پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی (سی ای سی) کے اجلاس میں قومی احتساب بیورو(نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کے بیان کو ‘انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور مکمل جھوٹ پر مبنی میڈیا رپورٹ کا حامل ‘ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی گئی۔
اسلام آباد میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت مسلم لیگ (ن) کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا جس میں پارٹی صدر شہباز شریف اور چیئرمین راجا ظفرالحق سمیت دیگر مرکزی رہنماوں نے شرکت کی۔
مسلم لیگ (ن) کی سی ای سی کے اجلاس میں کہا گیا کہ چیئرمین نیب نے جس رپورٹ کو بنیاد بنایا ہے اس میں حقیقت کو بھی ٹھکرا دیا گیا ہے کیونکہ اس کی تردید خود ورلڈ بینک اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے بھی جاری کر دی گئی ہے جبکہ رپورٹ کے مطابق اس میں نہ منی لانڈرنگ کا کوئی ذکر ہے اور نہ ہی کسی شخصیت کو اس میں ملوث قرار پایا گیا ہے۔
اجلاس میں متفقہ طور پر قرار پایا کہ اس جھوٹ کے ہر ذمہ دار کو نہ صرف بے نقاب کیا جائے گا بلکہ پاکستانی قوانین میں موجود ہر قانون کے ذریعے انھیں قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے تمام اقدامات اختیار کیے جائیں گے۔
حکمراں جماعت کے اجلاس میں شامل شرکا نے یہ بھی عہد کیا کہ اپنے قائد محمد نواز شریف کے خلاف ہر سازش اورہتھکنڈے کو ناکام بنانے کے لیے آئینی، قانونی اور جمہوری جدوجہد کو اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک عظیم تر عوامی قوت کے ذریعے ہم دروغ گوئی کے تمام داغ دھو نہیں ڈالتے۔
اجلاس نے پارٹی کے تاحیات قائد کے اس مطالبے کی تائید کی کہ چیئرمین نیب فی الفور اپنے الزامات کے ثبوت پیش کریں یا پھر استعفیٰ دے کر گھر چلے جائیں۔
مسلم لیگ (ن) کے اجلاس میں وزیر داخلہ احسن اقبال پر فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت اور ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی گئی۔













