لاہور کی عدالت نے عالمی چائلڈ پورنوگرافی ریکٹ کا حصہ ہونے کا جرم ثابت ہونے پر سرگودھا کے شخص کو 7 سال قید اور 12 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔

مجرم سعادت امین کو سائبر کرائم کیسز کے خصوصی جج محمد عامر رضا بیتو نے سزا سنائی۔

سعادت امین کے خلاف گزشتہ سال 11 اپریل کو ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے خالد انیس کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا تھا اور ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل لاہور کے ایڈووکیٹ مونَم بشیر کیس کے پراسیکیوٹر تھے۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد آصف اقبال کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ سعادت امین سویڈن، اٹلی، امریکا اور برطانیہ میں پھیلے چائلڈ پورنوگرافی ریکٹ کا حصہ تھا۔

مجرم کے قبضے سے ساڑھے 6 لاکھ سے زائد تصاویر اور ویڈیوز بھی برآمد ہوئی تھیں۔

یاد رہے کہ ایف آئی اے میں قابل اعتراض مواد کی انٹرنیٹ پر ترسیل و فروخت کی روک تھام کے لیے باقاعدہ کوئی ٹیم موجود نہیں اور ایف آئی اے محض عوامی شکایت یا اطلاع پر مشتبہ افراد کے خلاف حرکت میں آتا ہیں۔

رواں سال فروری میں ایف آئی اے نے بچوں کی قابل اعتراض ویڈیو بنانے اور فروخت کی روک تھام کے لیے ‘سائبر پٹرول ونگ یا سائبر نگرانی ونگ’ بنانے کی تجویز پیش کی تھی۔

SHARE

LEAVE A REPLY