اسلام آباد ہائی کورٹ نے ممبئی حملوں پر نواز شریف کے کیخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست قابل سماعت قرار دیدی ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے ڈی جی ایف آئی اے، چیئرمین پیمرا اور چیئرمین پی ٹی اے سے جواب طلب کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس سلسلے میں سابق وزیرِاعظم نواز شریف کو نوٹس جاری نہیں کیا، جسٹس عامر فاروق نے محفوظ شدہ فیصلہ سنایا۔ درخواست گزار کی جانب سے بابر اعوان نے دلائل دیئے تھے۔

خیال رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ممبئی حملے سے متعلق بیان پر نواز شریف کیخلاف کارروائی اور اندراج مقدمہ کی درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

جسٹس عامر فاروق نے عدالتِ عالیہ میں دو مقامی وکلاء کی جانب سے دائر درخواست پر ابتدائی سماعت کی۔ درخواست گزاروں کی جانب سے بابر اعوان ایڈووکیٹ نے دلائل میں موقف اپنایا کہ نواز شریف نے 3 مئی کو احتساب عدالت پیشی کے موقع پر قومی راز افشا کرنے کی دھمکی دی۔ پاناما کیس میں وزارتِ عظمی سے ہٹائے جانے کے بعد نواز شریف تمام ریاستی اداروں سے نالاں ہیں، اس لیے ڈان لیکس سکینڈل میں ملکی سیکیورٹی اداروں پر الزام لگانے والے صحافی سرل المیڈا کو انٹرویو دیا جو 12 مئی کو شائع ہوا۔ دشمن ملک بھارت نے اس بیان کو دہشتگردی میں ملوث ہونے کے اعتراف کے طور پر لیا۔ ڈی جی ایف آئی اے کو نواز شریف کیخلاف قانونی کارروائی اور مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے۔

درخواست گزاروں نے استدعا کی تھی کہ چیئرمین پیمرا کو نواز شریف کی ریاست مخالف تقاریر پر پابندی جبکہ چیئرمین پی ٹی اے کو سوشل میڈیا سے ریاست اور قومی اداروں کیخلاف مواد حذف کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔

عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ درخواست میں ڈی جی ایف آئی اے، نواز شریف، چیئرمین پیمرا اور چیئرمین پی ٹی اے کو فریق بنایا گیا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY