اظہر اُمید پے تو، چلتی یہ دُنیا ساری

0
160

میری زندگی سے، وقت نکل گیا ہے
بد بخت رہ گیا ہے، بخت نکل گیا ہے

کیسے چلوں گا اس قافلہ زیست میں
سفر توہے جاری مگر، رَخت نکل گیا ہے

بدلتی ہے دُنیا، رنگ کیسے کیسے
بادشاہ رہ گیا ہے، تخت نکل گیا ہے

پرندے اب آشیانہ، کہاں جا بنائیں
پتھر رہ گئے ہیں، درخت نکل گیا ہے

اظہر اُمید پے تو، چلتی یہ دُنیا ساری
نرم آ گیا تو، سخت نکل گیا ہے

اظہر ہاشمی

SHARE

LEAVE A REPLY