اسرائیلی فورسز کی جانب سے فلسطینیوں پر مظالم کا سلسلہ منگل کے روز بھی جاری رہا، اسرائیلی فائرنگ سے مزید دو فلسطینی جاں بحق ہوگئے جس کے بعد جاں بحق فلسطینیوں کی تعداد 62 ہوگئی ہے۔

ادھر سلامتی کونسل میں غزہ کی صورت حال پر ہنگامی اجلاس ہوا،امریکی سفیر اسرائیل کی حمایت میں بولیں اور فلسطینی سفیر کی باری آتے ہی اجلاس چھوڑ کر چلی گئیں۔ فلسطین نے کہا کہ اسرائیل جنگی جرائم کامرتکب ہو رہا ہے، برطانوی وزیراعظم کہتی ہیں کہ غزہ میں جوہوا بہت ہی افسوس ناک ہے، اس کی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہیئے۔

ترک صدر کا کہنا ہے کہ عالمی برادری اسرائیل کو جارحیت سےروکے، فرانس نے بھی اسرائیل اور امریکا کی مذمت کی۔

فلسطین نے امریکا سے سفیر واپس بلوا لیا،بیلجیئم نے اسرائیلی سفیر کو طلب کر کے وضا حت مانگ لی، ترکی اور اسرائیل نے مزید سفارت کار نکال دیے۔

ترک حکومت نے سفیر کے بعد قونصل جنرل کو بھی ترکی چھوڑنے کا حکم دے دیا جبکہ اسرائیل نے بھی ترک قونصل جنرل کو چلے جانے کا حکم دیا ہے۔

غزہ پٹی کے وسطی علاقے میں سیکڑوں فلسطینی اسرائیلی فورسز کی بربریت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کر رہے تھے کہ اسرائیلی فوج نے ایک بار پھر فائرنگ کردی، فائرنگ کے نتیجے میں مزید دو افراد شہید ہوگئے۔

غزہ کی صورت حال پر سلامتی کونسل ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، امریکی مندوب نکی ہیلی نے کہا کہ امریکی سفارت خانے کی منتقلی سے امن مذاکرات کو کسی طرح نقصان نہیں پہنچتا۔

اجلاس میں جب فلسطینی مندوب نے تقریر شروع کی تو نکی ہیلی اجلاس چھوڑ کر چلی گئیں، فلسطینی سفیر نے اپنی تقریر میں کہا کہ اسرائیل خطے میں جنگی جرائم کا مرتکب ہورہا ہے۔

مصر نے غزہ میں انسانی بنیادوں پر امدادی سامان پہنچانے کے بعد اسرائیلی فائرنگ سے زخمی ہونے والے فلسطینیوں کا علاج کرنے کی پیشکش کردی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY