نوا زشریف نے پبلک عہدہ رکھتے ہوئے لندن میں بے نامی جائیداد بنائی، تفتیشی افسر

0
54

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سابق وزیر اعظم نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن صفدرکیخلاف ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس کی سماعت کے دوران نیب کے تفتیشی افسرکا بیان مکمل ہونے پر سماعت آج جمعرات صبح ساڑھےنو بجےتک ملتوی کر دی ہے، تفتیشی افسر عمران ڈوگر نے عدالت کو بتایا کہ تحقیقات سے ثابت ہوتا ہےکہ نواز شریف پبلک عہدہ رکھتےہوئے لندن فلیٹس کے مالک تھے اور انہوں نے نیلسن اور نیسکول لمیٹڈ کے ذریعے بے نامی دار کےنام پر فلیٹس خریدے،مریم نوازکی ٹرسٹ ڈیڈ جعلی ہے،جبکہ نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے تفتیشی افسر کے بیان پر جرح کا آغاز کر دیا جو آج بھی جاری رہیگی۔ کیپٹن صفدر ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کے دوران عدالت کے روبرو پیش ہوئے تاہم موسم کی خرابی کے باعث نواز شریف، مریم نواز اور ان کے وکیل امجد پرویز اسلام آباد نہ پہنچ سکے۔ سماعت کے آغاز پرامجدپرویزکی عدم موجودگی میںان کے ایسوسی ایٹ نسیم ثقلین عدالت میں پیش ہوئےاور مریم نواز کی جانب سے پاور آف اٹارنی جمع

کرایا نیب کے گواہ عمران ڈوگر نے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے بتایاکہ جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء، ایس ای سی پی کی سدرہ منصور،نیب کے ایڈیشنل ڈائریکٹر شکیل انجم ناگرا،ایڈووکیٹ مظہررضا بنگش اور کلرک محمد رشیدنےمجھے کیس سے دستاویزات پیش کیں ۔سیدمبشر، توقیر شاہ اور وقاص احمد نے نواز شریف ،حسن ، حسین اور مریم نواز کے ٹی وی انٹرویوز کی ریکارڈنگ اور ٹرانسکرپٹ پیش کیا۔عمران ڈوگر نے بتایا کہ ملزمان کو دو بار طلبی کے سمن جاری کیے گئے تاہم وہ ذاتی طور پر شامل تفتیشی نہیں ہوئے۔تفتیشی افسر نے بتایا کہ انہوں نے نیب افسر سلطان نذیر کے ساتھ برطانیہ جاکر رابرٹ ریڈلے اور اختر ریاض راجہ کا بیان قلمبند کیا،نیب نے جے آئی ٹی کی طرف سے لکھے گئے ایم ایل ایز کی پیروی کی۔تفتیشی افسر نے بتایا کہ انہوں نےاپنی تحقیقات کا انحصار شریف خاندان کے اثاثوں کی تقسیم سے متعلق دستاویزات ، جے آئی ٹی کی جانب سے نواز شریف کےاثاثوں اور قابل ادائیگی رقوم سے متعلق تیار کیے گئے فلو چارٹ،جے آئی ٹی رپورٹ کے والیم نمبر تین کے صفحہ نمبر ایک سے چالیس،والیم نمبر چار کے صفحہ نمبر ایک سے چھتیس اور والیم نمبر پانچ کے صفحہ نمبر ایک سے چونتیس میں موجود مواد پرکیا۔ عمران ڈوگر نے بتایا کہ تحقیقات سے ثابت ہوتا ہے کہ نواز شریف پبلک آفس ہولڈ کرتے ہوئے لندن فلیٹس کے مالک تھے، انہوں نے نیلسن اور نیسکول لمیٹڈ کے ذریعے بے نامی دار کینام پر فلیٹس خریدے۔ ملزمان لندن جائیداد کی خریداری کے ذرائع بتانے میں ناکام رہے، لندن فلیٹس 1993 سے نواز شریف اور دیگر نامزد ملزمان کے زیر استعمال ہیں۔عمران ڈوگر نے بتایا کہ موسیٰ غنی اور طارق شفیع کو 16 اگست 2017 جبکہ نوازشریف، مریم نواز اور دیگر ملزمان کو 18 اگست 2017 کوطلبی کے سمن جاری کیے، جبکہ سمن کے ساتھ بھیجے گئے نوٹس میں لکھا گیا کہ نہ آنے پر تصور کیا جائیگا کہ ملزمان کے پاس دفاع کیلئے کچھ نہیں۔ نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے گواہ کے سمن کے متن کا حوالہ دینے پر اعتراض کیاجس پرنیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ وکیل صفائی کو ضرورت ہے تو سمن کی کاپی بھی دے دیتے ہیں۔تفتیشی افسر نےبتایا کہ مریم نوازنے جن ٹرسٹ ڈیڈز کو اصل کہہ کرجے آئی ٹی میں جمع کرایا وہ جعلی ثابت ہوئی ہیں۔مریم نواز ، حسین نواز اور حسن نوازبے نامی دار ہوتے ہوئے جرم کے ارتکاب میں نوازشریف کے مدد گاررہے، تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزمان کرپشن اورکرپٹ پریکٹسز میں ملوث پائے گئےہیںاورکرپشن اور کرپٹ پریکٹسز نیب آرڈیننس 1999 کے تحت قابل گرفت جرم ہے۔ تفتیشی افسر نے بتایا کہ جے آئی ٹی نے مریم نواز کی طرف سے جمع کرائی گئی جن ٹرسٹ ڈیڈ کوجعلی قرار دیاوہ نیلسن، نیسکول اور کوبر سے متعلق تھی۔ اس موقع پر وکیل صفائی نے کہا کہ گواہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے والی دستاویزات سے متعلق گواہی نہیں دے سکتا، جے آئی ٹی نے آئی ٹی ایکسپرٹ رابرٹ ریڈلے رپورٹ کی روشنی میں رائے قائم کی۔تفتیشی افسر نے کہا کہ حسن، حسین، مریم نواز اور کیپٹن صفدر نے نواز شریف کی کرپشن میں معاونت کی، ملزمان کرپشن میں معاونت کرنے پرنیب قوانین کے تحت سزا کے حقدار ہیں۔نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے تفتیشی افسرکے بیان کا جرح کا آغاز کیا، گواہ نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدر آمد کیلئے تحقیقات ضروری تھیں اس لیے چیئرمین نیب نے ڈی جی نیب لاہور کو تفتیشی افسر کی تعیناتی کا اختیار دیاہے۔جرح کے دوران تفتیشی افسر نےعدالت کو کمر میں درد سے آگاہ کیا جس پر فاضل جج نے سماعت آج جمعرات کی صبح ساڑھے نو بجے تک ملتوی کردی ۔

SHARE

LEAVE A REPLY