما عثمان ڈار — فوٹو، ڈان نیوز
سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے رہنما عثمان ڈار عدالت میں پیش ہوئے جبکہ ان کے ہمراہ دیگر مقامی رہنما بھی موجود تھے۔
عدالتی فیصلہ سامنے آنے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما عثمان ڈار کا کہنا تھا کہ وہ پورے پاکستان اور اپنے شہر سیالکوٹ کے عوام کے سامنے سرخ رو ہوئے ہیں۔
عثمان ڈار نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں سیالکوٹ کے عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کیونکہ انہیں 32 سال بعد خواجہ آصف سے نجات ملی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’میں ان تمام افراد کا شکر ادا کرتا ہوں جنہوں نے مجھے جذبہ دیا اور آج کی کامیابی کا سارا سہرا عمران خان کو جاتا ہے کیونکہ اگر وہ ساتھ نہیں ہوتے تو میں اس کیس کو منطقی انجام تک نہیں پہنچا پاتا‘۔
امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ خواجہ آصف اپنے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔
تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار کی جانب سے 11 اگست 2017 کو خواجہ آصف کو آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت نااہل قرار دینے کے لیے دائر کی گئی درخواست دائر کی گئی تھی۔
پی ٹی آئی رہنما کی درخواست میں الزام عائد گیا تھا کہ وفاقی وزیر خارجہ نے متحدہ عرب امارات کی کمپنی میں ملازمت کے معاہدے اور اس سے حاصل ہونے والی تنخواہ کی تفصیلات 2013 کے انتخابات سے قبل ظاہر نہیں کیں اس لیے وہ قومی اسمبلی کی رکنیت کے مستحق نہیں۔
درخواست گزار کا موقف تھا کہ خواجہ آصف نے اپنے نامزدگی فارم میں اپنے تمام اثاثے ظاہر نہیں کیے اور غلط بیانی کی، خواجہ آصف صادق اور امین نہیں رہے اس لیے انہیں نااہل قرار دیا جائے۔
پی ٹی آئی رہنما عثمان ڈار کی درخواست پر پہلے جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی، تاہم بعد میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی طرف سے معذرت کے بعد نیا بینچ تشکیل دیا گیا۔
جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں نئے بینچ نے روزانہ کی بنیاد پر کیس کی سماعت کرتے ہوئے دلائل مکمل ہونے اور دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔
عدالت نے فریقین کو حکم دیا کہ مزید کوئی دستاویز پیش کرنی ہے تو تحریری درخواست کے ساتھ جمع کرائی جاسکتی ہے، جس کے بعد خواجہ آصف نے دبئی کی کمپنی کا خط پیش کیا۔
خط میں خواجہ آصف کی ملازمت کی تصدیق کی گئی اور بتایا گیا کہ کمپنی کی طرف سے ان پر دبئی میں موجودگی کی شرط عائد نہیں کی گئی، جب بھی ضرورت ہو تو فون پر خواجہ آصف سے قانونی رائے حاصل کر لی جاتی ہے۔
یاد رہے کہ 2013 کے انتخابات میں سیالکوٹ کے حلقہ این اے 110 میں عثمان ڈار کو خواجہ آصف کے مقابلے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم انہوں نے اپنی پٹیشن میں سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف سپریم کورٹ کا 28 جولائی والا فیصلہ نقل کیا جس میں انہیں اقامہ رکھنے پر نااہل قرار دیا گیا تھا۔













